’ ثابت ہو گیا سلیکٹڈ حکومت پارلیمنٹ کو کتنی عزت دیتی ہے؟صدارتی آرڈیننس جاری کرکے سپریم کورٹ کو ڈکٹیشن دینے کی کوشش کی گئی ‘

’ ثابت ہو گیا سلیکٹڈ حکومت پارلیمنٹ کو کتنی عزت دیتی ہے؟صدارتی آرڈیننس جاری ...
’ ثابت ہو گیا سلیکٹڈ حکومت پارلیمنٹ کو کتنی عزت دیتی ہے؟صدارتی آرڈیننس جاری کرکے سپریم کورٹ کو ڈکٹیشن دینے کی کوشش کی گئی ‘

  

حیدرآباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پیپلزپارٹی کی مرکزی  رہنما اور رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہاہے کہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہونے کے باوجود سینیٹ انتخابات اوپن آف ہینڈ کے ذریعے کرانے کا صدارتی آرڈیننس جاری کرکے سپریم کورٹ کو ڈکٹیشن دینے کی کوشش کی گئی ہے، اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت پارلیمنٹ کو کتنی عزت دیتی ہے؟ پوری قوم بدترین مہنگائی سے پریشان ہے اور سلیکٹڈ وزیراعظم اور اس کی حکومت سے جلد چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شازیہ عطاء مری کا کہنا تھا کہ  صدارتی رڈنینس کے ذریعے طریقہ انتخاب میں تبدیلی  آئین کے آرٹیکل226کی صریح خلاف ورزی ہے ، اعلیٰ عدلیہ میں اس حوالے سے پٹیشن زیر سماعت ہے، صدارتی آرڈنینس عدلیہ کے فیصلے پر اثر انداز ہوا ہونے کے مترادف ہے ،قومی اسمبلی کے جاری اجلاس کے خاتمے پر آرڈیننس کا اجراء پارلیمنٹ کی بالادستی کو ختم کرنا ہے، ہم اداروں کی خود مختاری پر یقین رکھتے ہیں، ان اداروں کی خود مختاری صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان ترقیاتی فنڈز کو رشوت قرار دیتے تھے اور اب سینٹ کے انتخابات کے موقع پر اپنے ارکان اسمبلی کو پچاس ، پچاس کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز دیئے ہیں، اوپن بیلٹ کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کا نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں، ارکان کے ضمیر خریدے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے خود اعتراف کیا کہ ہمارے پاس اکثریت نہیں ہے، عجلت میں قومی اسمبلی سے بل پاس کرایا گیا، حکومت صرف ٹوپی ڈرامہ کررہی ہے حکومت میں شامل تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی شرم کی وجہ سے اپنے حلقوں میں نہیں جارہے۔

شازیہ مری نے کہاکہ عمران خان نے دعوی کیا تھا کہ آئی ایف ایم کے پاس جانے سے بہتر ہے میں خود کشی کرلوں گا لیکن آئی ایم ایف سے عمران حکومت سابقہ حکومتوں سے زیادہ قرض لیا، فارن فنڈنگ گیس کا سات سال سے فیصلہ نہیں ہونے دیاجارہا، عمران خان کہتا ہے کہ اس کیس کی سماعت اوپن کی جائے جبکہ حکومتی وکلاء الیکشن کمیشن کو خط کے ذریعے کہتے ہیں کہ وزیر اعظم ک بات کو نظر انداز کرکے سماعت بند کمرے میں کی جائے، یہ ان کا  دو غلا پن ہے،اِنہوں نے اداروں کو تباہ کردیا ہے، پی آئی اے کے سی او کی تنخواہ 8لاکھ سے ایک دم18 لاکھ روپے ماہانہ مقرر کی ہے، اپنوں کو  نوازنے کی انتہاء ہے، ان کے کتے سرکاری پروٹو کول میں گاڑیوں میں گھومتے ہیں اور عوام دووقت کی روٹی کو محتاج ہے،وفاقی حکومت18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر شب خون مارنا چاہتی ہے، ہم ان کو ایسا ہر گز نہیں کرنے دیں گے ،حکومتی وزراء بوکھلاہٹ میں محض بیان بازی کررہے ہیں۔

مزید :

علاقائی -سندھ -حیدرآباد -