اسلام کے بطل جلیل.... قاضی حسین احمد کا انتقال

اسلام کے بطل جلیل.... قاضی حسین احمد کا انتقال

  

 اسلامی فکر اور نظام کے لئے ساری عمر متحرک اور سرگرم رہنے والے عالم اسلام کے عظیم سپوت ، جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسیں احمد 74برس کی عمر میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ ان کا انتقال اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں ہوا۔ اتوار کے روز اُن کا جنازہ پشاور میں پڑھایا گیا جس کے بعد تدفین زیارت کاکا صاحب نوشہرہ میں کردی گئی۔ مرحوم قاضی حسین احمد7اکتوبر1987ءسے 29مارچ 2009ءتک جماعت اسلامی کے امیر رہے اور اس حیثیت میں انہوں نے مولانا سید ابوالاعلی مودودی کی فکر کے مطابق معاشرے میں اسلامی اقدار اور فکر کی ترویج اور ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے نہایت سرگرمی سے جدو جہد کی۔ ان کی سربراہی میں جماعت اسلامی کی رکنیت اور دائرہ اثر کو وسعت دینے کے لئے بہت سے اقدامات کئے گئے۔ جماعت اسلامی نے کشمیری مجاہدین کی مدد اور روس کے قبضے سے افغانستان کو نجات دلانے کے لئے بھر پور کردار ادا کیا۔ آزاد کشمیر اور سوات کے زلزلے اور دوسرے قومی ابتلا ءکے مواقع پر جماعت کے کارکنوں نے بڑھ چڑھ کر سماجی اور فلاحی خدمات سرانجام دیں۔نوجوانوں اور طالبعلموں میں دینی ذوق پیدا کرنے اور انہیں گمراہی سے بچانے کے لئے تربیتی پروگرام اور سماجی فلاح کے پروگرام ترتیب دئیے گئے۔ ملک میں جمہوریت کو استحکام بخشنے کے لئے جماعت اسلامی کی طرف سے کئی آل پارٹیز کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا۔ جب کویت پر صدام حسین کے قبضہ کے بعد مشرق وسطی میں امریکی مداخلت کے امکانات بڑھ گئے ، اس وقت قاضی حسین احمد نے پاکستان کی تمام پارلیمانی جماعتوں کی نمائندگی پر مشتمل ایک پارلیمانی وفد تشکیل کیا اور صدام حسین کو راہ راست پر لانے اور مسئلے کا حل نکالنے کے لئے تمام اسلامی ممالک کے سربراہوں سے ملاقاتیں کیں۔ قاضی حسین احمد اتحاد عالم اسلامی کے زبردست داعی تھے ۔ان کے دور میں عالمی اسلامی تحریکوں سے جماعت اسلامی کے بھرپور روابط رہے اس طرح پاکستان بھی عالم اسلام سے مضبو ط روابط رکھ سکا۔ قاضی صاحب دو مرتبہ سینٹ کے رکن بھی منتخب ہوئے۔

قاضی صاحب نے پشاور یونیورسٹی سے جغرافیہ میں ایم ۔ ایس ۔ سی ۔ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ تین سال تک سیدو شریف کے کالج میں پروفیسر بھی رہے۔ انہوں نے اور ان کی جماعت نے افغانستان پر روس کے حملے کے بعد پاکستان آنے والے30 لاکھ افغان مہاجرین کی فلاح و بہبود میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے ہمیشہ کشمیری اور افغان مجاہدین کی اخلاقی اور مالی مدد کے لئے حکومت پاکستان پر دباﺅ ڈالا ۔ وہ مولانا ابولاعلی مودودی اور میاں طفیل محمد کے بعد جماعت اسلامی کے تیسرے امیر تھے ، جن کی پوری زندگی اسلام کی سربلندی کے لئے وقف رہی۔ وہ لڑکپن ہی سے اسلامی شریعت کے سختی سے پابند تھے، اور نوجوانوں میں بے راہ روی اور اسلامی شعائر سے دوری سے کڑھتے تھے۔ پیرانہ سالی میں بھی وہ مستعد ی اور سرگرمی سے اسلام اور اپنی جماعت کے لئے کام کرتے رہے۔ ان کی گفتگو ہمیشہ متوازن اور مدلل ہوتی تھی۔ اپنے پیشروﺅں کی طرح انہوں نے ملکی سیاست میں اعتدال اور معقولیت کو فروغ دیا ۔ ان کی خواہش تھی کہ اللہ انہیںاسلام اور عالم اسلام کی بڑی سے بڑی خدمت سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے ۔ وہ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی ہر طرح سے مدد کرنے کے حامی تھے۔ انہیں مسلمانوں کی غربت اور بے بسی سے ہمیشہ بہت دُکھ ہوتا تھا۔ اپنی امارت کے دوران لاہور موجودگی کے وقت وہ منصورہ کی مسجد میں پانچوں وقت کی نماز کی خود امامت کرتے تھے۔ ان کی طبیعت میں سادگی و انکساری کے ساتھ ساتھ عالم اسلام اور کفر کی طاقتوں کے سلسلے میں ایک جلال اور اضطراب بھی تھا، جس نے انہیں زندگی بھر بے چین رکھا۔

