ایک نیا تماشا

ایک نیا تماشا
ایک نیا تماشا

  


 صوبوں کے نام پر ایک نیا تماشا شروع کر دیا گیا ہے۔ کیا پاکستان ایک مذاق ہے، کیا یہ ملک نہیں، کیا اس کا کوئی آئین، کوئی ضابطہ نہیں، جو کچھ کوئی چاہے کہہ دے اور کوئی پکڑ بھی نہ ہو۔ ایم کیو ایم کے سو تحفظات ہو سکتے ہیں، مگر الطاف حسین نے جس انداز سے سندھ کو نشانہ بنا رکھا ہے، وہ کسی بھی طرح قابل ستائش نہیں۔ کیا یہ بات اب سکہ رائج الوقت بن چکی ہے ، جسے حکومت وقت سے اختلافات یا شکایات ہوں، وہ نئے صوبے کا مطالبہ کر دے اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دے کہ اگر مطالبہ نہ مانا گیا تو بات الگ وطن کے مطالبے تک بھی جا سکتی ہے۔ ایک دن ایسا بیان دینے کے بعد الطاف حسین نے اگلے دن جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سندھ ون اور سندھ ٹو کی تجویز پیش کر دی۔ کیا یہ بہتر نہ ہو تاکہ وہ اس قسم کی تجاویز پیش کرنے کی بجائے اپنا کیس پیش کرتے۔ اگر بقول ان کے اردو بولنے والوں کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں تو ان کے ازالے کا مطالبہ سامنے لاتے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت سے شکایات ہیں تو اس کے خلاف وفاقی حکومت سے رجوع کرتے۔ انہوں نے یکدم بیٹھے بٹھائے سندھ کی تقسیم کا مطالبہ کر دیا اور نئے ملک کی بات بھی کر گئے۔ اس کے بعد جو شور شرابہ اور بحث مباحثہ شروع ہوا ہے، اس میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ یوں لگتا ہے جیسے سبھی کو ایک ہی موضوع ملا ہوا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبے بنیں گے یا نیا ملک وجود میں آئے گا؟ مسائل کے انبار میں دبا ہوا ملک سیاستدانوں سے جس سنجیدگی کا تقاضا کرتا ہے، وہ کہیں دکھائی نہیں دیتی۔

جہاں تک سندھ کا تعلق ہے تو اس میں شہری اور دیہی کی تفریق کا بیج بہت پہلے کوٹہ سسٹم کے تحت بو دیا گیا تھا۔ پھر اتفاق سے ہجرت کے وقت آنے والے زیادہ تر مہاجرین بھی کراچی اور حیدر آباد میں قیام پذیر ہوئے، یوں آبادی کی ایک خاص تقسیم خود بخود ہوتی چلی گئی۔ اس وجہ سے لسانی فسادات بھی ہوئے اور سندھی مہاجر جھگڑوں کی بنیاد بھی پڑی ۔مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے جب آج کی متحدہ قومی موومنٹ وجود میں آئی تو اسے دیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت حاصل ہو گئی۔ الطاف حسین نے مہاجروں کے لسانی تشخص کو ابھارنے کے لئے انہیں اردو بولنے والے کہا، جیسا کہ وہ آج بھی کہتے ہیں۔ اگرچہ جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے کہا ہے کہا یم کیو ایم تنہا اردو بولنے والوں کی جماعت نہیں، اردو بولنے والے دیگر جماعتوں میں بھی موجود ہیں، مگر اس کے باوجود یہ تاثر بن گیا ہے کہ ایم کیو ایم اردو بولنے والے مہاجروں کی جماعت ہے۔ اسی تاثر کی وجہ سے ملک کے دیگر علاقوں میں رہنے والے نان اردو سپیکنگ مہاجروں نے کبھی ایم کیو ایم کو اپنی جماعت نہیں سمجھا۔

