لانگ مارچ.... پس منظر اور پیش منظر(1)

لانگ مارچ.... پس منظر اور پیش منظر(1)
لانگ مارچ.... پس منظر اور پیش منظر(1)

  

ماہِ گزشتہ کا ایک اہم واقعہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا مینار پاکستان کی گراو¿نڈ میں جلسہ عام تھا۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ دعویٰ کہ حاضرین20 لاکھ ہیں، نہ بھی مانا جائے، تب بھی اس سے انکار ممکن نہیں کہ شرکائے جلسہ لاکھوں میں تھے اور یہ بہت غیر معمولی اجتماع تھا۔ شاید اسی لئے میڈیا نے اسے غیر معمولی کوریج دی۔ ڈاکٹر قادری کی یہ دھمکی تو تقریباً سبھی اخبارات نے لیڈکے ساتھ نمایاں کی کہ 14 جنوری تک اگر اصلاحات نافذ نہ کی گئیں تو 4 ملین یعنی چالیس لاکھ افراد اسلام آباد کارُخ کریں گے۔ اس کے بعد ایم کیو ایم نے بھی کراچی میں ایک بڑا اجتماع کیا، جس میں ان کے قائد الطاف حسین نے قدرے زیادہ بلند آہنگی کے ساتھ طاہر القادری کی مہم جوئی کی حمایت کا اعلان کیا۔

23 دسمبر کے بعد سے اب تک ڈاکٹر قادری کا خطاب، ہر حلقے میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ سیاستدان بھی بول رہے ہیں۔ کالم نگار بھی اپنے تاثرات بیان کررہے ہیں اور تجزیہ نگار بھی تجزیوں کے انبار لگا رہے ہیں۔ کوئی ان جلسوں میں انتخابات ملتوی کرانے کا ایجنڈا دیکھ رہا ہے۔ کوئی اسے دیوانے کی بڑ قرار دے رہا ہے اور کوئی ڈاکٹر قادری کے ماضی کو کھنگالنے میں مصروف ہے۔ کوئی اس طرف دھیان نہیں دے رہا کہ کراچی اور لاہور کے اجتماعات دراصل کرپٹ معاشی اور سیاسی نظام کے خلاف ناپسندیدگی کا غیر معمولی اظہار ہےں۔ جب کسی معاشرے پر طبقاتیت کا عذاب اس حد تک مسلط ہو جائے، جیسا کہ ہمارے ہاں ہو چکا ہے تو پھر الطاف حسین، ڈاکٹر طاہر القادری ایسے لوگوں کا پیدا ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ تاریخ کے سٹیج پر بار بار یہ ڈراما دہرایا جا چکا ہے، لیکن ہمارے ہاں چونکہ تاریخی شعور معدوم ہے اور تاریخ بھی وہی پڑھائی جا رہی ہے جو ہمارے خود غرض اور مفاد پرست ارباب اقتدار اور ان کے بیرونی آقاو¿ں کو پسند ہے اس لئے سوچ کا یہ زاویہ کہاں سے پیدا ہو۔

 قرونِ اولیٰ کے مسلمان مجاہدین ایران اور روم ایسی بڑی سلطنتوں کو گرانے میں اس لئے کامیاب ہوگئے تھے، کیونکہ وہاں بادشاہوں اور امیروں وزیروں کی عیش پسندی نقطہءعروج کو پہنچ گئی تھی۔ خسرو پرویز نے حضور سرور کائنات کے نامہءمبارک کو چاک کر کے تبدیلی کی رفتار کو بلاشبہ تیز تر کر دیا تھا، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ اس وقت کا ایرانی کسان اور چھوٹے چھوٹے پیشوں سے وابستہ لوگ بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کی وجہ سے بدحالی کی زندگی گزار رہے تھے۔ زمیندار اور جاگیردار، مزارعین کو جبرو تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔ کوئی دروازہ نہ تھا، جہاں مظلوم عوام ظلم کے خلاف دستک دے سکتے۔ بادشاہ اور اس کے امیروں، وزیروں کو اپنے بے پناہ اسلحے اور فوجوں کی کثرت پر بہت بھروسہ تھا۔ وہ عربوں کے دریدہ لباس اور ٹوٹی ہوئی نیاموں کا مذاق اُڑاتے تھے، لیکن یہ سوچنے پر تیار نہ تھے کہ خود تاریخ ان کے چہروں پر کتنا بڑا طمانچہ انہی مفلوک الحال لوگوں کے ہاتھوں سے لگوانے والی تھی۔ مدائن کا معرکہ جیت کر مسلمان ایرانی شہنشاہوں کے محلات میں داخل ہوئے تو خزانوں کے انبار دیکھ کر ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ظاہر ہے وہ ساری دولت عوام کے ٹیکسوں سے جمع کی گئی تھی۔

