ڈاکٹر طاہر القادری کی نئے نظام اور نئے پاکستان کی مہم پر ایک نظر

ڈاکٹر طاہر القادری کی نئے نظام اور نئے پاکستان کی مہم پر ایک نظر
 ڈاکٹر طاہر القادری کی نئے نظام اور نئے پاکستان کی مہم پر ایک نظر

  

حضور محسن انسانیت حضورا کرم نے علامات قیامت کے ضمن میں یہ بھی پیشگوئی فرمائی ہے کہ میری امت پر ایک وقت ایسا آ جائے گا کہ ”امارة الصبیان“ کے فتنے میں مبتلا ہو جائے گی، جس کا مفہوم یہ ہے کہ امت میں ناتجربہ کاراور طفلانہ فکر و عمل کے لوگ اس کے امیر اور حکمران بن جائیں گے.... اس حد یث شریف کی روشنی میں قیام پاکستان کے مرحلے سے لے کر آج تک جائزہ لیں تو اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ لاکھوں مسلمانوںکے بے رحمانہ قتل،ہزاروں عورتوںکی بے حرمتی،معصوم بچوںکو نیزوں میں پروئے جانے اور صدیوں سے اپنے آباﺅاجداد کے گھروں میںرہائش پذیر فرزندان ِ اسلام کی جلاوطنی کے عوض حا صل کردہ مملکت پاکستان کو چند ناتجربہ کار اور خود غرض لوگوں کی ہوسِ اقتدار کی تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے، جو مغربی جمہوریت کی آڑ میں باری باری اقتدار میں آ کر عیش و نشاط کی زندگی گزارتے ہیں.... اگر اس قربانی کا مقصد یہی تھا تو یہ متحدہ ہندوستان میں بھی بروئے کار آ سکتا تھا۔ آج پاکستان اور ہندوستان کی جمہوریتوں میںکیا فرق ہے؟

 ہندوستان کے کسی حلقے سے کبھی یہ آواز بلند نہیں ہوئی کہ ”ملک“بچایا جائے۔ یہ اعزاز صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باشندوں، یہاں کے فرزندان ِ اسلام کو حاصل ہے کہ اس مملکت کے بانی قائداعظم ؒ کا قائم کردہ پاکستان جس جماعت کے افراد کی ہوس اقتدار نے توڑا تھا، اب وہی ”بقیہ پاکستان کو بچانے“اور نیا پاکستان بنانے کا عزم ظاہر کر رہے ہیں.... انہی کی ہمنوائی میں ممتاز مذہبی رہنما ڈاکٹر طاہر القادری بھی ”عرب شیوخ“ کے روپ میں ”سیاست نہیں، ریاست بچاﺅ“ کے نعرے کے ساتھ پاکستان کا اخلاقی، تعلیمی اور معاشی بحران ختم کرا کے نیا پاکستان معرض وجود میں لانے کے لئے پانچ، چھ سال کینیڈا کے شہری بن کر اب پاکستان میں وارد ہوئے ہیں، جنہوںنے اربوں روپے کی پبلسٹی سے مینار پاکستان کے سائے میںبلٹ پروف شیشے میں بیٹھ کر پاکستانی عوام کو اپنے پروگرام سے آگاہ کیا ہے۔

