عدل و احسان و صلہ رحمی و قطع رحمی

عدل و احسان و صلہ رحمی و قطع رحمی
عدل و احسان و صلہ رحمی و قطع رحمی

  

سورئہ نحل نمبر16 آیت نمبر90 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، ترجمہ:بے شک اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ ہر معاملے میں انصاف کرو اور ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرو اور اچھا سلوک کرو رشتہ داروں کے ساتھ اور منع فرماتا ہے بے حیائی سے، بُرے کاموں سے اور سرکشی سے۔ اللہ تعالیٰ نصیحت کرتا ہے تمہیں تاکہ تم نصیحت قبول کرو“۔ یہ آیت مبارکہ جب نازل ہوئی تو اسلام کے بڑے بڑے دشمن اس کے اعجاز اور جامعیت کو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم نے جب یہ آیت ولید بن مغیرہ کو پڑھ کر سنائی تو اس نے کہا.... میرے بھتیجے ایک بار پھر پڑھو۔ حضور اکرم نے اسے پھر پڑھا تو وہ دشمن اسلام اور منکر قرآن یہ کہنے پر مجبور ہوگیا، بخدا یہ تو بڑی شیریں ہے۔ اس کا ظاہر بڑا رنگین ہے۔ اس کا تنا پتوں والا ہے اور اس کی شاخیں پھلوں سے لدی ہیں۔ بخدا یہ کسی بشر کا کلام نہیں۔ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا: یہ قرآن کی جامع ترین آیت ہے۔ اس میں ہر وہ ایسی چیز، جس پر عمل کرنا ضروری ہے، مذکور ہے۔ جس سے اجتناب کرنا ضروری ہے، موجود ہے۔ یہ اسی کتاب مقدس کی ایک آیت ہے، جس کے متعلق اس کے نازل فرمانے والے نے فرمایا ہے: ”نیانا لکل شیئاً “ہے، اس لئے اس میں ہمیں بھی زیادہ سے زیادہ غور کرنا چاہئے، تاکہ اس رعایت سے زیادہ سے زیادہ مستفیض ہو سکیں۔

اس آیہ مبارکہ میں تین چیزوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور تین چیزوں سے روکا گیا ہے۔ وہ تین چیزیں، جن کو کرنے کا حکم دیا ہے، وہ یہ ہیں(1) عدل (2)احسان اور (3) رشتہ داروں سے اچھا سلوک اور دوسری تین چیزیں جن سے منع کیا گیا ہے، وہ یہ ہیں(1)برے کام (2)بے حیائی اور (3) سرکشی۔ ان امور میں سے ہر ایک کے متعلق مختصر تشریح پیش کی جاتی ہے۔ (حضرت سفیانؓ عینیہ نے فرمایا ہے کہ عدل کے معنی ہیں کہ ظاہر اور باطن دونوں یکساں ہوں۔ احسان کا مطلب ہے کہ باطن ظاہر سے بھی زیادہ پاکیزہ ہو۔ حضرت سیدنا علیؓ کا ارشاد ہے، عدل اور انصاف کرنا اور احسان فضل و کرم ہے اور حقیقت یہ ہے کہ کسی معاشرے کا صحت مند بنیادوں پر قائم ہونا انہی دو چیزوں پر موقوف ہے کہ کسی کی حق تلفی نہ ہو، ہر ایک کو اس کا پورا حق ملے اور قانون کے سامنے شاہ و گدا سب برابر ہوں، لیکن اتنا ہی کافی نہیں، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر فرد اپنے دوسرے ساتھی کے ساتھ برتاو¿ کرنے میں احسان کو بھی پیش نظر رکھے، یعنی اس کو حق سے زیادہ بھی دے اور اگر اُس سے کوئی کوتاہی سرزد ہو جائے تو اس کے لئے ہر وقت سزا دینے پر ہی مُصر نہ ہو، بلکہ عفو و درگزر سے بھی کام لے۔ اسی طرح اس معاشرے میں صرف یہ نہیں کہ حسد اور عناد کے شعلے بھڑکنے نہیں پائیں گے، بلکہ انس اور محبت کی نسیم بھی ان کے غنچہ ہائے دل کی تبسم آشنائی کرتی رہے گی۔ حضور اکرمﷺ سے احسان کی یہ تعریف منقول ہے کہ تو رب کی اس طرح عبادت کر کہ گویا تو اُسے دیکھ رہا ہے،اگر مراقبے کی یہ کیفیت پیدا نہ ہو سکے تو کم از کم یہ تو یقین کر وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ علامہ قرطبیؒ لکھتے ہیں کہ ارباب قلوب میں سے اعلیٰ درجے کے لوگ عبادت کرتے وقت گویا تو ”اُسے دیکھ رہا ہے“ کے مقام پر فائز ہوتے ہیں اور بعض کی رسائی اس مقام تک نہیں ہوتی، مگر یہ کہ جان لے وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ تیسرا حکم یہ ہے کہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ”صلہ رحمی“ سے پیش آو¿۔ ایسا نہ ہو کہ تم تو عیش و عشرت کرتے رہو اور تمہارا کوئی رشتہ دار نان شبینہ کا محتاج ہو۔ اسلام نے خاندانی کفالت کا جو قاعدہ مقرر کیا ہے، اس پر صحیح طور پر عمل کیا جائے تو ہمارے معاشرے کی کئی مشکلات دور ہو سکتی ہیں۔ شریعت کی طرف سے ہر باپ پر اپنے اہل و عیال کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اسی طرح اولاد پر اپنے والدین کی کفالت بھی فرض ہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ قرابت کا یہ سلسلہ جہاں تک پھیلتا چلا جائے گا، ذمہ داریاں ساتھ ساتھ بڑھتی جائیں گے۔ اسلام کا نظام میراث اسی خاندانی کفالت کی ایک عملی صورت ہے۔ مرنے والے کا ورثہ صرف اس کی اولاد میں بٹ کر نہیں رہ جاتا، بلکہ متعدد دوسرے رشتہ داروں کو بھی اس میں سے مناسب حصہ ملتا ہے۔ اگر کوئی انسان نادار ہے اس کا کوئی رشتہ دار بھی زندہ نہیں تو اس کے دور کے رشتہ دار پر اس کفالت کی ذمہ داری عائد کی جائے گی، اس سے پہلے حضور علیہ الصلوٰة و السلام کی متعدد، احادیث پاک کا ذکر کر کے رشتہ داروں کے ساتھ حُسنِ سلوک کی اہمیت واضح کی جا چکی ہے۔