یہی حال رومیوں کا تھا۔ امیر وزیر اور جرنیل تو ملکی فتوحات میں ہاتھ لگنے والے مال غنیمت اور عوام پر تھوپے گئے بھاری ٹیکسوں پر داد عیش دے رہے تھے، لیکن عوام پر اقتصادی بوجھ بڑھتا جا رہا تھا۔ رُومی امراءلذیز سے لذیز تر کھانوں کے جنون میں مبتلا تھے۔ جب وہ ایک لذیز ڈش کھا کر فارغ ہوتے تو دوسری ڈش کی خوشبو ان کی اشتہا کو بڑھانے لگتی۔ پھر وہ مور کا پر حلق میں پھیر کر پہلی والی ڈش اُگل دیتے اور نئی کی طرف ہاتھ بڑھا دیتے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کا کام ان کے نزدیک اتنا غیراہم ہوگیا تھا کہ اسے غلاموں کے سپرد کر دیا تھا۔ سیاست میں اخلاقی قدروں کی پامالی کا یہ عالم تھا کہ عین سینٹ کے اجلاس کے دوران شہنشاہ سیزر کو اس کے نزدیکی دوست بروٹس نے خنجر گھونپ دیا۔ اگرچہ سیزر کا جُملہ ”یوٹو بروٹس“ شیکسپیئر کی محض تخلیقی اُپج کا نتیجہ ہے، لیکن آج اسے حقیقت سے بعید نہیں سمجھا جاتا۔ کیونکہ جب کوئی معاشرہ زوال کی منزلوں میں ہوتا ہے تو پھر عزیز سے عزیز دوست بھی آنکھیں پھیر لیتے ہیں، بلکہ ذلت کے گڑھے میں دھکیلنے سے گریز نہیں کرتے۔ آج ہمارے ہاں بروٹس ایسے طوطا چشم اور بے وفا سیاستدانوں کی بہت بڑی فصل پک چکی ہے۔ ان کے نزدیک آئے روز وفاداریاں تبدیل کرنا قطعاً معیوب فعل نہیں۔ ان کا یہ رویہ نہایت افسوسناک ہے اور ممکن ہے تھوڑے عرصے بعدعبرتناک بھی ہو جائے۔ ان کی ڈکشنریوں میں اصول، قانون اور وعدے کے الفاظ کے وہ معنی ہی نہیں جوہمارے غریب عوام آج تک سمجھتے آئے ہیں۔