”شیخ الاسلام“ کے لاحقے سے ملقب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب غالباً ”شیخ العساکر“ جنرل پرویز مشرف کے دور شریف“ میں ہجرت کر کے کینیڈا گئے ہوں گے، انہیں پاکستان کے اندرونی حالات و کوائف کی بابت صحیح معلومات کا ادراک نہیں ہو گا۔ آج پاکستان کا اصل مسئلہ اس ملک کے باشندوں (انسانوں) کو بچانے کا ہے، اگر یہ بچ گئے اور انسانی زندگی محفوظ ہو گئی تو ملک بھی بچ جائے گا۔ ہمیں اعتراف ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری ایک نامور علمی اور مذہبی شخصیت ہیں، لیکن انہیں سیاست کی خاردار وادی میں ”بارِ ثانی“ قدم رکھنے کے لئے سو بار نہیں تو پچاس بار ہی سوچنا چاہئے تھا کہ وہ پاکستان کے ناگفتنی حالات سے کیسے عہدہ برآ ہو سکیں گے اور یہاں کی گہری سیاسی دلدل میں ”چھلانگ لگانے“ کے بعد وہ کس طرح صحیح سالم باہر نکل سکیں گے؟ انہیں پہلے کئی ماہ ملک میں رہ کر حقائق کا مشاہدہ کرنا چاہئے تھا پھر اس کی روشنی میں پاکستانی قوم کے روبرو حل پیش کرتے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا ابھی پاکستان کے سیاست دانوں، مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں کے سا تھ پرسنل رابطہ اور ذاتی ملاقاتوںکی صورت میں مزاج شناسی اور فکری آگاہی نہیں ہے، نہ ہی انہوں نے ملک کی کی بڑی دینی و سیاسی تحریک میں حصہ لے کر حصول مقصد کی خاطر قید و بند کی تلخیاں برداشت کی ہیں، وہ چونکہ1951ءکو جھنگ میں پیدا ہوئے ہیں، اِس لئے انہیں پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی تحریک ختم نبوت (1953ئ) کے مشاہدے کا موقع بھی نہیںمل سکا، جس کی روشنی میں وہ اپنی اس تحریک کا لائحہ عمل تیار کر سکتے تھے اور جلد بازی کے مظاہرے پر ہدف تنقید نہ بنتے! جہاں تک تحریکوں کے نظام کار یا ارتقاءکا تعلق ہے۔ اس سلسلے میںراقم الحروف کو برصغیر کی تحریکات (آزادی، تحریک قیام پاکستان) اور بالخصوص تحریک ختم نبوت1953ءمیں حتی المقدور شرکت اور مشاہدے کا موقع ملا ہے.... یہاں پر مختصراً تحریک ختم نبوت کا تذکرہ اس لئے ضروری سمجھا گیا ہے کہ دورِ حاضر کے محرکین تحریکات کو روشنی میسر آ سکے۔

اس تحریک کے قائدین میںدیو بندی مکتب کے امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری، شیخ التفسیر مولانا احمد علی امیر انجمن خدام الدین لاہور، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی امیر مجلس ختم نبوت اور بریلوی مکتب کے مولانا ابو الحسنات سید محمد احمد قادری خطیب مسجد وزیر خاں لاہور، مولانا عبدالحامد بدایوانی صدر جمعیت علمائے پاکستان تنظیم اہل سنت والجماعت کے مولانا سید نورا لحسن شاہ بخاری،مشائخ عظام میں سے پیر صاحب گولڑہ شریف، پیر صاحب سیال شریف، صاحبزادہ سید فیض الحسن سجادہ نشین آلو مہارشریف اور دیگر عظیم شخصیات کے دوش بدوش پنجاب اسمبلی کے اراکین میںسے مولانا عبدالستار خاں نیازی، قاضی مرید احمد سرگودھا، میاں منظور حسین گوجرانوالہ رانا غلام صابر اوکاڑہ اور نیشنل عوامی پارٹی کے راﺅ مہروز اختر خان شامل تھے۔