ایک طرف ایم کیو ایم ملک کے 98فیصد غریب عوام کی نمائندگی کرنا چاہتی ہے تو دوسری طرف اپنا مخصوص مہاجر تشخص بھی نہیں چھوڑتی ، یہی تضاد اسے قومی دھارے میں شامل نہیں ہونے دیتا۔ یہ تاثر بھی غلط نہیں کہ ایم کیو ایم حکومت کے بغیر نہیں رہ سکتی، گزشتہ دو دہائیوں سے وہ کسی نہ کسی شکل میں اقتدار کا حصہ رہی ہے۔ اس کی وجہ اب سمجھ میں آتی ہے۔ سب حکومتیں ایم کیوا یم کو ساتھ لے کر اس لئے چلتی رہی ہیں کہ اقتدار سے باہر ہو کر اس کے قائدا ور دیگر رہنما سندھ کی تقسیم کا مطالبہ کر دیتے ہیں۔ ایم کیوا یم کے خلاف جناح پور کا الزام ابھی تک پیچھا کر رہا ہے، حالانکہ الطاف حسین اس کی متعدد بار تردید بھی کر چکے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری جب تک ایوان صدر میں رہے ،انہوں نے ایم کیو ایم کو اپنا گرویدہ بنائے رکھا، مگر اب اگرچہ سندھ میں ان کی حکومت ہے ،تاہم ایم کیو ایم کے ساتھ پیپلزپارٹی کے تعلقات اب بہت کشیدہ نظر آتے ہیں ،اسی کشیدگی کے باعث الطاف حسین پوائنٹ آف نو رٹرن تک جا چکے ہیں۔

سندھ کی تقسیم یا نئے ملک کی بات کو تقریباً سبھی جماعتوں نے مسترد کر کے الطاف حسین کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ قوم پرست جماعتیں بھی سراپا احتجاج ہیں۔ اب جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ الطاف حسین نے یہ بیانا ت دے کر غلطی کی ہے، وہ بہت بھولے ہیں۔ الطاف حسین اگر 24سال سے لندن میں بیٹھ کر پاکستانی سیاست کو تگنی کا ناچ نچا رہے ہیں تو مان لینا چاہئے کہ وہ خطرے والا کام کبھی نہیں کرتے۔ یہ ان کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی کہ بات کو ایک سنسنی خیزٹرن دیا جائے۔ اس ایک تیر سے انہوں نے کئی شکار کئے ہیں اور بہت کامیاب رہے ہیں۔ علیحدہ صوبے یا ملک کی بات کر کے انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ کو ایک نئے امکان سے ہمکنار کیا ہے۔ ملکی سیاست میں ایم کیو ایم فیکٹر کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ الطاف حسین کو ایک اور فائدہ یہ ہوا ہے کہ عالمی سطح پر ان کے خلاف جو سازشیں ہو رہی تھیں اور جسے یہ کہا جا رہا تھا کہ شاید الطاف حسین کو اب برطانیہ سے کوچ کرنا پڑے ، ان میں اب کمی آئے گی، کیونکہ ایک مرتبہ پھر مہاجروں کا نجات دہندہ ہونے کا تاثر دے کر انہوں نے مغربی ممالک کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ ان کی حیثیت مسلمہ ہے اور لاکھوں لوگ ان کے اشارے پر کٹ مرنے کو تیار ہیں۔

