2014۔۔۔محفوظ پاکستان کاسال!

2014۔۔۔محفوظ پاکستان کاسال!

  

محفوظ معاشر و ںمیں یہ بات بڑے فخر سے کہی جاتی ہے کہ سیفٹی ہر کسی کاحق اور ہرشخص کی ذمہ داری ہے۔ حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہرشہری کو ایمرجنسی کیئرکابنیادی حق فراہم کرے۔اس مقصد کے پیشِ نظرحکومتیں ادارے بناتی ہیں، جنہیں ذمہ دار اور جید ماہرین چلاتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں شہریوں کو احساسِ تحفظ فراہم ہے، حکومتیں اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے میں کوشاں ہیں، ادارے قائم ہیں جن کی قیادت ماہرین کررہے ہیں، یہی وجہ ہے شہری اپنے ممالک کی حکومتوں پراعتماد کرتے ہیں اوروہ قومیں دنیامیں عزت دار، غیرت اور صحت مند قومیں کہلاتی ہیں۔ 2004سے قبل پاکستان میں ادارے تو قائم تھے، لیکن چلانے والوں میں شاید احساسِ ذمہ داری کی کمی تھی، جس کے سبب اُس وقت ایک نوجوان ڈاکٹررضوان نصیر نے اپنے پیارے ملک پاکستان کے ہرشہری کو محفوظ کرنے کابیڑہ اُٹھایا، اور حکومتِ وقت کی زیرِ نگرانی پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو 1122 )کاآغاز کیا۔

ہردل عزیز وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے موٹروے جیسے کامیاب ادارے کے قیام کے بعد ریسکیو 1122کو 12اضلاع سے لے کرپنجاب کے 36اضلاع تک پھیلادیا، جبکہ 14تحصیلوں میں بھی سروس کاقیام عمل میں لایاجاچکاہے۔یہ وزیرِاعلیٰ پنجاب ہی تھے جنہوں نے صرف پنجاب نہیں ،بلکہ پاکستان بھرکے شہریوں کو بِلاتفریق یہ حق فراہم کرنے کاعزم کیااور خیبرپختونخوا،گلگت بلتستان اور آزاد جموں اینڈکشمیرمیں تکنیکی معاونت فراہم کرتے ہوئے وہاں بھی ریسکیو 1122سروسزکاآغاز کروایا۔ باالفاظ ِ دیگراب ایمرجنسی خدمات ان صوبوں کے شہریوں کو بھی مہیاکی جارہی ہیں، یہی نہیں، بلکہ 2013میں ایک بارپھربھاری اکثریت سے کامیاب ہونے کے بعد انہوں نے پاکستان کے دوسرے صوبوں بلوچستان اور سندھ میں بھی سروس کے قیام کے لئے کوششیں تیز کردیں ، جبکہ وہاں کی حکومتوں نے بھی ریسکیو 1122کو ایک عوامی سروس جانتے ہوئے اپنے صوبوں میں اس کے آغاز پرخوشی کااظہارکیاہے۔ یہ ایک اچھاشگون ہے۔ اور سچ کہاجائے تو شہریوں کے ساتھ ساتھ اس سروس کاحق بھی ہے کہ اس کاآغاز پاکستان بھرمیں کیاجائے۔

 ڈی جی ریسکیو پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیرنے اس عزم کابھی اظہارکیاہے کہ ریسکیو1122سال 2014کو Year of Preventionکے طورپرمنائے گی اور اس حوالے سے مختلف آگاہی پروگرام متعارف کرائے جائیں گے۔ سروس نے 2013 میں پنجاب کے تمام اضلاع میں اپنا سات منٹ سے کم رسپانس ٹائم برقرار رکھتے ہوئے 634088ریسکیو آپریشنز میں514157ایمرجنسی متاثرین کو ریسکیوکیا۔ تقابلی جائزہ کے مطابق2012کے مقابلے میں2013میں ٹریفک حادثات ،آگ لگنے کے واقعات ، عمارتیں گرنے اور دوسری نوعیت کی کئی ایمرجینسیز میں اضافہ ہواہے۔ان کا کہنا تھا کہ 2013ءمیں 182952ٹریفک حادثات پنجاب میں رپورٹ ہوئے، جبکہ 2012میں یہ تعداد صرف 158551 تھی۔اسی طرح643واقعات کے اضافہ کے ساتھ آگ لگنے کے10878 واقعات 2013میں رپورٹ ہوئے جبکہ 2012میںیہ تعداد 10235 تھی۔ ایمرجنسی ڈیٹاکے مطابق پنجاب ایمرجنسی سروس نے2013میںموصول ہونے والی ایمرجنسی کالز جن پر ریسکیو 1122نے بروقت ریسپانڈ کیا کا موازنہ کیا جائے تو ان میں22858جرائم کے حادثات،1218ڈوبنے کے واقعات،870عمارتیں گرنے کے واقعات ،93دھماکے،44150اسپیشل ریسکیو آپریشن شامل ہیں۔