برصغیر کی تاریخ کے نشیب و فراز بھی یہی گواہی دیتے ہیں۔ مسلمان جب یہاں آئے تو اس وقت برہمنوں نے بُدھ مت کے پیروکاروں کا جینا حرام کررکھا تھا۔ وہ غریب نہ اچھے کپڑے پہن سکتے تھے، نہ گھوڑے کی سواری کر سکتے تھے اور نہ ذلت کی زندگی سے نجات پانے کے لئے کوئی راستہ تلاش کر سکتے تھے۔ محمد بن قاسم نے جب شہر دیبل کا محاصرہ کیا تو انہی مقہور اور ستم رسیدہ بُدھوں نے آگے بڑھ کر مخبری کی اور مسلمانوں کو وہ کمزور پوائنٹ بتائے، جہاں پر ضرب لگا کر شہر کو فتح کیا جاسکتا تھا۔ تاریخ اس بات کی کھلی گواہی دیتی ہے کہ محمد بن قاسم نے سندھ فتح کرنے کے بعد انہیں بدھوں پر عزت کی زندگی کے دروازے اس طرح وا کر دئیے کہ ان میں سے بے شمار نے اسلام قبول کر لیا۔ جب محمود غزنوی کے لشکروں نے ہندوستان کا رُخ کیا تو اس وقت یہاں حالات یہ تھے کہ کشتری راجوں اور برہمنوں کے محلات دولت سے بھرے ہوئے تھے۔ راجے کی سیاست اور برہمن کی مذہبیت نے باہم یوں گٹھ جوڑ کر لیا تھا کہ محنت کش ویشوں اور بدنصیب شودروں کے لئے سانس لینا دشوار ہوگیا تھا۔ بڑے بڑے زمیندار اور جاگیردار کسانوں کی فصل کا بڑا حصہ چھین لیتے اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہ ہوتا، کیونکہ قانون کے محافظ تو برہمنوں سے ملے ہوتے تھے۔

متعصب ہندو سکالر سلطان محمود غزنوی کو تو لُٹیرا، ڈاکو اور معلوم نہیں کیا کیا خطابات دیتے ہیں، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ اس وقت ہندی معاشرے کے نچلے طبقات کا کس قدر استحصال ہو رہا تھا۔ ہندوستان کے راجے کئی بار اپنی متحدہ فوجی طاقت میدان میں لائے، لیکن محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری کے لشکروں کے سامنے ان کی ایک نہ چلی۔ حالانکہ مسلمانوں کے لشکر ہندوستانی لشکروں کے مقابلے میں کہیں کم تعداد میں ہوتے تھے۔ تفصیل میں جانا ممکن نہیں، ورنہ مَیں یہاں اس دولت کی تفصیل بتاتا جو غزنوی کو مقامی استحصالی طبقوں کے قبضے سے حاصل ہوئی۔ آج کون نہیں جانتا کہ سومنات کے مندر میں دولت کے کتنے انبار تھے جو غزنوی کے ہاتھ لگے اور وہ سب سمیٹ کر غزنی لوٹ گیا۔ اگر وہ اسی دولت کو ہندوستان کے غریب اور مفلوک الحال نچلے طبقوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتا تو بعید نہ تھا لاکھوں لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو جاتے ، لیکن غزنوی کی دولت کی حرص کا کوئی کنارہ نہ تھا۔ مسلمان مو¿رخین بتاتے ہیں کہ وفات سے قبل غزنوی نے تمام خزانوں کے ڈھیر اپنے سامنے لگوائے اور انہیں دیکھ کر دھاڑیں مار کر رویا۔ ایک دفعہ اس کے سامنے ایک بہت امیر کبیر آدمی پیش کیا گیا، جس سے غزنوی نے پوچھا: کیا تم زندیق ہو؟.... اس نے جواب دیا، میری زندیقیت کے بارے میں آپ کیا پوچھتے ہیں، میرے پاس تو اصل میں چند نہایت قیمتی لعل و جواہر ہیں جو مَیں آپ کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے بے چین ہوں۔ چنانچہ اس نے وہ لعل و جواہر پیش کئے اور اسے مسلمانی کاباقاعدہ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا۔

سلطان محمود غزنوی نے اردگرد کی سینٹرل ایشیئن ریاستوں اور ہندوستان سے حاصل ہونے والی دولت سے غزنی شہر کو عروس البلاد بنا دیا، لیکن غزنوی سلطنت کو زوال آیا تو علاو¿ الدین خلجی نے اسی عروس البلاد کو یوں نذرِ آتش کیا کہ کئی ہفتوں تک شہر پر دھوئیں کے بادل چھائے رہے۔ شہر کی ساری رونقیں قصہءپارینہ بن گئے۔ اسی لئے مو¿رخ اسے عُلاو¿ الدین جہاں سوز، کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