2۔ وہ تین چیزیں جن سے باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان میں سے پہلی چیز الفحشاء(بے حیائی) کی تعریف میں شامل ہوگی، یعنی ہر وہ بات اور ہر وہ کام جو قبیح ہو، اُسے فحشاءکہتے ہیں۔ اس وضاحت سے معلوم ہُوا کہ اس کا مفہوم کتنا وسیع ہے۔ ہر وہ چیز جس سے افراد یا قوم کے اخلاق بگڑنے کا اندیشہ ہو، وہ الفحشاءکی تعریف میں شامل ہوگی۔ منکر کا مفہوم جس چیز کو شریعت نے ناپسند بھی کیا ہو اور اس سے روکا بھی ہو۔ ”بغی“ سے مراد حد سے تجاوز کرنا، اس میں تکبر، ظلم، حسد اور زیادتی سب آگئیں۔ بعض علماءنے عدل کا یہ مفہوم لکھا ہے کہ عدل کے معنی ہر معاملے میں درمیانہ روی اور اعتدال کے راستے پر گامزن رہنا عدل ہے اور احسان یہ ہے کہ اگر کوئی تجھ پر زیادتی کرے تو بدلہ لینے پر مُصر نہ ہو، بلکہ عفو و درگزر سے کام لے۔ علامہ بیضاوی لکھتے ہیں کہ قوتِ شہوانیہ کی متابعت میں افراط کو فحشاءکہتے ہیں اور قوتِ غضبیہ کے مشتعل ہونے کے وقت جو کام کیا جائے، اُسے منکر کہتے ہیں،بغی کا مفہوم لوگوں پر جبر و تشدد کرنا اور اُن پر بالادستی قائم کرنا ہے اور یہ قوتِ وہمیہ کا نتیجہ ہے۔

3۔ صلہ رحمی کا مطلب ہے رشتے کو جوڑنا، یعنی رشتے داروں سے اچھا سلوک کرنا اور خوش مزاجی سے پیش آنا۔ رحم سے مراد رشتہ ہے۔ صلہ رحمی سے رشتہ داروں سے رشتہ جوڑنا، ان سے نیکی کرنا اور اچھا سلوک کرنا واجب ہے۔ اس کے برعکس قطع رحمی ہے جس کا مطلب رشتہ داروں سے تعلق توڑنا اور ان سے بے اعتنائی برتنا ہے، جو حرام ہے۔ صلہ رحم کے رشتہ داروں میں مختلف درجے ہیں۔ ہر ایک کو اس کے مرتبے کے مطابق صلہ دینا چاہئے۔ اگر کسی کو مالی مدد کی ضرورت ہو تو خندہ پیشانی سے اس کی مدد کی جائے۔ اگر کوئی رشتہ دار پردیس میں ہے تو اس کی فیملی سے رابطہ رکھنا اور پردیسی سے خط و کتابت کرنا صلہ رحمی ہے۔ صلہ رحمی یہ ہے کہ وہ کاٹے اور تم جوڑو۔ حضوراکرم نے فرمایا ہے، اس قوم پر رحمت نازل نہیں ہوتی، جس میں رشتے قطع کرنے والے ہوں۔ آج کل دیکھا گیا ہے کہ لوگ ذرا ذرا سی بات پر اپنے رشتہ داروں سے ناراض ہو کر تعلقات ختم کر دیتے ہیں، مگر اس طرح کا گناہ اور قطع رحمی مطلقاً حرام ہے۔ سب سے بڑا درجہ والدین کا ہے۔ باپ کے بعد دادا اور بڑے بھائی کا درجہ ہے۔ بڑا بھائی بھی درجے میں باپ کی جگہ ہوتا ہے۔ چچا بھی باپ کی مثل ہوتا ہے۔ اسی طرح ماں کے بعد بڑی بہن اور پھر خالہ کا درجہ ہے، کیونکہ وہ بھی ماں کی جگہ ہوتی ہے۔ اگر کسی بچے کے ماں اور باپ دونوں فوت ہو جائیں تو اس کی پرورش خالہ یا چچی کرتی ہے، چونکہ ان کے ساتھ بچے کا خونی تعلق ہوتا ہے۔