اس تحریک میں سینکڑوں مسلمان شہید ہوئے، لاکھوں نے جیل خانے بھر دیئے، حتیٰ کہ جیل کی بارکیں پُر ہو جانے پر قیدیوں کو شامیانوں میں رکھا گیا تھا، نیز سول سیکرٹریٹ لاہور اور دیگر حکومتی محکموں میں زبردست ہڑتال ہوئی، ریل گاڑیوںکے ڈرائیوروں اور محکمہ تار و ٹیلیفون کے کارندوں نے کام چھوڑ دیا تھا۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میںامیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری سے بڑا سحر بیان اور وجد آفریں خطیب اور مقرر آج تک کوئی میدان میںنہیں آ سکا ، نہ ہی ان جیسا سامعین کا مجمع کسی نے دیکھا کہ خطاب سنتے فجر کی اذانیں ہو جاتی تھیں اور مجمع گوش بر آواز ہوتا تھا، نیز اس تحریک کے مطالبات بھی مادی یا سیاسی نوعیت کے نہیں تھے، بلکہ نازک مذہبی جذبات سے متعلق عقیدہ¿ ختم نبوت و ناموس رسالت کے تحفظ کے تھے اور حکمران بھی کوئی دبنگ قسم کا بار عب نہیں، بلکہ مسکین طبع خواجہ ناظم الدین مسلم لیگی وزیراعظم تھا۔ اس کے باوجود تحریک کے تمام رہنما گرفتار کر کے جیل خانوں میں ڈال دیئے گئے اور تحریک کے دو ترجمان اخبارات (روزنامہ زمیندار اورآزاد لاہور) ایک ایک سال کے لئے جبراً بند کر دیئے گئے، ان کے ایڈیٹروں (مولانا ظفر علی خاں کے فرزند مولانا اختر علی خاں اور راقم الحروف مجاہد الحسینی) کو ایک ایک سال کے لئے لاہور سنٹرل جیل میں قید کر دیا گیا تھا۔

اس ہمہ گیر تحریک کے نتیجے میں یہ تبدیلی ضرور عمل میں آئی تھی کہ خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر کے اُن کی جگہ محمد علی بوگرا کو امریکہ سے لا کر وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز کر دیا گیا اور سامراج کے جس ایجنٹ سر ظفر اللہ خاں قادیانی کو ہٹا کر کسی مسلمان کو وزیر خارجہ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اسے پھر محمد علی بوگرا کی کابینہ میں شامل کر کے وزیر خارجہ بنا دیا گیا تھا۔ یہ واقعہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے لئے چشم کشا ہے کہ پاکستان کی عظیم مرتبے کی عبقری شخصیات کی بے مثال جدوجہد ، ایثار و قربانی کے مظاہرے اور پورے ملکی عوام کی زبردست تائید و حمایت کے باوجود کوئی انقلابی تبدیلی رونما نہیں ہو سکی تھی، اس کے مقابلے میں تنہا ڈاکٹر قادری صاحب کا چودہ پندرہ روزہ چیلنج ارباب حکومت پر کیا اثر چھوڑ سکتا ہے؟ لمحہ ¿ فکریہ ہے!

جہاں تک ڈاکٹر قادری صاحب کے خطاب کا تعلق ہے، واقعی مثالی ، جذبات انگیز اور ولولہ انگیز تھا، لیکن فکر و تدبر سے مفقود، وہ پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں، انہیں تنظیم منہاج القرآن کے سربراہ کی حیثیت سے قرآن کریم کے نظام اقتصاد و معیشت کی بابت معلومات فراہم کرتے ہوئے سورہ¿ حشر کی آیت نمبر7 کی تفسیر میں وضاحت کرنی چاہئے تھی کہ اس آیت کریمہ....”کے لایکون دولة بین الاغنیا منکم“.... میں دولت و سرمایہ۔ حکومت و اقتدار کے اختیارات کسی ایک جماعت اغنیا(سرمایہ دار) یاا فرا د میں مرکوز کر دینے کی ممانعت کر دی گئی ہے، تاکہ دولت و سرمایہ چند دولت مندوں کے مابین ہی گردش نہ کرتا رہ جائے۔ نیز پاکستان کے دستور میں بھی یقین دلایا گیا ہے کہ کتاب و سنت کے خلاف کوئی قانون وضع نہیں کیا جائے گا، جبکہ مروجہ انتخابی نظام ہی سرا سر خلاف قرآن و سنت ہے۔

