شہباز ! قوم تو سوئی ہوئی ہے

شہباز ! قوم تو سوئی ہوئی ہے
شہباز ! قوم تو سوئی ہوئی ہے
کیپشن: fayaz ahmad

  

خوشامد بری چےزہے۔۔۔ لےکن مےاںصاحب کی تعرےف نہ کی جائے تو ےہ بھی بددےانتی ہے ۔ مےاں شہباز شرےف ہلکے پھلکے انداز مےں بڑی سچی سچی باتےں کر رہے ہےں ۔خوف اور امےد کی فضا مےں ان کی جرا¿ت قابل رشک ہے ۔ کارکناں تحرےک پاکستان کی تقرےب مےں نامور صحافی اور نظرےاتی شخصےت مجےد نظامی کے سامنے مےاں شہباز شریف نے جو حقائق رکھے۔ ان مےں انتہائی گہرائی ہے ۔وقتی طور پر وہ تلخ بھی لگتے ہےں، لےکن ان مےں ہمارے ماضی ،حال اور مستقبل کی تصوےرنماےاں ہے ۔مےاں صاحب نے کوئی لگی لپٹی بات نہےں کی، بلکہ بڑے وثوق سے کہا کہ سٹرسٹھ سال کی تارےخ مےں پاکستان اور بھارت کے درمےان کئی جنگےں ہوئےں.... کوئی نتےجہ نہےں نکلا ۔ سرحد کے دونوں طرف تلخےاں بڑھتی رہےں جو کبھی ثمر آور نہےں ہوئےں۔چےن جو پاکستان کا آزماےا ہوا دوست ہے اور جس نے ہمےشہ پاک بھارت جھگڑے مےں اپنا وزن کھل کر پاکستان کے پلڑے مےں ڈالا اور خود چےن کی اپنی بھی بھارت سے کئی محاذوں پر مخالفت رہی، آج تارےخ کے نقشے پرپاک چےن تجارتی حجم ہزاروں ارب ڈالر مےں ہے ۔بھارت کی سرزمےن پر چےن بے پناہ سرماےہ کاری کر رہا ہے ،جبکہ پاکستان کے ساتھ اس کے دےرےنہ دوست چےن کا تجارتی حجم صرف چند ارب مےں ہے، جو بھارت کی نسبت آٹے مےں نمک کے برابر ہے ،پھر جنوبی کورےا ،جرمنی او ربلجیم ،جنہوں نے اےک مضبوط قوم کی حےثےت سے انتہائی کم عرصے مےں دنےا کے نقشے پر معاشی مےدان مےں زبردست معرکے سر کئے ۔

وزےراعلیٰ نے بڑے کھلے ڈلے انداز مےں بھارتی وزےراعظم من موھن سنگھ سے ملاقات کا ذکر کےا ۔ گلے شکوو¿ں کی بات کی ۔ پاک بھارت دوستی کی ضرورت کو محسوس کےا ،لےکن جو بنےادی باتےں ہےں ،ان کو نظر انداز نہےں کےاجاسکتا اور وہ وزےراعلیٰ نے بھارتی وزےراعظم کے گوش گزار کےں کہ کشمےر، پانی اور سےاہ چن کا مسئلہ حل کئے بغےر خطے مےں پائےدار امن کی ضمانت نہےں دی جاسکتی ۔بڑے با وقار انداز مےں وزےراعلیٰ نے پاکستان کے اےٹمی طاقت ہونے کا ذکر کےا ،انہوں نے اچھی بات کی کہ جس جماعت اور جس لےڈر نے بھی اےٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے مےں حصہ ڈالا ،پاکستانی قوم اس کی احسان مند ہے۔آج اسی اےٹمی طاقت کی وجہ سے ہم آزادی کا سانس لے رہے ہےں،تاہم انہوں نے بحےثےت قوم اپنی کمزورےوں کاذکر انتہائی دکھ بھرے لہجے مےں کےا ۔ انہوں نے صحےح کہا کہ آج ہمارے ملک کے جو حالات ہےں ،تعلےم اور صحت کی جو صورت حال ہے ، دہشت گردی کی جو آگ لگی ہوئی ہے ، نا انصافی کی جو فضا ہے، اس مےں کےوں اور کون ہمارے ملک مےں آ کر سرماےہ کاری کرے گا؟کہنے لگے کہ بھارت مےں پاکستانی سفارت خانے کے عملے نے انہےں کہا کہ بھارتی کشمےری اب ےہ سوال کرتے ہےں کہ پاکستان مےں حالات اتنے ماےوس کن کےوں ہےں ؟

وزےراعلیٰ نے بالکل صحےح کہا کہ ۔۔سٹرسٹھ سال بعد بھی ہمارے ہاتھ مےں کشکول ہے ۔۔۔ ہم دنےا سے تجارت کی بجائے امداد کے طالب گار ہےں ۔۔۔۔کےا قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ نے ایسے ہی پاکستان کا خواب دےکھا تھا؟مجموعی طور پر مےاں شہباز شرےف نے اپنی تقرےر مےں کسی بات کو چھپاےا نہےں ۔۔۔اپنی خوبیوں اور خامےوں کوسامنے رکھ دےا ۔ہم ےہ تقرےر سنتے ہوئے سوچ رہے تھے کہ دن رات عوام کی خدمت کرنے والے خادم اعلیٰ حقےقت مےں مسائل کے ادراک کی کتنی گہرائی رکھتے ہےں ۔پھر انہوں نے کہا کہ تمام مشکلات کے باوجود مَےں پُرامےد ہوں اور دکھی دل کے ساتھ اپنی بات کا اختتام ان اشعار پر کر رہا ہوں :

جب اپنا قافلہ عزم و ےقےں سے نکلے گا

جہاں سے چاہےں گے رستہ وہےں سے نکلے گا

 وطن کی خاک مجھے اےڑےاں رگڑنے دے

مجھے ےقےن ہے کہ چشمہ ےہےں سے نکلے گا

اور پھر جاتے جاتے ، انہوں نے روسٹرم پر زور سے ہاتھ مارا ۔۔۔مجھے اےسا لگا کہ جےسے شہباز ! قوم کو جگا رہا ہے، لےکن صد افسوس کہ قوم تو سوئی ہوئی ہے ۔ خواب غفلت مےں ا ور پتہ نہےں کب تک سوتی رہے گی ۔

مزید :

کالم -