حضور علیہ الصلوٰة والسلام ابھی تولد نہیں ہوئے تھے کہ آپ کے والد گرامی حضرت عبداللہؓ وصال فرما گئے تھے۔ ابھی آپ چھ برس کے تھے کہ والدہ محترمہ وصال فرما گئیں۔ آٹھ برس کے تھے کہ دادا جان حضرت عبدالمطلب بھی وصال فرما گئے۔ اس کے بعد آپ کے حقیقی چچا ابو طالب اور چچی فاطمہ بنتِ اسدؓ نے یہ ذمہ داری اپنی اولاد سے بڑھ کر محبت کرتے ہوئے پوری کی۔ آپ کی چچی اسلام لے آئی تھیں۔ آپ کا انتقال مدینہ المنورہ میں ہوا۔ آپ نے ان کی قبر خود تیار کی۔ قبر شریف میں لیٹ کر قرآن تلاوت فرمایا اور اپنی چچی کے اوپر اپنی چادر مبارک ڈالی اور اشک ریز آنکھوں کے ساتھ فرمایا:” یہ میری چچی نہیں تھی۔ میری ماں تھی جو آج داغِ مفارقت دے گئی“....آپؓ کا قبہ جنت البقیع میں موجود ہے۔ مجھے بفضلہ تعالیٰ 1985ءمیں حج مبارک کی سعادت نصیب ہوئی، جنت البقیع کے قبرستان کے پاس فاتحہ خوانی کی، وہاں مجھے مرحومہ کا قبہ دکھایا گیا اور بتایا گیا کہ ایک سڑک کی تعمیر کے لئے اُسے گرانا ضروری تھا، مگر باوجود ہر طریقہ ناکام ہُوا۔ بالآخر سڑک ساتھ سے گزارنی پڑی۔

4۔ حضرت سالمؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اُس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اُسے کسی ہلاکت میں ڈالتا ہے۔ جو آدمی اپنے کسی مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری فرمائے گااور جو آدمی اپنے کسی مسلمان بھائی کی کوئی مصیبت دور کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کر دے گا اور جو آدمی اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا، لہٰذا آپس میں محبت اور ہمدردی پیدا کرنی چاہئے اور رشتہ داروں سے خصوصاً ایسا دلی تعلق ہونا چاہئے کہ اگر کسی کو پریشانی ہو تو سب اُسے اپنی پریشانی سمجھیں اور اس کو حل کریں۔ یہی صلہ رحمی ہے۔ رشتہ داروں کے عیب چھپاو¿۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہارے عیب چھپائے گا۔ آپس میں پیار اور محبت بڑھانے کے لئے نرم رویہ رکھیں۔ اگر کوئی بد زبانی کرے یا بیہودہ طریقے سے بات کرے۔ تب بھی نرمی سے جواب دیں۔ اپنے عزیر و اقارب پر لعنت ملامت نہ کریں اور نہ انہیں بددعا دیں۔ اپنے ٓپ کو برتر سمجھتے ہوئے دوسروں کا دل نہ دکھائیں۔ اگر بیٹے تمہارے لئے اللہ کی نعمت ہیں تو بیٹیاں تمہاری نیکیاں ہیں اور نیکیاں ہی قبول ہوتی ہیں۔ بیٹیوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کیا کرو، اس لئے کہ وہ جہنم کی پردہ ہوں گی۔ ایک شخص رسول اکرمﷺ کے پاس حاضر ہو کر کہنے لگا کہ اُس کے پاس مال ہے اور اُس کے ماں باپ کو اس کے مال کی ضرورت ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تمہارا مال اور تم اپنے والدین کے لئے ہو۔ بیشک تمہاری اولاد تمہاری پاک کمائی ہے۔ اس لئے تم اپنی اولاد کی کمائی سے بلا تکلف کھاو¿“۔

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر

خدا مہربان ہوگا عرشِ بریں پر

مزید :

کالم -