آئندہ الیکشن کا لائحہ عمل

آئندہ الیکشن کا لائحہ عمل
آئندہ الیکشن کا لائحہ عمل

  

میری تقریباً ساری زندگی سیاست کے نشیب و فراز دیکھتے ہوئے گزری ہے جوتقریباً40سال سے زیادہ ہے۔اگر مَیں بہت پرانی باتیں نہ کروں، صرف 15سال یا پانچ سال پہلے تک کے خود کو سیاست دان کہنے والوں کے بارے میں سوچتا ہوںاور اُن کو محبت اور پیارے سے عزت و احترام سے اپنی سیاسی پارٹیوں میںجگہ عطا فرمانے(یا عہدہ دینے) والوں کے عقل فہم و فراست کے بارے میں سوچتا ہوں تو یہ بات کھل کر عیاں ہو جاتی ہے کہ اقتدار اور کرسی کی لڑائی اور خواہش....بس.... دوسروں پر الزامات لگانا، بھڑکیںمارنا بھی ایک سیاسی ڈرامہ ہے۔ آج تک آنے والے کسی حکمران نے جانے والے حکمران کے بارے میںاچھی رائے کا اظہار نہیں کیا، حالانکہ تمام پاکستانی شہریوں کے سامنے ملک کی تمام صورت حال ہے، شہر بھی نظر آتے ہیں، شہروں کی سڑکیں بھی نظر آتی ہیں، دیہاتوں کوجانے والی سڑکیں نظر آتی ہیں، شہروں اور دیہاتوںکے سکول نظر آتے ہیں، ہسپتال نظر آتے ہیں اور یونیورسٹیاں نظر آتی ہیں کہ تمام اچھے اور بڑے بڑے منصوبے کن لوگوں نے مکمل کروائے؟

 پنجاب میں 1122بھی تمام پاکستانی شہریوں کی خدمات انجام دے رہا ہے،جو بھی خواتین حضرات سیاست دان صبح سویرے سب سے پہلے جنرل(ر) پرویز مشرف کے محل میں حاضری دیتے تھے، اُن کے میڈیا کو کنٹرول کرتے تھے۔ چوبیس گھنٹے جنرل(ر) پرویز مشرف کو حکومت کے لئے تجاویز بتاتے تھے۔ بیشمار سیاسی لوگوں کاسونا اور جاگنا جنرل(ر) پرویز مشرف کے ساتھ ہوتا تھا، کیا کوئی سیاست دان لیڈر پاکستانیوں کو بتانا پسند کرے گا کہ اُنہوں نے فوجی جرنیلوں کی آشیر با د کے بغیر سیاست کی، اُن کی سیاست کی آبیاری جرنیل نے نہیں کی۔ مفادات میںاگر سیاست دان اور جرنیل میں لڑائی ہو جائے، جوطاقت ور ہوتا ہے، وہ دوسرے کو زیر کر لیتا ہے۔ پاکستان میں اگر جرنیلوں نے اقتدار پر قبضہ کیا ،بہت غلط کیا، جو کسی صورت میں بھی صحیح نہیں کہلواتا، تو پھر سیاست دانوں نے کیوں جرنیلوں کا ساتھ دیا۔ جنرل ضیاءالحق کے ساتھ سب تھے، جنرل(ر) پرویز مشرف کے ساتھ سب تھے،اب سیاست دان کیوں شور مچارہے ہیں کہ ملک میں الیکشن فوج کی نگرانی میں ہوں،الیکشنوں میں دھاندلی روکنے کے لئے فوج کی مدد درکار ہے، سیلاب آ جائے تو فوج کام کرے، خدانخواستہ زلزلہ آ جائے تو فوجی جوان دن رات کام کریں ۔اگر سرحدوں پر لڑنا ہے تو فوجی جوان لڑائی کریں، مَیں ملک میں فوجی حکمرانوں کی حمایت نہیں کرتا، لیکن جو لوگ فوج کے خلاف تقریریں کرتے ہیں،الیکشن کیوں نہیں کروا سکتے؟جو لوگ ملک کے کسی بھی حصے میں فوجی چھاﺅنیوں کے خلاف ہیں، وہ کن لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جو لوگ اپنے غریب اور کمزور شہریوں کو روزگار نہیں دیتے ،اُن کی مدد نہیں کرتے، سردیوں اور گرمیوںمیںاپنے شہریوں کی مدد نہیں کرتے،وہ پاکستان کی نمائندگی نہیں کرتے، اب بے شمار سیاست دان تقریریں کر رہے ہیں کہ اگر جرنیل اقتدار پر قبضہ نہ کرتے تو ملک ترقی کر کے بہت آگے جاچکا ہوتا۔ یہی سیاست دان دن رات جرنیلوں کے محلات میں گزارنے والوں کو اپنے ساتھ ملا کر دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔

