ای -لرننگ پروگرام کے ذرےعے طلبا وطالبات تعلیمی اداروں اور اپنے گھروں میں بھی بغیر کسی فیس کے نصابی کتب اور متعلقہ مواد سے فائدہ اٹھا سکیں گے

ای -لرننگ پروگرام کے ذرےعے طلبا وطالبات تعلیمی اداروں اور اپنے گھروں میں بھی ...

لاہور(سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب میں ای- لرننگ پروگرام کا آغاز ایک بہت بڑا انقلابی ا قدام ہے جس سے نہ صرف صوبہ پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے طلبا و طالبات فائدہ اٹھائیں گے- ابتدائی طور پر نویں اور دسویں جماعت کے طلبا و طالبات کے لئے سائنس کی نصابی کتابیں آن لا ئن دستیاب ہوں گی تاہم مرحلہ وار ای لرننگ پروگرام کا دائرہ کار پانچویں،آٹھویں اوربارہویں جماعت کے طلبا و طالبات تک بڑھایاجائے گا - پنجاب حکومت نے ای- لرننگ کا شاندار پروگرام شروع کر کے طلبا وطالبات کو مفت نصابی کتب اور متعلقہ تعلیمی مواد تک رسائی فراہم کی ہے وہ ارفع کریم سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک میں پنجاب انفار میشن ٹیکنالوجی بورڈ اور محکمہ تعلیم پنجاب کے اشتراک سے شروع کئے جانے والے ای- لرننگ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے- صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان، چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ عمر سیف، سیکرٹری سکولز،سیکرٹری ہائر ایجوکیشن، سیکرٹری اطلاعات کے علاوہ اعلیٰ حکام، اساتذہ اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی-وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کمپیوٹر کا بٹن دبا کر ای لرننگ پروگرام کا افتتاح کیاوزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب حکومت نے شعبہ تعلیم کی بہتری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے پروگراموں کے لئے اربوں روپے کے وسائل فراہم کئے ہیں -ےہ وسائل طلبا و طالبات پر خرچہ نہیں بلکہ پاکستان کے تابناک مستقبل کے لئے سود مند سرماےہ کاری ہے - پنجاب حکومت نے گزشتہ دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو فروغ دےنے کا جو ا نقلابی پروگرام شروع کیا تھا ای- لرننگ اسی انقلابی اقدام کی کڑی ہے- سابق دور میں ساڑھے 8ارب روپے کے دو لاکھ 10ہزار لیپ ٹاپ صرف اور صرف میرٹ پر ہونہار طلبا میں تقسیم کئے گئے -پنجاب حکومت رواں برس سکولوں کے طلبا و طالبات کو ٹیبلٹس فراہم کرے گی جبکہ لیپ ٹاپ سکیم بھی جاری رہے گی- پنجاب کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی گئی ہے- سابق دور میں 45سو ہائی سکولوں میں 5ارب روپے کی لاگت سے آ ئی ٹی لیبز قائم کی گئیں -انہوںنے کہاکہ ای- لرننگ پروگرام سے طلبا و طالبات تعلیمی اداروں اور گھر میں بھی بغیر کسی فیس کے نصابی کتب اور متعلقہ موادسے فائدہ ا ٹھا سکیں گے- انشاءاﷲ پنجاب حکومت اگلے مرحلے میں ای -لائبریریاں بھی قا ئم کرے گی- انہوںنے وزیر تعلیم، متعلقہ سیکرٹریز اور چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ہدایت کی کہ شہروں اور قصبوں میں ای- لائبریریاں قائم کرنے کے پروگرام پر فی الفور کام شروع کیا جائے- بلاشبہ لائبریریاں کتب بینی کے فروغ میں ا ہم کردار ادا کرتی ہیں اور ہم نے کتب بینی کے شوق کو طلبا و طالبات میں فروغ دینا ہے کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہی قومیں ترقی و خوشحالی کی منزل طے کرتی ہیں جو کتابوں میں گم ہو جاتی ہیں اور انشاءاﷲ نوجوانوں کا رحجان کتب بینی کی طرف دوبارہ لائیں گے-انہوںنے کہاکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اہمیت جدید دور میں بہت زیادہ بڑھ گئی ہے ےہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت نے مہنگائی اور ڈینگی پر قابو پانے کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا جدید مانیٹرنگ سسٹم اپنایا ہے- جس پر عمل کر کے صوبے میں اشیائے ضرورےہ کی