تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ میں صدر مملکت کا خطاب 

تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ میں صدر مملکت کا خطاب 
تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ میں صدر مملکت کا خطاب 

  

ایوان کارکنان تحریک پاکستان اور تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ سے میرا تعلق دو دہائیوں سے زائد پر محیط ہے جو میرے مرحوم دوست اور ممتاز صحافی حسنین جاوید کے ذریعے قائم ہوا۔صحافت سے میرا تعلق طالب علمی کے زمانے سے ہے جو میری دیگر مصروفیات کے سبب کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوتا رہا۔ لیکن بہر حال کسی نہ کسی طور میں نے خود کو اس شعبے سے بھی منسلک رکھا اور اب قدرے زیادہ یکسوئی  سے اس طرف مائل ہو رہا ہوں۔جناب مجید نظامی کی قیادت میں اس ادارے نے نظریہٓ پاکستان کی حفاظت  اور نئی نسل کو اس سے روشناس کروانے کے محاذ پر گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔میں ہمیشہ ان کے جرآت مندانہ موقف اور  دوٹوک بات کرنے کا مداح رہا ہوں۔ ان کے ماتھے پر نہ کبھی کسی خوف کی شکن محسوس کی اور نہ ہی  اپنی بات کرتے ہوئے کسی مصلحت کیشی  کا شکار ہوتے ہوئے دیکھا۔ان دو دہائیوں کے دوران یہاں آنے والے  سربراہان مملکت  کے سامنے بھی انہیں ڈٹ کر  پاکستان اور نظریہٓ پاکستان  کے تحفظ کی بات کرتے ہوئے اپنے کانوں سے سنا اور ان کے لہجے  اور چہرے کے طمطراق کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔اسی ادارے سے ایوان قائد اعظمٓ کو تعمیر کرنے کی صدا اٹھی اور اسے بھی بہت کم عرصے میں  شرمندہٓ تعبیر ہوتے ہوئے دیکھا۔نعت کے حوالے سے یہاں ہونیو الی اہم تقریبات کا  حصہ بننا ہمیشہ  باعث افتخار رہا ہے۔

تحریک پاکستان کے لئے نمایاں خدمات دینے والے بزرگوں کو سراہنا اور انہیں اعتراف خدمت کے طور پر گولڈ میڈل عطا کرنے کی باوقار تقریب منعقد کرنا بھی اس ادارے کی خوبصورت روایت ہے جس کے سلسلے کی یہ اٹھائیسویں تقریب تھی جس میں صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی مہمان خصوصی تھے۔جتنے سربراہان مملکت کی تقاریر یہاں سنی ہیں بلا شبہ آج کی گفتگو ان سب سے جداگانہ اور ہر حوالے سے قابل ستائش تھی۔ماضی کے احوال سے موجودہ حالات کا تقابل اور مستقبل کی منصوبہ بندی تک کا ایک پورا خاکہ اس میں جھلک رہا تھا۔صدر مملکت نے کھل کر اس بات کا اظہار کیا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ بلند تر انسانی اقدار مغرب کی تعلیم یافتہ اقوام کے ذریعے آئیں گی تو یہ آپ کی سراسر بھول ہے۔انسانیت کو جتنے ظلم اور بربریت سے ان تعلیم یافتہ قوموں  نے پچھلی دہائیوں میں چھید لگائے ہیں اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔جنگوں میں بربریت، قیدیوں سے غیر انسانی سلوک، عورتوں اور بچوں کی خرید و فروخت اور ہر طرح کے قانون سے بالا تر اذیتوں کی ایسی ایسی داستانیں ہیں کہ سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔یورپ آج بھی اپنے ملکوں میں داخل ہونے والوں کو  روکنے کے لئے خطیر رقم خرچ کرتا ہے اور ایک آپ کا خطہ ہے جس نے چالیس لاکھ افغان مہاجرین کو نہ صرف سنبھالا بلکہ انہیں معاشرتی اور معاشی طور پر مستحکم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا جس کی کوئی مثال دنیا میں موجود نہیں۔اب قومیں اپنے تعلقات کو انسانی اقدار اور مذہبی روایات پر نہیں بلکہ معاشتی استحکام کی نظر سے دیکھ رہی ہیں جس کا ثبوت کشمیر  میں ہونے والے مظالم ہیں  جن پر دنیانے بھارت کو  ایک بڑی عالمی منڈی سمجھتے ہوئے چشم پوشی سے کام لے رکھا ہے۔