قاضی حسین احمد کو قومی سیاست کے تمام حلقوں میں احترام کا مقام حاصل تھا۔ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما ان کی بات پر کان دھرتے اور اسے وزن دیتے تھے۔ ان کی اپنی جماعت کے نوجوانوں میں انہیں بہت مقبولیت حاصل تھی۔ وہ ایک پل بھی چین سے بیٹھنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ ہمیشہ اسلام اور جماعت کے کاموں میں مصروف رہتے۔ ان کا یقین تھا کہ عالم اسلام کی آزمائشوں اور مصائب کے دن تھوڑے ہیں ۔ ہم اپنی جگہ اگر خلوص نیت کے ساتھ اسلام کی خدمت اور قوم کی بھلائی کے لئے سرگرم رہیں، دوسروں کے لئے اچھی مثالیں قائم کریں تو اس کے نتائج ضرور برآمد ہوں گے اس چیز کا دائرہ وسیع ہوتا جائے گا حتی کہ اقوام عالم میں مسلمان خود کو ایک مثالی معاشرے کی حیثیت میں پیش کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ ان کے نزدیک اسلامی فلاحی معاشرے کے لئے صالح نوجوانوں کا مثالی کردار سب سے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ وہ اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور باہم بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے پر زور دیا کرتے تھے۔ محترم قاضی حسین احمد اقبال کے اس شعر کی زندہ تعبیر تھے:

جوش کردار سے شمشیر سکند ر کا طلوع

جوش کردار سے کھل جاتے ہیں تقدیر کے راز

قاضی حسین احمد ملک میں اسلامی افکار اور اقدار کی ترویج ، اور اسلامی نظام حکومت کے نفاذ کی آرزو لے کر ہم سے رخصت ہوگئے ۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے اسی مشن کے لئے وقف کر رکھی تھی۔ اللہ تعالی انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان اور ان کے چاہنے والوں کو صبر جمیل سے نوازے۔

محترم قاضی حسین احمد کو ہماری قومی تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی ۔ انہوں نے اپنی زندگی میں قومی اور عالم اسلام کی سیاست پر جو دُور رس اور مثبت اثرات چھوڑے وہ بھلائے نہیں جاسکتے ۔ تحریک آزادی کشمیر، تحریک آزادی افغانستان اور اتحاد عالم اسلامی کے لئے ان کا سوز دروں اور ولولہ انگیز کام اسلامیان پاکستان کے دلوں پر ہمیشہ نقش رہے گا۔ ان کے چاہنے والے اور ان کے سرگرم کام کی گواہ صرف اُن کی جماعت ہی میں نہیں اس سے باہر بھی موجود ہیں۔ پاکستانی معاشرے کو اسلامی رنگ میں رنگنے اور عالم اسلام کو مغربی تسلط و غلبہ سے نجات دلائے اور ملک میں حقیقی عوامی اور اسلامی جمہوریت لائے بغیر قاضی حسین احمد کے مقلدین چین سے بیٹھنے والے نہیں۔

قاضی حسین احمد اب ہم میں موجود نہیں، لیکن اُن کا جوش و ولو لہ اور خلوص ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ہمارے کروڑوں عوام کی روحیں اس دائمی جذبے سے حرارت پا کر تعمیر وطن کے لئے سرگرم رہیں گی۔ وہ جس شمع کو روشن رکھنے کے لئے وقت کی آندھیوں اور طوفانوں کے سامنے کھڑے رہے ، وہ شمع ہر حال میں ہزار رنگ میں روشن رہے گی۔ وطن عزیز ایک دن مغرب زدہ اذہان سے نجات پا کر اسلامی فلاحی منزل کو ضرور حاصل کرے گا۔ اپنی اس منزل پر پہنچنے کے بعد افراد قوم ان لوگوں کو ضرور یاد کریں گے، بلکہ بہت ہی یاد کریں گے جن کی بھرپور صلاحیتوں اور تحرک سے اسلامی نظام اور حقیقی اسلامی نظام کی منزل ہمارے قریب سے قریب ہوتی چلی گئی۔ اللہ ایسی تمام ہستیوں کو غریق رحمت اور اُن کے لافانی جذبے کا عام کرے۔ (آمین

مزید :

اداریہ -