اسلام ملکی دستور کا ماخذ نہیں، تیونس کی پارلیمنٹ کا اعلان

اسلام ملکی دستور کا ماخذ نہیں، تیونس کی پارلیمنٹ کا اعلان

تیونس (آئی اےن پی) تیونس کی پارلیمنٹ میں اسلام پسندوں نے بظاہر ایک سمجھوتہ کرتے ہوئے اس بِل کو مسترد کر دیا جس کے تحت مذہب اسلام کو ملکی دستور کا ماخذ قرار دیا جانا تھا۔ یہ پیش رفت ملکی دستور کی منظوری کے عمل کے دوران سامنے آئی۔ 2011ء میں عرب سپرنگ کے تحت انقلابی عمل کا آغاز کرنے والے ملک تیونس میں پارلیمنٹ میں نئے ملکی دستور کی شق وار منظوری کے دوران ملکی دستور کے ماخذ کے طور پر اسلام کو دستور میں شامل کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا۔ مبصرین نے پارلیمنٹ میں اکثریت رکھنے والی اسلام پسند جماعت النہضہ کی جانب سے اِسے ایک بڑا سمجھوتہ قرار دیا ہے۔ تاہم اِس دوران ریاست کے سرکاری دین کے طور پر اسلام کو تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ عرب سپرنگ کے تحت انقلاب لانے والے ملکوں میں صرف تیونس ہی پرتشدد حالات و واقعات سے بچا ہوا ہے۔ ملکی سیاستدانوں نے پیدا شدہ سیاسی تعطل کو طویل مذاکراتی عمل سے حل کر لیا ہے۔ پارلیمنٹ میں نئے دستور کی شق وار منظوری کا عمل ہفتے کے روز شروع ہوا ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...