تجزیہ:سعید چودھری

تجزیہ:سعید چودھری

17ویں کے بعد18ویں ترمیم میں بھی پی سی او کا حلف اٹھانے والے ججوں کو تحفظ دیا گیا

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف 12اکتوبر 1999سے مقدمہ چلایا جائے اور ان کا ساتھ دینے والوں کو بھی پکڑا جائے ۔پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے تو اس حوالے سے پرویز مشرف کے ساتھیوں کے طور پر اپنا اور پرویز الہٰی کا نام بھی دے دیا ہے ۔انہوں نے سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے خلاف مقدمہ چلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔پیپلز پارٹی کے راہنما خورشیدشاہ نے بھی ایسا ہی مطالبہ کیا ہے بلکہ اپنے سابقہ مطالبہ کا اعادہ ہی کیا ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ ایسے مطالبات کرنے والے جنرل (ر) پرویز مشرف کا ٹرائل نہیں چاہتے جیسا کہ چودھری شجاعت حسین برملا اس کا اظہار کررہے ہیں ۔وہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو غداری کا ملزم ماننے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں ۔دیگر لوگ جو پرویز مشرف کے 12اکتوبر کے اقدام پر بھی مقدمہ چلانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ انہوں نے اپنے دور میں انہیں پروٹوکول دے کر ایوان صدر سے رخصت کیا تھا۔ جو لوگ جنرل پرویز مشرف کا ساتھ دینے پر جسٹس ریٹائرڈ افتخار چودھری کو بھی کٹہرے میں لانے کی باتیں کررہے ہیں ان کی اس خواہش کی تکمیل میں آئین رکاوٹ ہے ۔18ویں آئینی ترمیم کے بعد جنرل (ر) پرویز مشرف کے 12اکتوبر 1999کے اقدام میں ساتھ دینے والے فوجی افسروں ، انتظامیہ کے ذمہ داروں اور سیاستدانوں کے علاوہ 17ویں آئینی ترمیم منظور کرنے والے تمام پارلیمانی ارکان کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ بن سکتا ہے لیکن جسٹس ریٹائرڈ افتخار چودھری کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا بلکہ پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے کسی بھی جج کو مشرف کا ساتھی قرار دے کر کٹہرے میں نہیں لایا جاسکتا ۔جسٹس ریٹائرڈ افتخار محمد چودھری سپریم کورٹ کے اس بینچ کا حصہ تھے جس نے پرویز مشرف کے 12اکتوبر کے اقدام کو جائز قرار دیا تھا ۔یہ فیصلہ دینے والے عدلیہ کے ارکان کے خلاف غداری کا مقدمہ کیوں نہیں چل سکتا ؟اس سوال کا جواب 17ویں ترمیم اور18ویں آئینی ترمیم میںموجود ہے ۔17ویں آئینی ترمیم میں تو پرویز مشرف کے 12اکتوبر1999 کے اقدام کو باقاعدہ تحفظ دیا گیا تھا ۔بعدازاں 2010میں 18ویں آئینی ترمیم منظور کی گئی جس کے تحت آرٹیکل 270(ڈبل اے )میں تبدیلی کی گئی اور پرویز مشرف کے 14اکتوبر 1999کے ہنگامی حالت کے اعلان ،1999/2000کے پی سی او ز چیف ایگزیکٹیو آرڈر نمبر19,12اور لیگل فریم ورک آرڈرز کے بارے میں قرار دیا گیا کہ ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔اس ترمیم کے بعد پرویز مشرف کے 12اکتوبر کے اقدام کے معاونین اور 17ویںآئینی ترمیم کے تحت اس اقدام کو جائز قرار دینے والے سیاستدان اور پرویز مشرف کی کابینہ کے ارکان بھی ملزم قرار دیئے جاسکتے ہیں لیکن پرویز مشرف کے 1999کے اقدام کو جائز قرار دینے والے ججوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی ۔18ویں آئینی ترمیم کے تحت آرٹیکل 270(ڈبل اے ) کے ذیلی آرٹیکل 3میں واضح کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ ، ہائی کورٹس یا وفاقی شرعی عدالت کے عہدہ پر فائز وہ جج صاحبان جنہوں نے پی سی او نمبرایک مجریہ 2000کے تحت حلف اٹھا رکھا ہے انہیں ایسے ہی تصور کیا جائے گا جیسا کہ وہ آئینی طور پر کام کررہے ہیں۔یوں 18ویں آئینی ترمیم کے تحت پی سی او ججوں کو پرویز مشرف کا معاون یا ساتھی قرار نہیں دیا گیا بلکہ ان کے پی سی او کے حلف کو آئینی تحفظ دیا گیا۔جب آئین انہیںملزم قرار نہیں دیتاتو ان کے خلاف غداری کا مقدمہ کیسے چلایا جاسکتا ہے ؟یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ 17ویں آئینی ترمیم میں پرویز مشرف کے آئین توڑنے کے جن اقدامات کو تحفظ دیا گیا تھا 18ویں ترمیم میں وہ ختم کردیا گیا تاہم ان کی طرف سے جاری کئے گئے قوانین وغیرہ کو تحفظ دے دیا گیا ۔آئین کے آرٹیکل 6کے تحت سنگین غداری کے الزام میں صرف ان ہی لوگوں کے خلا ف مقدمہ چل سکتا ہے جنہیں وفاقی حکومت ملزم قرار دے اور خصوصی عدالت قائم کر کے استغاثہ دائر کرے ۔حکومت اگر صرف ایک شخص کو غدار سمجھتی ہے تویہ اس کا قانونی حق ہے جو سنگین غداری کی سزا کا قانون مجریہ 1973اسے تفویض کرتا ہے ۔جنرل (ر) پرویز مشرف کے 12اکتوبر 1999کے اقدام میں معاونت پر پورے کے پورے ادارے قانون کے کٹہرے میں لائے جاسکتے ہیںلیکن آئین میں ترمیم کئے بغیر سابق چیف جسٹس افتخار چودھری سمیت کسی بھی جج کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی ہے ۔دوسری طرف ایک زمینی حقیقت کے طور پر اس معاملے کو دیکھیں تو غداری کا ایک ملزم قابو میں نہیں آرہا اگر سب کو دھر لیا جائے تو کیا ہوگا ؟ایسا کرنا سیاسی طور پر دانشمند ی ہوگی اور نہ ہی اس سے آئین یا ملک کی کوئی خدمت ہوگی ۔باقی سیاست سیاست کھیلنا تو سیاستدانوں کا مشغلہ ہے جسے وہ اپنا حق بھی قرار دیتے ہیں۔

مزید : صفحہ اول


loading...