قیمتوں کو باقاعدہ مانیٹر کیا گیا او رعملے کی کارکردگی کو بھی چیک کیاگیااور آج صوبے میں اشیائے ضرورےہ کی قیمتوں میں استحکام آیاہے- اسی طرح ڈینگی کے خلاف بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ڈیش بورڈ سے استفادہ کیا گیا- پنجاب حکومت پولیس اور ٹریفک کے نظام میں بہتری لانے کے لئے بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کر رہی ہے -آئی ٹاور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی قائم کی گئی ہے جہاں پر 300سے زائد طلبا و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں- پنجاب حکومت انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کا نیا کیمپس تعمیر کرے گی اور اس میں ہزاروں طلبا و طالبات جدید علوم کی تعلیم حاصل کرےں گے- صوبے میں ایجوکیشن ریفارمز روڈ میپ پروگرام پر عملدرآمد کے انتہائی حوصلہ افزاءنتائج برآمد ہوئے ہیں او ر15 لاکھ نئے بچے سکولوں میں داخل ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ بچوں کی ڈراپ آﺅٹ شرح روکنے کے لئے موثر اقدامات کئے گئے ہیں -اس پروگرام کو بہتر انداز سے آ گے بڑھانے کے لئے ای ڈی او ایجوکیشن کے تبادلے پر پابندی لگائی گئی ہے- پنجاب حکومت بہتر کارکردگی دکھانے والے ا ی ڈی اوز اور متعلقہ افسران کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے- انہوںنے کہاکہ سکولو ںمیں اساتذہ و طلبا کی حاضری کو یقینی بنانے کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذرےعے مانیٹرنگ انتہائی ضروری ہے او راس مقصد کے لئے انگوٹھوں کے نشان سے حاضری کی چیکنگ سے صورتحال میں بہتری آئے گی- وزیراعلیٰ نے پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس انقلابی فنڈ سے 50ہزار ذہین مگر کم وسیلہ طلبا و طالبات اپنا تعلیمی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں- 10ارب روپے کے اس فنڈ سے سالانہ ایک ارب روپے کی آمدن ہوتی ہے او را یک ارب روپے سے زائد تعلیمی وظائف دےے جارہے ہیں -5سال بعد اس فنڈ کا حجم 20ارب روپے تک پہنچ جائے گا اور لاکھوں بچوں کو تعلیمی وظائف ملیں گے-پنجاب روز گار فنڈ کے ذریعے 4ارب روپے کے قرضے دئےے گئے ہیں اور خیبر پختونخوا کی حکومت نے پنجاب حکومت سے اس پروگرام کا ماڈل وہاں اپنانے میں دلچسپی کا اظہار کیاہے -انہوںنے کہاکہ پاکستان ہم سب کا ہے پنجاب حکومت اس ضمن میں ہر طرح کا تعاون کرنے کے لئے تیار ہے -اگر ہم سب ایک دوسرے سے تعاون کریں تو ہی ملک آگے بڑھے گا- انہوںنے کہاکہ پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کی ووچر سکیم کے تحت 10لاکھ بچوں کو پرائیویٹ سکولز میں تعلیم فراہم کی جا رہی ہے-برطانوی ا دارہ ڈیفڈ کے اشتراک سے پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ فنڈکے منفرد پروگرام کا دائرہ کار مزید18اضلاع تک پھیلایا جا رہا ہے- اس پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جاتاہے- پنجاب حکومت انٹرن شپ پروگرام کے ذریعے 10ہزار روپے ماہانہ وظائف گریجوایٹ کو فراہم کر رہی ہے اور انٹرن شپ پروگرام سے فائدہ ا ٹھانے والوں کو پرائیویٹ اداروں میں تربیت فراہم کی جائے گی -انہوںنے کہاکہ پنجاب حکومت نے سابق دور میں 80ہزار اساتذہ صرف اور صرف میرٹ پر بھرتی کئے -ایک بھی ٹیچر کو سفارش یا میرٹ سے ہٹ کر بھرتی نہیں کیا گیا جبکہ ہم سے پہلے والے دور میں سیاسی بنیادوں پر اساتذہ بھرتی کئے گئے جس سے تعلیم کے شعبے کا بیڑہ غرق ہوا- لیکن ہمارے دور میں کوئی بھرتی میرٹ سے ہٹ کر نہیں کی گئی - انہو ںنے کہاکہ ملک سے انتہا پسندی اور عدم برداشت کے روےوں کو ختم کرنے کے ساتھ بے روزگاری اور غربت کاخاتمہ ا نتہائی ضروری ہے تاکہ ہم خوشحال اور ترقی یافتہ قوم بن کر ابھر سکیں -تقریب سے صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان اور چیئرمین انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ عمر سیف نے بھی خطاب کیا-

