طاہر القادری کا ایجنڈا الیکشن کا التواتو نہیں؟

طاہر القادری کا ایجنڈا الیکشن کا التواتو نہیں؟
طاہر القادری کا ایجنڈا الیکشن کا التواتو نہیں؟

  

ڈاکٹر طاہر القادری نے کینیڈا میں چھ سالہ خود ساختہ جلا وطنی کے بعد لاہور میں جلسے کے بعد ایم کیو ایم کی دعوت پر کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 14جنوری کو عوامی پارلیمنٹ اپنا فیصلہ سنا دے گی اور اسلام آباد کو اُس روز دُنیا کا سب سے بڑا تحریر اسکوائر بنا دیں گے۔ہمارا کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں اور نہ ہم کسی ایجنڈے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمارا ایجنڈا جمہوریت کا قیام اور جاگیردرانہ نظام کا خاتمہ ہے، جبکہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے لندن سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب کا وقت آ چکا ہے، فوج اور قومی سلامتی کے ادارے انقلاب میں رکاوٹ بننے کے بجائے ہمارا ساتھ دیں ۔اُنہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کا مقصد انتخابات ملتوی کرنا نہیں، ہم انتخابا ت سے پہلے انتخابی اصلاحات لانا چاہتے ہیں ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے 2002ءمیں جنرل پرویز مشرف کے 7 نکاتی ایجنڈے کی حمایت کر کے تبدیلی کا نعرہ لگایا تھا اور ریفرنڈم میں بھی حمایت کی تھی .... جبکہ جنرل پرویز مشرف کی امریکہ نواز پالیسیوں کی وجہ سے ملک آج بھی جل رہا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کی دہشت گردی کی جنگ میں شامل ہو کر ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ ایم کیو ایم نے بھی آٹھ سال تک جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں کی مکمل حمایت کی اور جب اُن کے اقتدار کا سورج غریب ہوا تو پیپلز پارٹی کی حکومت میں شامل ہو کر اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری جنرل پرویز مشرف کے دور میں دو سال تک ایم این اے رہنے کے بعد استعفا دے کر کینیڈا منتقل ہو گئے اور خودساختہ جلا وطنی اختیار کی، کیونکہ وہ وزیراعظم کے عہدے کے امیدوار تھے، لیکن الیکشن میں اکثریت حاصل نہ کر سکے،اِس لئے وہ وزیراعظم نہ بن سکے اور خودساختہ جلا وطنی اختیار کی۔ کینیڈا میں طالبان کے خلاف فتوے جاری کئے، جس کی وجہ سے وہ یورپ اور امریکہ کی پسندیدہ شخصیت بن گئے، لیکن طاہر القادری نے افغانستان میں امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف فتویٰ جاری نہیں کیا، جس سے اُن کے سیاسی عزائم کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ طاہر القادری نے کراچی میں ایم کیو ایم کے زیر انتظام جلسے سے خطاب کیا اور ایم کیو ایم نے بھی 14جنوری کو اسلام آباد میں لانگ مار چ میں شرکت کا اعلان کیا ۔ طاہر القادری کو گزشتہ کئی سال سے جاری کراچی میں ٹارگٹ کلنگ نظر نہیں آ رہی، جس میں روزانہ درجنوں بے گناہ افراد مارے جا رہے ہیں اور نعشیں مختلف علاقوں میں بھجوائی جاتی ہیں۔