مغل سلطنت کے معاملات بھی مختلف نہ تھے۔ ان کے ہاں طاقت کے ڈھانچے میں مقامی ہندی اقوام کے لئے کوئی جگہ نہ تھی، کیونکہ انہیں کم تر سمجھا جاتا تھا۔ ریاست کے تمام بڑے عہدے سینٹرل ایشیاءکا پس منظر رکھنے والوں کے لئے وقف ہوتے تھے۔ صرف جلال الدین اکبر کے دور میں مقامی لوگوں کے لئے کچھ دروازے کھلے تھے۔ اگر ہم اس وقت کے سیاسی نظام کا جائزہ لیں تو صاف نظر آئے گا کہ کرپشن کا آغاز امراءکے ہاتھوں سے ہوا۔ دربار داری کے اصولوں کے تحت انہیں مختلف تقاریب کے مواقع پر بادشاہ کے حضور قیمتی تحائف پیش کرنے پڑتے، جن کی وجہ سے وہ خود خالی جیب ہو جاتے اور انہیں رشوت پر گزارہ کرنا پڑتا۔ یہی وجہ ہے کہ اورنگ زیب نے کئی شاہی تقاریب پر پابندی لگا دی۔ شاہجہان نے تاج محل کی تعمیر پر لا کھوں روپیہ صرف کر دیا، جس سے ملکی خزانہ خالی ہوگیا۔ مغلوں کے زوال کے دور کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم حضرت شاہ ولی اللہ کی تحریریں دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ وہ جگہ جگہ تمام طبقات کی کوتاہیوں، عیش کوشیوں اور شاہ خرچیوں پر ملامت کرتے اور انہیں ان کے اصل فرائض یاد دلاتے نظر آتے ہیں۔ (کاش ہمارے منبر و محراب کے وارثین اوپر والوں کی شہ خرچیوں کو جمعہ کے خطبات میں موضوع بنانا سیکھ لیں)۔(جاری ہے)

بڑے مغل بادشاہوں کے دور ہی میں سکھ تنازعہ شروع ہوا۔ پانچواں گورو ارجن دیو جہانگیری عہد میں گرفتار ہوا اور مارا گیا۔ سکھوں نے اپنے آپ کو مسلح کرنا شروع کر دیا۔ جگہ جگہ قلعے تعمیر کرائے اور مغل فوجوں سے مقابلہ شروع کر دیا۔ نویںگوروتیغ بہادر کو باقاعدہ عدالت ہی میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ دسویں گورو، گورو گوبند سنگھ کے ساتھ جگہ جگہ فوجی ٹکراو¿ ہوا۔ اس کے جانشین بندہ بیراگی نے پنجاب کا امن جس طرح برباد کیا، اس سے تاریخ کے صفحات خون سے لتھڑے نظر آتے ہیں۔ بندہ سکھ جتھوں کے ساتھ مسلمان بستیوں پر حملہ آور ہوتا، بچوں اور عورتوں کو ذبح کرتا، گھروں اور خزانوں کو لُوٹتا اور عمارتوں کو آگ لگا دیتا۔ مغل فوج موقع پر پہنچتی تو اتنی دیر میں وہ جنگلوں میں روپوش ہو جاتا۔ پنجاب کے عوام مغل دربار میں دھاڑیں مار کر روتے اور مصائب کی داستانیں سناتے تو درباریوں کی آنکھیں بھی تر ہو جاتیں۔ بالآخر فرخ سیر کے زمانے میں بندہ اپنے کئی سوساتھیوں کے ساتھ گورداس ننگل کے قلعے سے گرفتار ہوا۔ اس کے 750 ساتھیوں کو تو لاہور کے گورنر نے کیفر کردار تک پہنچایا، لیکن خود اسے دہلی بھیج دیا ، جہاں اسے اور اس کے چار سالہ بچے کو برسرِ دربار اذیتیں دے دے کر مار دیا گیا، لیکن اتنی دیر میں تباہی اور بربادی کے طوفان نے ایک نئی شکل اختیار کر لی۔