ای -لرننگ پروگرام کے ذرےعے طلبا وطالبات تعلیمی اداروں اور اپنے گھروں میں بھی بغیر کسی فیس کے نصابی کتب اور متعلقہ مواد سے فائدہ اٹھا سکیں گے

لاہور(سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب میں ای- لرننگ پروگرام کا آغاز ایک بہت بڑا انقلابی ا قدام ہے جس سے نہ صرف صوبہ پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے طلبا و طالبات فائدہ اٹھائیں گے- ابتدائی طور پر نویں اور دسویں جماعت کے طلبا و طالبات کے لئے سائنس کی نصابی کتابیں آن لا ئن دستیاب ہوں گی تاہم مرحلہ وار ای لرننگ پروگرام کا دائرہ کار پانچویں،آٹھویں اوربارہویں جماعت کے طلبا و طالبات تک بڑھایاجائے گا - پنجاب حکومت نے ای- لرننگ کا شاندار پروگرام شروع کر کے طلبا وطالبات کو مفت نصابی کتب اور متعلقہ تعلیمی مواد تک رسائی فراہم کی ہے وہ ارفع کریم سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک میں پنجاب انفار میشن ٹیکنالوجی بورڈ اور محکمہ تعلیم پنجاب کے اشتراک سے شروع کئے جانے والے ای- لرننگ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے- صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان، چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ عمر سیف، سیکرٹری سکولز،سیکرٹری ہائر ایجوکیشن، سیکرٹری اطلاعات کے علاوہ اعلیٰ حکام، اساتذہ اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی-وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کمپیوٹر کا بٹن دبا کر ای لرننگ پروگرام کا افتتاح کیاوزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب حکومت نے شعبہ تعلیم کی بہتری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے پروگراموں کے لئے اربوں روپے کے وسائل فراہم کئے ہیں -ےہ وسائل طلبا و طالبات پر خرچہ نہیں بلکہ پاکستان کے تابناک مستقبل کے لئے سود مند سرماےہ کاری ہے - پنجاب حکومت نے گزشتہ دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو فروغ دےنے کا جو ا نقلابی پروگرام شروع کیا تھا ای- لرننگ اسی انقلابی اقدام کی کڑی ہے- سابق دور میں ساڑھے 8ارب روپے کے دو لاکھ 10ہزار لیپ ٹاپ صرف اور صرف میرٹ پر ہونہار طلبا میں تقسیم کئے گئے -پنجاب حکومت رواں برس سکولوں کے طلبا و طالبات کو ٹیبلٹس فراہم کرے گی جبکہ لیپ ٹاپ سکیم بھی جاری رہے گی- پنجاب کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی گئی ہے- سابق دور میں 45سو ہائی سکولوں میں 5ارب روپے کی لاگت سے آ ئی ٹی لیبز قائم کی گئیں -انہوںنے کہاکہ ای- لرننگ پروگرام سے طلبا و طالبات تعلیمی اداروں اور گھر میں بھی بغیر کسی فیس کے نصابی کتب اور متعلقہ موادسے فائدہ ا ٹھا سکیں گے- انشاءاﷲ پنجاب حکومت اگلے مرحلے میں ای -لائبریریاں بھی قا ئم کرے گی- انہوںنے وزیر تعلیم، متعلقہ سیکرٹریز اور چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ہدایت کی کہ شہروں اور قصبوں میں ای- لائبریریاں قائم کرنے کے پروگرام پر فی الفور کام شروع کیا جائے- بلاشبہ لائبریریاں کتب بینی کے فروغ میں ا ہم کردار ادا کرتی ہیں اور ہم نے کتب بینی کے شوق کو طلبا و طالبات میں فروغ دینا ہے کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہی قومیں ترقی و خوشحالی کی منزل طے کرتی ہیں جو کتابوں میں گم ہو جاتی ہیں اور انشاءاﷲ نوجوانوں کا رحجان کتب بینی کی طرف دوبارہ لائیں گے-انہوںنے کہاکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اہمیت جدید دور میں بہت زیادہ بڑھ گئی ہے ےہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت نے مہنگائی اور ڈینگی پر قابو پانے کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا جدید مانیٹرنگ سسٹم اپنایا ہے- جس پر عمل کر کے صوبے میں اشیائے ضرورےہ کی قیمتوں کو باقاعدہ مانیٹر کیا گیا او رعملے کی کارکردگی کو