شوکت عزیزوں سے ہوشیار

شوکت عزیزوں سے ہوشیار

  

یادش بخیر!پاکستان کے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے بارے میں خبر آئی ہے کہ وہ دبئی میں سرگرم عمل ہیں، ان کی سرگرمیوں کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ وہ ملک کے اگلے نگران سیٹ اپ میں اپنے لئے کوئی جگہ بنا لیں، ہو سکتا ہے یہ محض قیاس آرائی ہو، لیکن وہ جب سے سابق ہو کر پاکستان سے گئے ہیں انہوں نے کبھی اس ملک کا رخ نہیں کیا جس میں وہ پہلے وزیر خزانہ رہے اور پھر اپنے سرپرست جنرل پرویز مشرف کی مہربانی سے وزیراعظم بن گئے شوکت عزیز جیسے لوگ جن کی کوئی سیاسی بنیاد نہیں ہوتی ہمیشہ اس طرح کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیںجس میں ان کی لاٹری نکل سکے، جب وہ جنرل پرویز مشرف کی مہربانی سے پاکستان کے خزانے کے انچارج بنے تو انہیں وزیراعظم بنانے کی منصوبہ بندی کر لی گئی تھی لیکن مشکل یہ تھی کہ وہ اپنے بل بوتے پر کسی حلقے سے ایم این اے منتخب نہیں ہوسکتے تھے چنانچہ طے شدہ ایجنڈے کے تحت 2002ءکے الیکشن کے بعد پہلے ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم بنایاگیا، پھر ایک مخصوص مدت کے بعد ان سے استعفا لے لیا گیا، چودھری شجاعت حسین کو چالیس روز کے لئے وزیراعظم بنا کر انہیں یہ ٹاسک سونپا گیا کہ وہ شوکت عزیز کو قومی اسمبلی میں منتخب کرائیں چنانچہ انہوں نے اٹک کے حلقے سے اپنے ایک عزیز سے استعفا دلوایا اسی طرح تھرپارکر سے ارباب غلام رحیم نے ایک نشست خالی کروائی اور پھر ان دونوں حلقوں میں ضمنی انتخابات میں شوکت عزیز کو منتخب کروا کر وزیراعظم بنوا دیاگیا، وہ ٹیکنو کریٹ سمجھے جاتے تھے لیکن ان کی ”ٹیکنوکریسی“ ملک کے کسی کام نہ آئی اور ان کے دور میں ہی معاشی بحران کا آغاز ہو گیا تھا، الیکشن کے وقت لوڈشیڈنگ زوروں پر تھی، مسلم لیگ (ق) نے اچھا کیا کہ انہیں دوسری مرتبہ الیکشن لڑنے کے لئے ٹکٹ ہی نہ دی اور وہ مایوس ہو کر اپنے ”اصلی وطن“ کو لوٹ گئے۔

پاکستان میں بار بار یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہ جو نام نہاد ٹیکنو کریٹ ہوتے ہیں یہ صرف مخصوص ایجنڈا لے کردساور سے آتے ہیں اور پھر یہ ایجنڈا پورا کرکے واپس لوٹ جاتے ہیں، پاکستان میں سیاست، خاص طور پر آزمائشوں کے ایام میں سیاست ان کے بس کا روگ نہیں ہوتا، وہ صرف اقتدار کے مزے لوٹ سکتے ہیں، اس لئے ایسے لوگوں کو پاکستان کی سیاست اور اقتدار سے دور رکھنے کی ضرورت ہے، اور نگران سیٹ اپ کے لئے پاکستان کے اندر ہی کسی پر نگاہ انتخاب پڑنی چاہئے ۔

مزید :

اداریہ -