جنوبی ہند میں مرہٹے اور شمالی ہند میں سکھ، دو ایسے گروہ تھے جو روز بروز طاقت پکڑتے گئے۔ مغل حکومت سے بغاوت کر کے خود مختاری کے مزے لوٹنے والی ریاستیں میسور، بنگال اور حیدر آباد مرہٹوں کا مقابلہ کرتے کرتے تھک گئیں۔ ابدالی نے وقتی طور پر مرہٹوں کو پانی پت کے میدان میں شکست دے کر کمزور ضرور کیاا ور مغل تخت ان کی دستبرد سے بچ گیا، لیکن مرہٹوں کی یلغار کا کوئی مستقل بندوبست نہ ہو سکا۔ وہ جب چاہتے دہلی آتے، شاہی محلوں کے اندر داخل ہوتے خواتین کو سر کے بالوں سے گھسیٹتے اور پوچھتے، بتاو¿ دولت کہاں کہاں چھپا رکھی ہے؟.... اسی زوال کے دو رمیں بنگال کے نواب علی وردی خان نے اپنے نواسے سراج الدولہ کی شادی جس دھوم دھام سے کی، وہ واقعات قاری کو تعجب میں ڈال دیتے ہیں کہ ان بُرے دنوں میں اتنی دولت کہاں سے آئی؟ اس جشن میں جتنی رسوم ادا کی گئیں ان کی تفصیلات مو¿رخ کئی صفحات میں بیان کرتا ہے۔ یہی دولت مرہٹوں کی حرص بڑھاتی رہی۔ دولت اور اختیارات کی بڑھتی ہوئی حرص ہی بظاہر وفادار نظر آنے والے امراءکو بِک جانے پر آمادہ کرتی رہی۔ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں میر جعفر اور میر صادق کہاں سے آگئے؟.... جواب یہ ہے کہ جب کسی معاشرے میں اونچے طبقات کی حرص تمام حدود پھلانگ جاتی ہے اور عوام دو وقت کی روٹی کو ترسنے لگتے ہیں تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے۔ پنجاب میں سکھ حکومت کے قیام کی بنیاد انہیں حالات میں پڑی۔ لاہور کے عوام (بلا استثنیٰ ہندو، سکھ اور مسلمان) تین سکھ بھنگی بھائیوں کی لوٹ مار سے سخت تنگ تھے۔ چنانچہ انہوں نے رنجیت سنگھ کو لاہور پر قبضہ کرنے کی دعوت دی۔ رنجیت سنگھ کی حکومت اس وقت تک صرف گوجرانوالہ اور اس کے گردو نواح تک محدود تھی۔ 1799ءمیں ایک سازش کے تحت لاہور کے دروازے رنجیت سنگھ کے لشکر پر کھل گئے۔ اس کے بعد پھر اس کی حکومت ملتان سے ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور تک قائم ہوگئی۔ بعد ازاں کشمیر پر بھی اس نے قبضہ کر لیا۔

قیامِ پاکستان کی راہ اس طرح ہموار ہوئی کہ برطانوی اقتدار تلے ہندو معاشی اور تعلیمی طور پر روز بروز طاقتور ہو رہے تھے۔ ہندو بنیے مسلمان کسانوں کو قرضے دیتے، جنہیں مسلمان شادی بیاہ کی فضول رسموں پر بے دریغ لٹا کر بالآخر اپنی رہن کھی زمینوں سے محروم ہو جاتے۔ مارکیٹوں میں حال یہ تھاکہ کوئی مسلمان دکان کھولتا توگردوپیش کے ہندو تاجر قیمتیں کم کر کے اس مسلمان دکاندار کو اتنا بے بس کر دیتے کہ اسے بالآخر بھاگتے ہی بنتی۔ ملازمتوں میں بھی یہی حال تھا۔ ہندو مسلمانوں کو مختلف حیلوں بہانوں سے ملازمتوں میں آنے نہ دیتے۔ ہندوو¿ں کا کاروباری طبقہ اپنے مفادات کی خاطر کانگریس پارٹی کی اچھی خاصی مالی معاونت کرتا تھا۔ گاندھی نے جب غیر ملکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی تحریک شروع کی تو اس کو مقامی ہندو کاروباری طبقے نے بھرپور سپورٹ کیا۔ اس وقت کے وہ جاگیردار اور زمیندار جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد کی سیاست پر قبضہ جمایا، بہت بے حس تھے۔ وہ اس وقت تک قیام پاکستان کی تحریک میں شامل نہ ہوئے، جب تک کانگریس کا یہ واضح اعلان نہ سن لیا کہ آزادی کے بعد جاگیرداریاں ختم کر دی جائیں گی۔ (جو انہوں نے آزادی کے سال بھر بعد ہی ختم کر دیں) افسوسناک امر یہ ہے کہ اس طبقے نے لاکھوں لُٹے پُٹے مہاجرین کی آباد کاری میں کوئی خاص دلچسپی نہ لی، حالانکہ اگران کے دلوں میں ذرا بھی انسانی ہمدری ہوتی تو ان ستم رسیدگان کو اچھے طریقے سے آباد کرنا کوئی مشکل کام نہ تھا۔