بھی چیک کیاگیااور آج صوبے میں اشیائے ضرورےہ کی قیمتوں میں استحکام آیاہے- اسی طرح ڈینگی کے خلاف بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ڈیش بورڈ سے استفادہ کیا گیا- پنجاب حکومت پولیس اور ٹریفک کے نظام میں بہتری لانے کے لئے بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کر رہی ہے -آئی ٹاور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی قائم کی گئی ہے جہاں پر 300سے زائد طلبا و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں- پنجاب حکومت انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کا نیا کیمپس تعمیر کرے گی اور اس میں ہزاروں طلبا و طالبات جدید علوم کی تعلیم حاصل کرےں گے- صوبے میں ایجوکیشن ریفارمز روڈ میپ پروگرام پر عملدرآمد کے انتہائی حوصلہ افزاءنتائج برآمد ہوئے ہیں او ر15 لاکھ نئے بچے سکولوں میں داخل ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ بچوں کی ڈراپ آﺅٹ شرح روکنے کے لئے موثر اقدامات کئے گئے ہیں -اس پروگرام کو بہتر انداز سے آ گے بڑھانے کے لئے ای ڈی او ایجوکیشن کے تبادلے پر پابندی لگائی گئی ہے- پنجاب حکومت بہتر کارکردگی دکھانے والے ا ی ڈی اوز اور متعلقہ افسران کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے- انہوںنے کہاکہ سکولو ںمیں اساتذہ و طلبا کی حاضری کو یقینی بنانے کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذرےعے مانیٹرنگ انتہائی ضروری ہے او راس مقصد کے لئے انگوٹھوں کے نشان سے حاضری کی چیکنگ سے صورتحال میں بہتری آئے گی- وزیراعلیٰ نے پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس انقلابی فنڈ سے 50ہزار ذہین مگر کم وسیلہ طلبا و طالبات اپنا تعلیمی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں- 10ارب روپے کے اس فنڈ سے سالانہ ایک ارب روپے کی آمدن ہوتی ہے او را یک ارب روپے سے زائد تعلیمی وظائف دےے جارہے ہیں -5سال بعد اس فنڈ کا حجم 20ارب روپے تک پہنچ جائے گا اور لاکھوں بچوں کو تعلیمی وظائف ملیں گے-پنجاب روز گار فنڈ کے ذریعے 4ارب روپے کے قرضے دئےے گئے ہیں اور خیبر پختونخوا کی حکومت نے پنجاب حکومت سے اس پروگرام کا ماڈل وہاں اپنانے میں دلچسپی کا اظہار کیاہے -انہوںنے کہاکہ پاکستان ہم سب کا ہے پنجاب حکومت اس ضمن میں ہر طرح کا تعاون کرنے کے لئے تیار ہے -اگر ہم سب ایک دوسرے سے تعاون کریں تو ہی ملک آگے بڑھے گا- انہوںنے کہاکہ پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کی ووچر سکیم کے تحت 10لاکھ بچوں کو پرائیویٹ سکولز میں تعلیم فراہم کی جا رہی ہے-برطانوی ا دارہ ڈیفڈ کے اشتراک سے پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ فنڈکے منفرد پروگرام کا دائرہ کار مزید18اضلاع تک پھیلایا جا رہا ہے- اس پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جاتاہے- پنجاب حکومت انٹرن شپ پروگرام کے ذریعے 10ہزار روپے ماہانہ وظائف گریجوایٹ کو فراہم کر رہی ہے اور انٹرن شپ پروگرام سے فائدہ ا ٹھانے والوں کو پرائیویٹ اداروں میں تربیت فراہم کی جائے گی -انہوںنے کہاکہ پنجاب حکومت نے سابق دور میں 80ہزار اساتذہ صرف اور صرف میرٹ پر بھرتی کئے -ایک بھی ٹیچر کو سفارش یا میرٹ سے ہٹ کر بھرتی نہیں کیا گیا جبکہ ہم سے پہلے والے دور میں سیاسی بنیادوں پر اساتذہ بھرتی کئے گئے جس سے تعلیم کے شعبے کا بیڑہ غرق ہوا- لیکن ہمارے دور میں کوئی بھرتی میرٹ سے ہٹ کر نہیں کی گئی - انہو ںنے کہاکہ ملک سے انتہا پسندی اور عدم برداشت کے روےوں کو ختم کرنے کے ساتھ بے روزگاری اور غربت کاخاتمہ ا نتہائی ضروری ہے تاکہ ہم خوشحال اور ترقی یافتہ قوم بن کر ابھر سکیں -تقریب سے صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان اور چیئرمین انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ عمر سیف نے بھی خطاب کیا-

مزید : صفحہ اول


loading...