 تمام سیاست دانوں کو سچائی ایمانداری کے ساتھ اپنی تمام لڑائیاں اور مخالفتیں چھوڑ کر اور اکٹھے ہو کر لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے تاکہ الیکشن، فوج اور رینجرز کے بغیر ہوں، لوکل انتظامیہ تمام ڈیوٹیاں سرانجام دے۔ یہ مطالبہ کہ ملک میں فوج الیکشن کروائے اور اقتدار سول حکمرانوں کے حوالے کرے، فوج کے خلاف باتیں کرنے والے کس طرح سیاست سے مداخلت ختم کر سکتے ہیں۔ یہ تو جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مہربانی ہے کہ اُنہوں نے ملک میںمارشل لاءلگا کر اقتدار پر قبضہ نہیں کیا، حالانکہ چند لوگوں کی بھرپور کوشش اور خواہش تھی۔ اگر موجودہ سیاسی حکومت پانچ سالہ دور پورا کر رہی ہے، تو اِس میں بھی صدر پاکستان آصف علی زرداری اور اُن کے ساتھ حکومت میں شامل لوگوں کی دُور اندیشی اور کامیاب پالیسی ہے ،ورنہ ملک بہت پہلے مزید بحرانوں کا شکار ہوجاتا۔ بے شک ملک کے حالات اچھے نہیں ہیں۔ دہشت گردی نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے۔ اگر ملک میںصاف ستھرے پُرامن طریقے سے الیکشن ہو جائیں اور عوام کی خواہش اور ووٹ کے ذریعے دوبارہ سول حکومت بن جائے، تو حالات سدھرنے کی امید کی جا سکتی ہے،لیکن الیکشنوں میں سابقہ ریکارڈ دھاندلی نہ کرنے کی یقین دہانی پر الیکشنوں میں حصہ لینے والے تمام افراد کا معاہدہ ضروری ہے۔ بلاشبہ الیکشن کمیشن پر تمام سیاسی پارٹیاں متفق ہیں، لیکن ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن کے لوگ دھاندلی روکنے میں قطعی ناکام رہے ہیں۔ الیکشنوں میں تمام ووٹر یہ اُمیدیں لگاتے ہیں کہ اُن کے ووٹ سے حکومت میں آنے والے اُن کی مشکلات دُور کرنے میں اُن کی مدد کریں گے، لیکن اکثر ووٹروں کے فیصلوںکے مختلف نتائج نکلتے ہیں۔ حکومت نے اگرچہ اپنی مدت پوری کر لی ہے، دومہینے باقی ہیں، لیکن مسائل و مشکلات اور بحران ہمارے سامنے ہیں۔ اُنہوں نے ملک کوا پنی لپیٹ میںلے رکھا ہے ، ہر شہری پریشانی کی زندگی گزار رہا ہے، ان مسائل اور مشکلات کا حل فوری نہیں ہو سکتا۔ عوام کے لئے ایک ایک دن گزارنا بھی مشکل ہو رہا ہے.... اقتدار میں شامل لوگوں کو اور جو اقتدار سے باہر ہیں، اُن کو باہم مشاورت سے الیکشنوں کا شیڈول جاری کرنے کے لئے لائحہ عمل کا اعلان کرنا ازحد ضروری ہے،الیکشنوں کے نام پر عوام کے اندر شاید کوئی نئی امید پیدا ہو جائے اور پاکستانیوں میںاچھے دن آنے کی اُمید بندھ جائے۔ چونکہ الیکشنوں کے حوالے سے ہی عوام دیکھتے ہیں کہ حکومتی مدت کے دو ماہ باقی ہیں، لیکن الیکشنوں کے لئے کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔

الیکشنوں کے بارے میں چند لوگ خدشات کا اظہارکر رہے ہیں کہ لیٹ ہو رہے ہیں، لیکن چند حکومتی لوگ الیکشن کے التواءکو پروپیگنڈہ کہہ رہے ہیں، کراچی میں حلقہ بندیوں کے متعلق بھی سپریم کورٹ نے حکم دے رکھا ہے۔ کچھ لوگوں نے نگران حکومت میں شامل ہونے کے لئے صف بندی شروع کر دی ہے ، ابھی سب سیاسی جماعتوں کا نگران سیٹ اپ پر متفق ہونا بھی ایشو ہے، چند سیاسی لوگوں نے نگران سیٹ اپ کے خلاف بولنا شروع بھی کر دیا ہے اور کچھ نے اس میں شامل ہونے کا اظہار بھی کر دیا ہے ، خوش قسمتی ہے کہ الیکشن کمیشن پر سب سیاسی لوگ متفق ہیں، لیکن الیکشن صاف ستھرے اور دھاندلی سے پاک ہونے سے نااُمید ہیں۔ یہاں فوج کو لانے کی فرمائش کر رہے ہیں۔ بہرحال تمام سیاسی لوگوں کو متفق ہو کر ملک کی فضا کو ساز گار بناکر الیکشنوں کا انعقاد کرناچاہئے ،ملک میں لڑائی جھگڑے، دنگا فساد میں ہونے والے الیکشن کسی بھی صورت میں بہتر ماحول اور ساز گارحالات نہیں لا سکتے، بلکہ خدانخواستہ حالات مزید بگڑنے کا اندیشہ ہو سکتا ہے، سارے ملک میں عوام کے درمیان غلط فہمیاں دُور کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ بڑی بڑی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروںکو علاقائی اور قوم پرست لوگوں کے گروپوں کو بھی ساتھ بٹھا کر اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، اگر یہ علاقائی لوگ قومی سطح پر نہیں آتے، تو مختلف لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین کی یہ بات حقیقت ہے کہ کراچی سے لے کر خیبر تک کوئی بھی سیاسی پارٹی مقبول نہیں ہے، جو اکیلے حکومت بنا سکے۔ اِس لئے سب سیاسی لوگوں کو ملک کی سلامتی کے لئے اکٹھے ہو کر لائحہ عمل طے کرنا درکار ہے۔

مزید :

کالم -