پاکستانی جاگیرداروں نے دستور سازی کو کبھی سنجیدہ عمل نہ سمجھا۔ وہ بیورکریسی سے گٹھ جوڑ کر کے صرف پارٹیاں بدلتے اور نئے کاروباری ماحول میں زیادہ سے زیادہ مراعات سمیٹنے کی فکر میں لگے رہتے تھے۔ ایوب خان کے دور میں جرنیلوں، جاگیرداروں اور نئے کاروباری طبقے میں باہم رشتے داریاں بھی بڑھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو جاگیریں ختم کرنے اور مزدوروں کو ان کے حقوق دلانے کے وعدے کے ساتھ پارلیمینٹ میں آئے، لیکن بالآخر وہ بھی وعدے کے جھوٹے نکلے۔ آخری دور میں ان کے وزیر مشیر جاگیردار اور سرمایہ دار ہی تھے۔ جب بھٹو پر آزمائش کا وقت آیا تو یہ سب طوطا چشم نکلے۔

اس میں کیا شک ہے کہ پاکستان میں غیر جمہوری قوتیں ہی زیادہ وقت اقتدار پر بلکہ تمام ملکی وسائل پر قابض رہیں۔ ملک کو توڑنے، سامراجی ملکوں سے بے دریغ قرضے لینے اور بے شمار جرائم میں ان قوتوں کے ملوث ہونے کے بہت کھلے کھلے شواہد ملتے ہیں۔ جب ان قوتوں نے جمہوریت کو راستہ دیا تو پھر بھی نہ اپنی مراعات پر زد آنے دی اور نہ اختیارات پوری طرح سول لوگوں کو منتقل کئے۔ ان قوتوں نے ہمیشہ سول لوگوں کو مختلف حیلوں سے شریک اقتدار کر کے خود بھی جی بھر کر لوٹ مار کی اور ان میں سے بھی بہت سوں کو اسی راستے پر لگائے رکھا۔

جب میں جی بھر کر لوٹنے کی بات کرتا ہوں تو اس میں رتی بھر مبالغہ نہیں۔ کوئی بیس بائیس سال پہلے تک کسی کرپٹ افسر، جاگیردار اور سرمایہ دار کا نام سامنے نہیں آتا تھا۔ اخبارات میں جب کبھی کسی بڑی بدعنوانی کی خبر چھپتی تو ان الفاظ کے ساتھ کہ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔ آہستہ آہستہ نام بھی سامنے آنے لگے بلکہ ضخیم کتابیں لکھی جانے لگیں کہ اس بہتی گنگا میں کس کس نے ملکی خزانے کو کس کس شکل میں نقصان پہنچایا ہے۔ آج پاکستان میں ایسی صحافتی کتابوں کی بھر مار ہے، جس میں اونچے طبقات کی لوٹ مار کی داستانیں رقم ہیں، لیکن ان کا محاسبہ کرنے والا کوئی بھی نہیں۔ محاسبے کے نام سے جتنے محکمے بنائے گئے ان کی کارکردگی صفر ہے، بلکہ وہ خود کرپشن میں ڈوب گئے ہیں۔سول اور فوجی، دونوں طرح کی حکومتیں عوام کی اشک شوئی اس طرح کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ سرکاری ملازمین کو ہر بجٹ میں کچھ ریلیف دے دیتی ہیں، لیکن ان لاکھوں، کروڑوں افراد کا کچھ نہیں سوچا جاتا، جو پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمتیں کرتے ہیں، جہاں نہ انہیں اپائنمنٹ لیٹر ملتا ہے، نہ کوئی بونس ملتا ہے، نہ مہنگائی الاو¿نس ملتا ہے، نہ علاج کے لئے کوئی سہولت ملتی ہے اور نہ ترقی کا کوئی طریق کار طے کیا گیا ہے۔ مالکان جب جی چاہے سو پچاس یا دو چار سو روپے بڑھا دیتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ملازمتوں کے جو قواعد طے شدہ ہیں، ان پر کہیں عمل نہیں کیا جاتا۔