اب ایک نیا نظریہ جنم لے رہا ہے جس میں امن قائم کرنے کی نہیں بلکہ مظالم کم کرنے کی بات ہو رہی ہے جو بہت مضحکہ خیز ہے۔اسلامی تاریخ سے  حضرت عمرٓ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک عام  آدمی نے خلیفہٓ وقت سے سوال کر دیا تھا کہ آپ کے پاس یہ دو چادریں کہاں سے آئیں اور انہیں اس کا جواب دینا پڑا جبکہ ہمارے ہاں  انصاف قانونی پیچیدگیوں میں ہی اتنا تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے کہ تب تک یا تو گواہان زندہ نہیں رہتے یا ثبوت ختم کر دئیے جاتے ہیں۔تحریک پاکستان کے سرکردہ رہنماؤں نے حالات اور تقاضوں کو سمجھتے ہوئے مسلمانان ہند کی تربیت کا بیڑا اٹھایا۔کبھی سر سید نے  جدید علوم کے میدان میں آگے بڑھنے کی  تگ و دو کی اور کبھی حضرت اقبالٓ نے انگریزی زبان میں خطبات اور لیکچر دے کر اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ہمیں اپنی بات دور تک پہنچانے کے لئے ان کی زبان کو اختیار کرنا چاہئے۔امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک نے روس پر یہ الزام لگایا کہ اس نے ہماری نسل کے نوجوانوں کے ذہنوں کو بدلنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا جسے سائبر وار کہتے ہیں اور یہی جنگ اس خطے کے نوجوان ذہنوں کو بدلنے کے لئے بھی زور و شورسے جاری و ساری ہے کیونکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ اس سر زمین میں وہ جینز موجود ہیں جو انسانی اقدار کو درست سمت میں موڑنے  کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔صدر پاکستان کی بغیر دیکھے کی گئی گفتگو حقیقی معنوں میں مغرب کے پراپیگنڈے اور ارض وطن کے مسائل کا پورا منظر نامہ اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھی۔گولڈ میڈل کے لئے نامزد ہونے والوں کی اکثریت حیات نہیں تھی اس لئے ان کے بچوں یا تیسری نسل میں سے کسی نے  یہ میڈل وصول کیا۔براہ راست میڈل حاصل کرنے والے بزرگوں  کو  صدر مملکت نے خود گلے میں میڈل پہنایا اور باقی کو ہاتھ میں پیش کیا۔

سینٹر ولید اقبال نے ابتدائی کلمات  ادا کئے اور ٹرسٹ کے سیکرٹری اور روح رواں شاہد رشید نے ہمیشہ کی طرح  تقریب کو انتہائی احسن طریقے سے  پایہٓ تکمیل تک پہنچایا۔تقریب میں  ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، خواجہ غلام قطب الدین فریدی، سید حبیب عرفانی، سید لخت حسنین صاحب، اسد اللہ غالب کے صاحبزادے عمار اور دیگر احباب سے ملاقات تسکین کا باعث بنی۔تلاوت کلام پاک قاری رفیق نقشبندی اور کلام اقبال کی صورت نعت کی سعادت راقم الحروف کے حصے میں آئی۔موسم کی خرابی کے سبب تقریب کو ہال میں منتقل کرنا پڑا جس کے لئے سیف اللہ چوہدری،عثمان احمد کسانہ اور نظریہٓ پاکستان کے دیگر کارکنان نے بہت جانفشانی سے کام کیا۔تقریب میں ایک گولڈ میڈل بہت چونکا دینے والا تھا جو نظریہٓ پاکستان ٹرسٹ کے پہلو میں واقع مجلس ترقی ادب کی مسند پر براجمان جناب منصور آفاق کو ان کے والد کی خدمات کے طور پر پیش کیا گیا۔تسلیم کرنا پڑے گا کہ بندے میں دم ہے کہ  اس نے ایوان کارکنان جیسے خالصتاً نظریاتی ادارے کو بھی آئینے میں اتار لینے میں زیادہ وقت نہیں لیا۔

مزید :

رائے -کالم -