لیکن سچ یہی ہے کہ ٹریفک اور بلڈنگ قوانین پر عملدرآمد،بروقت منصوبہ بندی اور روڈ سیفٹی کے حوالے سے شعوراجاگرکرکے ان ایمرجینسیز سے بچا جا سکتاہے۔ سیفٹی کلچرکے فروغ سے ہی ایک محفوظ پاکستان کاخواب شرمندہ تعبیرہوسکتاہے۔اگرچہ روڈٹریفک حادثات ، فائر کیسسزاور دیگرایمرجنسیز کے متاثرین کو ایمرجنسی کیئرکابنیادی حق فراہم کرنے کے لئے ریسکیو 1122موجود ہے، لیکن ہمیں بحیثیت شہری ایمرجنسیز سے پاک معاشرے کے لئے ملکر کام کرناہوگا۔ اس بات کو مدِ نظررکھتے ہوئے پنجاب ایمرجنسی سروس کے زیراہتمام کمیونٹی سیفٹی پروگرام ترتیب دیاگیاہے جو پنجاب بھرمیں سکولز، کالجز، یونیورسٹیز ، صنعتی یونٹس، اور دیگراداروں میں شہریوں کو ایمرجنسی کی صورت میں بنیادی تربیت فراہم کررہاہے، تاکہ کم نوعیت کی ایمرجنسی میں شہری خود تیاررہیں اور کسی بڑی ایمرجنسی میں ریسکیو 1122کی تربیت یافتہ ٹیمیں بروقت مدد کو پہنچیں، اس کے لئے کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیم پروگرام پرکام جاری ہے۔

اس وقت پوری دنےا مےں پانی کا بحران شدت اختےار کررہاہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2025ءتک ہر دو مےں سے اےک ملک پانی بحران سے متاثر ہوگا، پوری دنےا مےں تقرےباً 35فےصد آبادی کو پےنے کا صاف پانی بھی مےسر نہےں ہے، پانی کے بحران سے نپٹنے کے لئے بےن الاقوامی حکمت عملی کی ضرورت ہے، پاکستان کو بھارت کی جانب سے سندھ طاس منصوبے کی خلاف ورزی کی وجہ سے پانی کی کمی کاسامنا ہے، پانی کی کمی کے باعث پاکستان کی زرعی ترقی بُری طرح متاثر ہورہی ہے۔ خےبر پختونخوا اور سندھ مےں کئی لاکھ اےکٹر رقبہ بنجر پڑا ہواہے، توانائی کے بحران نے ملکی معےشت کو تباہ کردےاہے، صنعتےں بند ہورہی ہےں ،زرعی اجناس کی پےداوار مےں کمی آرہی ہے،مزےد کمی ہونے سے اسکی درآمد لاکھوں ملےن ٹن سے بڑھ جائے گی،ان حالات مےں ہمارے اقتصادی مسائل مےں مزےد اضافہ ہوگا، 2035ءتک اگر پانی کی کمی کو پورا نہ کےاگےاتو ملک کا بڑا حصہ رےگستان مےں تبدےل ہوسکتاہے، پانی کی کمی کو پوراکرنے کے لئے،بجلی بنانے اور اپنی زمےنوں کو سےراب کرنے کے لئے کئی بار ہماری حکومتوں نے کالاباغ ڈےم کی تعمےر کا اعلان کےاہے، بے نظےر بھٹو کے دور مےں اس منصوبے کے لئے بجٹ مےں فنڈز رکھے گئے تھے، 1998ءمےںمےاںنواز شرےف نے اس کااعلان بھی کردےاتھا۔

 پروےز مشرف نے بھی 2006ءمےںاس ڈےم کی تعمےر کا اعلان کےاتھا،مگرہربار ےہ ٹےکنےکل اور سےاسی مسئلہ بنارہا،ماضی مےں کالاباغ ڈےم پر تکنےکی اعتراضات اٹھتے رہے اورسےاسی مفاہمت نہےںہوپائی ، کسی بھی حکومت نے نےک نےتی سے پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے متبادل آبی ذخائر کی تعمےر کو ترجےحی بنےادوںپر عملی شکل دےنے کی کوئی قابل ذکر سعی نہےں کی، جنرل ضےاءالحق اور جنرل پروےز مشرف بھی اپنے مضبوط اقتدارکے باوجود اس ڈےم کی تعمےر مےں ناکام رہے، ےہ درست ہے کہ اگر کالاباغ ڈےم کو طاقت کی بنےاد پر بنانے کی کوشش کی جاتی تو اس کے قومی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے تھے،مگر اسکے علاوہ دوسرے قابل عمل منصوبوں پر بھی کام نہےں ہوسکا،ماہرےن کے مطابق کالا باغ ڈےم کے متبادل کے طور پر ہمےں 70چھوٹے ڈےم بنانے پڑےں گے ، اس کے لئے نہ تو ہمارے پاس اتنی جگہ ہے اور نہ ہی پانی موجود ہے، جب بھی اس مسئلے کو اٹھاےا جاتاہے تو اس پر اجتماعی سےاسی مزاحمت مےں شدت آجاتی ہے، حکومت مےں شامل جماعتوں اور حزب اختلاف کی جماعتوں مےں کبھی بھی مفاہمت نہےں ہوسکی، لےکن آنے وا لے حالات سے نپٹنے کے لئے ،اپنی بنجر زمےنوں پر ہرےالی لانے کے لئے ، اپنی غذائی ضرورےات کو پوراکرنے کے لئے ، اپنی معےشت کو بہتر بنانے کے لئے ، صنعتی ترقی کے لئے،توانائی بحران حل کرنے کے لئے اور ملکی خوشحالی کے لئے ہمےں پانی کی اشد ضرورت ہے ، اس لئے وطن عزےز مےں آبی ذخائر بنانا بہت ضروری ہے ،اور اس کے لئے قومی اتفاق رائے بھی لازمی ہے، اگر کالاباغ ڈےم کی تعمےر اس وقت ممکن نہےں تواس کی بجائے مختلف مقامات پر چھوٹے چھوٹے ڈےم بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ پاکستان سے پانی کا بحران ختم ہو، پانی ذخےرہ کرنے کے منصوبوں مےں مزےد تاخےر قطعی طور پر ملکی اور قومی مفاد مےں نہےں ہوگی۔

عابداللہ سلےم

گلی نمبر2ہجوےر ی ٹاﺅن فےصل آباد

 ausaleem7@gmail.com

مزید :

کالم -