طاہر القادری لانگ مارچ پر بضد، رحمان ملک ”ڈرانے“ میں ناکام

طاہر القادری لانگ مارچ پر بضد، رحمان ملک ”ڈرانے“ میں ناکام
طاہر القادری لانگ مارچ پر بضد، رحمان ملک ”ڈرانے“ میں ناکام

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ وہ علامہ طاہر القادری کو لانگ مارچ سے روکنے نہیں بلکہ سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طاہرالقادری سے لانگ مارچ کی کال واپس لینے کا کہا نہ ہی ان کے ساتھ کوئی مذاکرات ہوئے جبکہ لانگ مارچ روکنے کا کوئی ارادہ بھی نہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے تحریک منہاج القرآن کے سربراہ علامہ طاہر القادری سے ملاقات کی اور لانگ مارچ کے موقع پر سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا۔ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ ڈرانے کی بات نہیں کرتے بلکہ طاہر القادری کو ہر بات سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں، دشمن کچھ بھی کر سکتا ہے، میں نے طاہر القادری سے سیکیورٹی امور بات چیت کی ہے۔ رحمان ملک نے کہا کہ علامہ طاہر القادری کے لانگ مارچ کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی اور اس ضمن میں چیف سیکرٹری اور آئی جی اسلام آباد کو لانگ مارچ کی سیکیورٹی کیلئے مقرر کر دیا جبکہ سخت سیکیورٹی کیلئے پنجاب کے چیف سیکرٹری کو خط لکھ دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک طالبان نے لانگ مارچ میں حملے کی دھمکی دی ہے اس لئے طاہرالقادری کے لانگ مارچ کی اسلام آباد میں بیٹھنے کی جگہ سے متعلق نہیں بتا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ طاہر القادری نے جس وینیو کا ذکر کیا میں اس پر متفق ہوں، ملک کو کرپشن دہشت گردی لینڈ مافیا سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر طاہر القادری جمہوریت کو ڈی ریل کرنا نہیں چاہتے نہ ہی ڈاکٹر طاہر القادری الیکشن میں تاخیر چاہتے ہیں بلکہ وہ تو ماورائے آئین کچھ بھی نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو خاندان میں طاہر القادری کی عزت پہلے دن سے ہے۔ اس موقع پر علامہ طاہر القادری نے کہا کہ یہ بات طے ہے کہ لانگ مارچ 14 جنوری کو ہی ہو گا اور اگر انہیں روکنے کی کوشش کی گئی تو تصادم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ رحمان ملک سے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات صرف وزیراعظم کی سربراہی میں وفاقی کابینہ سے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے رحمان ملک کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ہمارے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہوئے کیونکہ مذاکرات صرف وزیراعظم کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کے ساتھ ہی ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی صورت میں یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ لانگ مارچ ملتوی کیا جا رہا ہے۔ علامہ طاہر القادری نے کہا کہ میرا ایجنڈا الیکشن ملتوی کرانایا جمہوریت کو غیر مستحکم کرنا نہیں۔

مزید :

لاہور -Headlines -