کراچی میں تاجر برادری سے سالانہ اربوں روپے کا بھتہ وصول کیا جارہا ہے۔ تاجروں نے بھتہ خوری کے خلاف کئی ہڑتالیں کیں۔ ایم کیو ایم جو اب بھی حکمران جماعت ہے، اسے بھی ٹارگٹ کلنگ نظر نہیں آتی اور ان کے قائد الطاف حسین لندن میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر کے انقلاب کی باتیں کرتے ہیں؟ قوم کا ہر فرد جانتا ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری میں کون سی سیاسی جماعت ملوث ہے اور کراچی کے لوگوں کو کس سیاسی جماعت نے یرغمال بنایا ہے ؟ طاہر القادری اگر واقعی کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں رکھتے تو پہلے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کریں، ڈرون حملوں کے خلاف بھی آواز اٹھائیں، کیونکہ اِن حملوں میں بھی بے گناہ بچے، بوڑھے، جوان اورخواتین مارے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ جنرل پرویز مشرف کی باقیات اکٹھی ہوئی ہیں اور خفیہ اشارے کے تحت ہی اُن کی حمایت کی گئی ہے، کیونکہ چھ سال کینیڈا میں خود ساختہ جلا وطنی کے بعد جب الیکشن کی تیاریاں چل رہی ہیں اور آزاد الیکشن کمیشن معرض وجود میں آگیا ہے، جو ملک کے اندر فوج کے زیر نگرانی آزادانہ اور منصفانہ الیکشن کے انعقاد میں مصروف ہے،اِس موقع پر لانگ مارچ کا اعلان اور اسٹیبلشمنٹ کی حامی جماعتوں کی حمایت سے معلوم ہوتا ہے کہ طاہر القادری کا ایجنڈا الیکشن کو ملتوی کرانا ہے ۔

اِس منصوبے پر گزشتہ کئی سال سے کام ہو رہا ہے کہ الیکشن سے پہلے دو سال کے لئے قومی حکومت تشکیل دی جائے جو الیکشن سے پہلے احتساب اور پھر الیکشن کا انعقاد کرے، لیکن مسلم لیگ (ن)کے قائد محمد نواز شریف اور دیگر جمہوریت پسند سیاسی جماعتیں اِس منصوبے کی مخالفت کر رہی ہیں، کیونکہ آئین میں قومی حکومت کی کوئی گنجائش نہیں ۔پہلے عمران خان کے سونامی میں ہوا بھرائی گئی، لیکن جب سونامی کے غبارے سے ہوا نکل گئی تو اُن قوتوں کے اشارے پر مسلم لیگ(ن)کے خلاف تمام مخالفین اکٹھے کئے جا رہے ہیں تاکہ محمد نواز شریف کو دباﺅ میں لایا جائے، کیونکہ وہ عرصہ دراز سے سیاست میں ایجنسیوں کے کردار کا خاتمہ چاہتے ہیں، ان قوتوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں اور عوامی طاقت کے بل بوتے پر اقتدار میں آنا چاہتے ہیں۔ کسی کے سہارے پر اقتدار میں نہیں آنا چاہتے۔

پنجاب میں حالیہ ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ(ن) کی کامیابی سے ثابت ہو گیا کہ عوام آئندہ الیکشن میں بھی مسلم لیگ(ن)کا بھر پور ساتھ دیں گے ۔انقلاب کے دعویدار تاریخ کا مطالعہ کریں کہ انقلاب ہمیشہ مظلوم طبقات ہی لاتے ہیں، جبکہ پاکستان میں صرف ذاتی مفادات کے حصول کے لئے انقلاب کا نعرہ لگا کر عوام کو بیوقوف بنایا جا تا ہے اور انقلاب کی آڑ میں کوئی اور مقاصد ہوتے ہیں، جس سے ملک میں بہتری کے بجائے خرابی پیدا ہوتی ہے۔ دہری شہریت رکھنے والے انقلاب نہیں لا سکتے۔ آئین کے تحت بھی دہری شہریت رکھنے والے قومی و صوبائی اور سینیٹ کے رکن بننے کے اہل نہیں۔ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے اور مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا، ملک کی ترقی اور خوشحالی جمہوریت کے تسلسل کی مرہون منت ہے، آئین کے تحت الیکشن مقرر ہ وقت پر کرائے جائیں اور اقتدار منتخب حکومت کے سپرد کیا جائے ۔

مزید :

کالم -