گیس، بجلی اور پانی کی عدم فراہمی اپنی جگہ کم عذاب نہیں، مگر یوٹیلٹی بلز جس طرح قیامت بن کر صارفین کے ہوش اڑاتے ہیں، وہ ایک الگ المیہ ہے۔ تعلیم کا حال یہ ہے کہ مراعات یافتہ طبقات نے اپنے بچوں کے لئے اونچے معیار کے سکول، کالج اور یونیورسٹیاں قائم کروا رکھی ہیں۔ انہیں قطعاً گوارہ نہیں کہ ان کے بچے غریب بچوں کے ساتھ بیٹھ کر تعلیم حاصل کریں۔ امیر سکولوں میں اے لیول اور او لیول کی جو تعلیم دی جاتی ہے۔ ان کی کتابیں کیمبرج اورآکسفورڈ کی چھپی ہوتی ہیں۔ ان بچوں کے امتحانات بھی برطانیہ کی مذکورہ یونیورسٹیاں ہی لیتی ہیں، ان کی داخلہ فیس کوئی درمیانے درجے کا پاکستانی ادا ہی نہیں کر سکتا۔ پاکستان کے ان مراعات یافتہ طبقات سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ تم جب بچوں کے لئے برطانیہ کی چھپی ہوئی کتابیں خریدتے ہو اور امتحانات دلواتے ہو تو کیا ملکی پیسہ باہر نہیں چلا جاتا؟.... غضب یہ کہ مالی فائدہ اس طاقت کو پہنچایا جاتا ہے، جس نے ہمیں دو سو سال تک غلام بنائے رکھا اور جو طاقت آج بھی ہماری بے شمار داخلہ اور خارجہ پالیسیوں میں پوری طرح دخیل ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان کارروائیوں کو حب الوطنی کا نام دیا جا سکتا ہے؟ آخر ان کی ڈکشنری میں حُب الوطنی کس چڑیا کا نام ہے؟

ہمارے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خاں کے قتل میں اس مذکورہ بیرونی طاقت کا کردار بہت نمایاں تھا۔ یہ سامنے کی حقیقت ہے کہ ہمارے اپنے سالار اعلیٰ نے امریکہ کو پاکستان میں فوجیں اتارنے اور ہمسایہ برادر ملک افغانستان پر کارپٹ بمباری کرنے کا موقع دیا۔ لال مسجد اسلام آباد میں بچوں اور خواتین کو جس بے دردی اور سنگدلی کے ساتھ گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اس نے مشرقی پاکستان میں کئے گئے ملٹری آپریشن کی یاد تازہ کر دی۔ اس کے بعد عدلیہ پر جو وار ہوا تو کیا یہ سب کچھ اس حقیقت کی غمازی نہیں کرتا کہ ہمارے حکمران طبقات عوام کی رائے اور مفاد کو پرکاہ کی اہمیت نہیں دیتے۔ انہیں یا تو ہر وقت اپنے طبقاتی مفادات کی فکر لاحق رہتی ہے یا وہ عوام کو نئے سے نیا فریب دینے کے منصوبے باندھتے رہتے ہیں۔ کیا عوام دیکھ نہیں رہے کہ سیاست پر چند خاندانوں ہی کو اجارہ داری حاصل ہے۔ وہ اپنی پارٹیوں کے متوسط اور غریب طبقے کے کارکنوں کو ٹکٹ ہی نہیں دیتے۔ اس طرح سے تبدیلی کا راستہ ایک مدت سے رُکا ہوا ہے۔ اس حوالے سے کیا اصلاحات ہونی ضروری نہیں؟