نئے صوبے کی بات کر کے انہوں نے پیپلزپارٹی کو بھی دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری سندھ کی تقسیم کو ناقابل عمل قرار دے چکے ہیں ،تاہم اس بات سے معاملہ حل نہیں ہو گا کہ سندھ کی تقسیم صوبے کے خلاف سازش ہے ،بلکہ شہری آبادی کے مطابق وسائل بھی مختص کرنے پڑیں گے۔ تیسری اور سب سے اہم کامیابی الطاف حسین کے حصے میں یہ آئی ہے کہ انہیں ایک بار پھر متحدہ قومی موومنٹ مل گئی ہے۔ میرا یہ فقرہ چونکا دینے والا ضرور ہے، مگر اس حقیقت کو پیش نظر رکھا جانا چاہئے کہ پچھلے کچھ عرصے سے ایم کیو ایم کے بارے میں متضاد خبریں آ رہی تھیں، جس کے مطابق الطاف حسین کے خلاف پارٹی کے اندر سے کوئی سازش ہو رہی ہے۔ پارٹی پر ان کی کمزور گرفت کا تاثر دیا جا رہا تھا ،لیکن انہوں نے ایک مرتبہ پھر مہاجروں کے حقوق کا نعرہ لگا کر تمام مشکلات اور مخالفانہ عوامل پر قابو پا لیا ہے۔ الطاف حسین بھی یہ بات ضرور جانتے ہوں گے کہ موجودہ آئین میں رہتے ہوئے نئے صوبوں کا قیام ممکن نہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ ان کے پاس اتنی عوامی اکثریت نہیں کہ وہ کسی کو آئین میں ترمیم کے لئے مجبور کر سکیں۔ ایسے میں اگر انہوں نے مہاجروں کے احساس محرومی کو دور کرنے کے لئے علیحدہ صوبے اور اس سے بھی بڑھ کر بات علیحدہ ملک تک لے جانے کا دعویٰ کیا ہے تو اسے ان کی ایک سیاسی حکمت عملی سمجھنا چاہئے، تاہم ایسا نہیں سمجھا گیا اور ان کے بیانات کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ لیا گیا۔ میڈیا نے بھی خوب اچھالا، جس سے ماحول میں ایک عجیب قسم کا تناﺅ پیدا ہو گیا ہے۔

یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ صوبوں کی بات تو تقریباً ہر صوبے میں ہو رہی ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا تو واضح طور پر اس مطالبے کی زد میں ہیں۔ پنجاب میں سرائیکی صوبہ بنانے کی جدوجہد بھی جاری ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں ہزارہ صوبے کے مطالبات اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، ایسے میں کیا وجہ ہے کہ الطاف حسین کا بیان آتا ہے تو پورے ملک میں بھونچال آ جاتا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ سندھ کی تقسیم خالصتاً لسانی بنیادوں پر کئے جانے کا مطالبہ نفرت کے بیج بو دیتا ہے۔ اسی طرح سندھ سے اگر کراچی اور حیدر آباد کو علیحدہ کر دیا جائے تو اس کی حیثیت تھرپارکر کے ایک بنجر صحرا کی رہ جاتی ہے، کیونکہ تمام تر وسائل اور ترقی شہری سندھ کے انہی دو شہروں میں ہوئی ہے۔ پھر یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ اگر بندرگاہ پر مشتمل علاقہ علیحدہ صوبہ بن گیا تو کہیں آگے چل کر عالمی طاقتوں کی سازشوں سے وہ ہانگ کانگ جیسی خودمختار حیثیت اختیار نہ کر لے۔

سندھ کے لوگ اپنے صوبے کے ایک ایک انچ کو دھرتی ماں سمجھتے ہیں، اس لئے اس کی تقسیم پر ان کے اندر ایک اشتعال اور ابال پیدا ہوتا فطری امر ہے۔ یہی وجہ ہے سندھ میں نئے صوبے کی بات ہوتی ہے تو پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے ۔ یہ وہ کمزوری ہے، جسے الطاف حسین بڑی مہارت سے اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ اس بار بھی انہوں نے ایسا ہی کیا ہے، لیکن کیا سیاسی مفادات کے لئے اس قسم کے راستے اختیار کرنا مناسب ہے۔ کیا ملک کی سلامتی و بقاءکو کھیل تماشا بنا دینا دانشمندی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ سیاسی قوتیں مل بیٹھ کر مسائل کا حل نہیں نکالتیں۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی نہیں بناتیں اور جہاں جہاں احساس محرومی ہے، وہاں عملی اقدامات سے اسے ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتیں۔66برس بعد بھی ہمارے ہاں ٹوٹنے اور علیحدہ ہونے کی باتیں جاری ہیں....” کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں“؟

مزید : کالم


loading...