سپریم کورٹ نے ریکوڈک منصوبہ کالعدم قرار دے دیا

سپریم کورٹ نے ریکوڈک منصوبہ کالعدم قرار دے دیا
سپریم کورٹ نے ریکوڈک منصوبہ کالعدم قرار دے دیا

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے ٹیتھیان کمپنی کے خلاف بلوچستان حکومت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ریکوڈک معاہدہ کالعدم قراردے دیا۔ چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری نے 16 صفحات پرمشتمل مختصرفیصلہ سنایا۔عدالت عظمی نے بلوچستان حکومت کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ریکوڈک معاہدہ کوکالعدم قراردے دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان حکومت کا کہنا تھا کہ اس وقت کی مشرف حکومت کے گورنرنے خود سے ہی فیصلہ کرلیا تھا،، کسی غیرملکی کمپنی کوحق نہیں کہ اس سے ریکوڈک معاہدہ کیا جائے. ٹیتھیان کمپنی کے ساتھ معاہدہ غیرقانونی تھا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کے پاس سپریم کورٹ سے اپیل کا حق ہے۔غیرملکی کمپنیاں نظرثانی کی درخواست بھی دے سکتی ہیں۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ یہ مختصرفیصلہ ہے اورتفصیلی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔ تفصیلی فیصلے کے بعد غیرملکی کمپنیاں عدالت میں نظرثانی کی اپیل کرسکیں گی۔ سپریم کورٹ نے ریکوڈک کیس کی مسلسل دومہینے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ بلوچستان حکومت نے ہائی کورٹ میں آئینی درخواست کی مخالفت مگرسپریم کورٹ میں حمایت کی۔ ٹیتھیان اوربی ایچ پی کمپنی کی جانب سے وکلا خالدانوراورعبدالحیفظ پیرزادہ نے دلائل دیے۔ جبکہ بلوچستان حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ کنرانی اوروکیل احمربلال صوفی نے دلائل دیے۔ واضح رہے کہ عالمی ثالثی عدالت نے بھی چند ہفتے قبل بلوچستان حکومت کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

مزید :

اسلام آباد -