 ایسے حالات میں قادری صاحب نے نہ تو انتخابی نظام پیش کیا ہے اور نہ ہی اپنے انقلابی پروگرام کے خدوخال واضح کئے ہیں۔ انہوں نے تنہا اور اکیلے ہی 10،14جنوری کی تاریخیں مقرر کر کے40لاکھ افراد کو اسلام آباد پر چڑھائی کر دینے کا چیلنج کیا ہے۔ گویا منہاج القرآن کے صدر اور ”شیخ الاسلام“ کے طغریٰ سے ملقب ایک مذہبی رہنما نے پاکستان کے آئین و قانون سے ہٹ کر غیر قانونی اور غیر اسلامی طریقہ اختیار کر کے ”جبر و ا کراہ“ کو ذریعہ انقلاب قرار دیا.... وہ بھی ملک میں خون خرابے کے حالات پیدا کرنے کے در پے ہے، حالانکہ ان کی مذہبی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے موجودہ نظام کو تبدیل کر نے کے لئے واضح صورت میں اپنامنشور عوام کے سامنے پیش کریں کہ وہ لوگوں کا معاشی مسئلہ حل کرنے کے لئے دولت و سرمائے کی غیر منصفانہ اور غیر اسلامی تقسیم ختم کر کے تمام لوگوں کو از سر نو اس طرح حق دار بنائیںگے۔ نیز بڑے بڑے جاگیرداروں سے اُن کی جائز ضروریات سے فالتو زمینیں واپس لے کر ہاریوں اور کسانوں میں کیسے تقسیم کر کے زمین کا مالک بنائیں گے؟.... جبکہ پاکستان کے مروجہ انتخابی نظام میں تو موروثیت کار فرما ہے۔ اگر کوئی شخص ایک بار اسمبلی کا رکن بن جائے تو پھر اس کی وراثت قرار پاتی ہے اور جس کے پاس دولت و سرمائے کی ریل پیل ہو گی، وہی الیکشن میںحصہ لینے کا حق دار قرار پاتا ہے۔

 الیکشن کمیشن کی طرف سے اگرچہ ضابطہ اخلاق کے تحت ہر امیدوار کے لئے ہزاروں روپے کے اخراجات کا تعین کیاگیا ہے، لیکن امیدواروں کے حمایتیوں اور رشتہ داروں کے ناموں سے جو اخراجات بروئے کار آتے ہیں، وہ کسی شمار قطار میں نہیں ہوتے اسی طرح الیکشن ایک ڈرامہ ہیں، جن میں صرف سرمایہ کامیاب ہوتا ہے، کوئی شخص اور بندہ نہیں۔ دوسرا فیکٹر برادری، قبیلہ اور پارٹی ہے، شخصی صلاحیت اور تجربہ نہیں، ایسے ناگفتنی حالات میں طاہر القادری صاحب بیک”جنبش ہونٹ“ کیونکر انقلاب لا سکتے ہیں؟ البتہ اس سلسلے میں بیک ”جنبش قلم“ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور بیک ”جنبش اسلحہ“ فوج کا سربراہ اگرچہ فریضہ انجام دینے کی قدرت رکھتے ہیں، لیکن قوانین و ضوابط کا احترام ایسے اقدام پر مانع ہے۔ جناب ڈاکٹر طاہر القادری نے کینیڈا کی شہریت حاصل کر کے اگر کسی غیر ملکی طاقت سے خفیہ طور پر کوئی ڈیل کر رکھی ہے اور وہ چند روز کے اندر اندر کوئی سکون افزا انقلاب برپا کرنے کا معجزانہ اقدام کر سکتے ہیں تو....” چشم ما روشن دل ِ ماشاد“.... البتہ ہمیں تو قادری صاحب کی اس ناتجربہ کاری میں فتنے، فساد اور خون خرابے کی چنگاریاں بھڑکتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس سے متوقع الیکشن کی بساط الٹنے کے ساتھ ساتھ عزیز ہم وطنو! اور بوٹوںکی چاپ بھی سنائی دے رہی ہے، قادری صاحب کو یہ ضرور یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ملک میں کوئی ناگفتنی صورت نمودار ہو گئی، تو اکیلے نئے شیخ الاسلام ہی نہیں، تمام مذہبی جماعتیں اور علمائے کرام ہمیشہ کے لئے بدنام اور مطعون ٹھہریں گے۔

مزید :

کالم -