سکیورٹی کے ساتھ شہریوں کی مشکلات کا خیال رکھنے کی ضرورت 

سکیورٹی کے ساتھ شہریوں کی مشکلات کا خیال رکھنے کی ضرورت 
سکیورٹی کے ساتھ شہریوں کی مشکلات کا خیال رکھنے کی ضرورت 

  

سکیورٹی کے ساتھ شہریوں کی مشکلات کا خیال رکھنے کی ضرورت لاہور میں پی ایس ایل میچوں کی سکیورٹی کیلئے غیر معمولی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی   قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پنجاب حکومت کے درمیان اس اہم ایونٹ کی سکیورٹی کے سلسلے میں کئی ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوئے ہیں شرکاء نے اسٹیڈیم آمد کے لیے تماشائیوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جگہ جگہ مرکزی و صوبائی سکیورٹی اداروں کے جوان تعینات رکھنے اور بڑی تعداد میں واک تھرو گیٹ نصب کرنے جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں کے علاوہ فضائی نگرانی کی بھی حکمت عملی طے پائی ہے اور پی ایس ایل کی اس غیر معمولی سکیورٹی انتظامات سے باقاعدگی سے اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کو آگاہ رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔لاہور پولیس کی جانب سے کرکٹ ٹیموں کی باحفاظت لاہور ائیر پورٹ سے پی سی ہوٹل آمد، ہوٹل سے قذافی  سٹیڈیم تک کے دونوں روٹس کی فل ڈریس ریہرسل بھی کی گئی ہے، ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر عابد راجہ نے فرداً فرداً،ہر پوائنٹ،  ڈائیورشن،  چوکنگ ایریا اور پارکنگ اسٹینڈز کا فزیکلی بغور جائزہ  بھی لیا ہے، ریہرسل میں سی ٹی او منتظر مہدی،ایس پی سیکیورٹی راشد ہدایت، ایس پی اینٹی رائٹ محمد عمران، ایس پی سی آر او ذوہیب رانجھا اور متعلقہ ایس پیز نے حصہ لیا، ڈی آئی جی ڈاکٹر عابد راجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سپر لیگ سیزن سیون کیلئے بہترین سیکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں،

لاہور پولیس روائتی انداز میں شائقین کرکٹ کو خوش آمدید کہے گی، چنگ چی اور آٹو رکشے LNG/LPGاور CNG گاڑیوں کا پارکنگ ایریا میں داخلہ ممنوع ہے، گاڑی میں موجود تمام افراد کے پاس شناختی کارڈ اورتمام افراد کے پاس میچ کی ٹکٹیں اور کورونا سرٹیفکیٹ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے،یاد رہے کہ پی ایس ایل میچز کے دوران پاکستان آئے ہوئے غیر ملکی کھلاڑیوں کیلئے غیر معمولی حفاظتی اقدامات تقریباً ہر سال شہریوں کیلئے دردِ سر بن جاتے ہیں۔ پی ایس ایل کے باعث لاہور کی تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ میچز کے دنوں میں ان راستوں سے گزرنے والے لاکھوں لوگ پریشان رہتے ہیں۔ پاکستان سپر لیگ کے میچز لاہور میں ہونے کی وجہ سے جہاں بعض لوگوں میں خوشی کا سامان ہوا ہے، وہیں ہر سال پنجاب حکومت، انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے پی ایس ایل شہریوں کے بنیادی حقوق کو پامال کرتا نظر آتاہے۔ پی ایس ایل کے میچز شام کے اوقات میں کھیلے جاتے ہیں،جن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے ہوتا ہے جبکہ اس کا اختتام تقریباً رات 11 بجے ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے پولیس اہلکار دوپہر ایک بجے سے ہی بعض شاہراہوں کو شہریوں کی آمد و رفت کیلئے بند کردیتے ہیں پی ایس ایل کی وجہ سے اسٹیڈیم کے اطراف موجود تعلیمی اداروں کو بھی شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ تاہے۔ ان علاقوں میں معمول کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تجارتی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوتی ہیں۔ دوسری جانب اسٹیڈیم کے اطراف میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے بار بار سرچ آپریشن، سڑکوں کے بند اور نگرانی کیلئے اضافی نفری تعینات رہنے سے شہری تنگ آجاتے ہیں،کیونکہ ان علاقوں میں تعینات پولیس کی نفری شہریوں کو چیکنگ کے بہانے تنگ کرتی ہے۔

اس حوالے سے مقامی لو گوں کا کہنا ہے کہ ”سیکورٹی ضرور لگائیں۔ تاہم اسے اسٹیڈیم تک محدود رکھیں دور دور تک سڑکیں بلاک کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ پی ایس ایل کے میچز پاکستان میں ہونا اچھا اقدام ہے، تاہم انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی نے اسے مشکل بنادیا ہے۔ماضی میں ٹریفک کی بندش اورشہریوں کی پریشانی کے باعث  لاہور ہائی کورٹ بھی اس پر نوٹس لے چکی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ نفری اور اعلی سطحی انتظامات ہمارے ملک کی بہتری اور دہشت گردی کے خطرات کی نفی کرتے ہیں،قا نون نافذ کرنے والے اداروں نے ہی ہمیں پرسکون بنایا ہے جہاں ان حالات میں ہمیں بہت سارے گلے شکوے ہیں وہاں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ غیر ملکی آئے ہوئے مہمانوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے اس لیے ہمیں سوچنا ہو گا کہ ڈیوٹی پر تعینات فورس ہماری اپنی ہے، سب نے مل کر حالات کو بہتری کی طرف لانا ہے،سرچ آپریشن یا میچز کے دوران اگر ہمیں نفری کا کوئی اہلکار روک کر تلاشی دینے یا گاڑی کو چیک کرنا چاہتا ہے تو ہمیں اس کے ساتھ ہر ممکن تعاون کر نا چاہیے جہاں ہمارے ادارے لاکھوں نہیں کروڑوں روپے فول پروف سکیورٹی پر خرچ کر رہے ہیں وہاں ان کی حفاظت کی ذمہ داری صرف اداروں کی نہیں ہے ہمیں بھی ان کے ساتھ مدد گار بننا ہو گا  ہمارے لاہور پولیس کے سربراہ فیاض احمد دیو نیک نیت اور دوسروں کے بنیادی حْو ق کو ترجیح دینے والے آفیسرز ہیں امید ہے بہترین سکیورٹی کے ساتھ ساتھ وہ بھی شہریوں کی مشکلات کا خیال ضرور رکھیں گے

،

مزید :

رائے -کالم -