مَیں ابھی ابھی پائنا اور پنجاب یونیورسٹی کے مشترکہ پروگرام بعنوان ”بلوچستان، ایک قومی مسئلہ“ کی پہلی نشست سے اٹھ کر آیاہوں۔ بلاشبہ تفہیم مسائل کے سلسلے میں یہ ایک اچھی کوشش تھی۔ دلچسپ بات مجھے یہ لگی کہ مسائل تو تمام مقررین نے وہی بیان کئے، جن کی نشاندہی ہمارے دانشور اکثر کرتے ہیں، لیکن ان مسائل کے حل کے ضمن میں سبھی مقررین نے بے بسی کا اظہار کیا۔ جن غیر جمہوری قوتوں کی بے لگامی کے باعث بلوچستان ایک عرصے سے بدامنی، بے سکونی اور قتل و غارت گری کا شکار چلا آ رہا ہے، ان کا کھل کر نام لینے سے کئی مقررین گریزاں تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ سامعین اتنے باشعور اور بالغ نظر تھے کہ کسی نے بھی سوال نہیں کیا کہ ان قوتوں کا نام لینے میں کیا حرج ہے؟ 1969ءمیں عوامی سیلاب کو یحییٰ خان نے مارشل لاءلگا کر وقتی طور پر روک تو لیا لیکن نتائج کتنے بھیانک نکلے! آج ایک بار پھر اونچے طبقات میں لانگ مارچ سے کھلبلی مچ گئی ہے۔ قانونی اور دستوری نکات اٹھائے جار ہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور ایم کیو ایم کے قائد سے ملاقاتیں شروع ہوگئی ہیں کہ وہ اپنا اصل پروگرام بتائیں، یعنی وہ سارے پتے نکال کر ارباب اختیار کے سامنے رکھ دیں۔ مجھے نہیں معلوم کل کیا ہوگا، البتہ میرا وجدان محسوس یہی کرتا ہے کہ اب روایتی قاعدوں ضابطوں سے بات آگے نکل گئی ہے۔ جس انقلاب کی خادم اعلیٰ پنجاب روز دہائی دیتے تھے، اب وہ دہلیز پر آن کھڑا ہوا ہے، دعا کریں اللہ خیر کرے! کیونکہ ہمارے بالادست طبقات آسانی سے عوام کے ریلے کے سامنے ہھتیار ڈالنے والے نہیں ہیں۔ ویسے ہتھیار وہ ڈال بھی دیتے ہیں، لیکن اپنوں کے سامنے نہیں، غیروں کے سامنے!

اس کرپٹ نظام کے پاسدار بار بار سوال اٹھاتے ہیں کہ پہلے کبھی اصلاحات کے لئے آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ یعنی عوام نے اگر کبھی آواز اٹھانی ہو تو وہ بدعنوان اور بے حس ارباب اختیار سے پوچھ لیا کریں، ان سے اجازت ملے تو پھر زبان کھولیں۔ مشرقی پاکستان کے ستم رسیدگان کا بھی یہی معاملہ تھا۔ اگر اقتدار انہیں منتقل نہیں ہو رہا تھا تو وہ بدستور صبر اور تحمل کا پیکر بنے رہتے، نہ کوئی شکوہ زبان پر لاتے اور نہ سڑکوں پر نکلتے، نکلتے تو چپ چاپ گولیاں کھا کر اپنا لہو خاک کا رزق بنا دیتے۔ بھارت نے اگر مداخلت کرنی ہی تھی، تو وہ بھی پہلے پوچھ لیتا۔

مزید :

کالم -