دہشت گردی کا خاتمہ اور ہماری ذمہ داریاں

دہشت گردی کا خاتمہ اور ہماری ذمہ داریاں
دہشت گردی کا خاتمہ اور ہماری ذمہ داریاں

  

المیے کی بات یہ ہے کہ نہ تو موجودہ اور نہ ہی ماضی کے کسی حکمران نے سطح غربت سے نیچے آخری ہچکیاں لیتے عوام کی ایک واضح اکثریت کو درپیش مسائل کے انبار سے نجات دلانے کی کوئی ٹھوس سعی کی ہے جس کے باعث عوام کی بھاری اکثریت کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ ایک جانب مہنگائی، بے روزگاری ، غربت، اور افلاس کے اژدھے نے پسے ہوئے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے تو دوسری جانب دہشت گردی، انتہا پسندی اور افراتفری نے قیمتی انسانی جانوں کو جس بے دردی سے ارزاں بنادیا ہے، وہ ہماری تاریخ کا ایک المناک اور سیاہ باب ہے جس پر جتنے آنسو بہائے جائیں کم ہیں، اس کی بنیادی وجہ ہمارے ارباب اختیار کی عدم توجہی ، نااہلی ، ناقص حکمت عملی، حصول اقتدار کی ہوس اور نظریۂ پاکستان کے بنیادی فلسفے پر عدم پیروی رہی ہے، جس کے اثبات میں بے تحاشا دلائل آج بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔ یہ حقیقت اظہرمن لشمس ہے کہ بھارت ہمارا روزاول سے بدترین دشمن چلا آرہا ہے، جس کے خمیر اور لہو میں اسلام دشمنی رچی بسی ہوئی ہے، مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ ہم اسے ’’موسٹ فیورٹ کنڑی‘‘ کی سند دینے میں ذرا بھی بخل سے کام نہیں لیتے ۔ تاریخ کے اوراق پلٹنے سے معلوم ہوگا کہ بھارت نے ہماری نظریاتی اور جغرافیائی اساس میں دراڑیں ڈالنے اور اس میں چھید کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ہے ۔

وادئ جموں وکشمیر میں بسنے والے مسلمانوں کو آج بھی گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے، جبکہ اندرون پاکستان وہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت اپنی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے نفرتوں اور کدورتوں کے بیج بونے کے ساتھ ساتھ اس کے امن اور استحکام کو تہس نہس کرنے کے درپے ہے۔ قومی اخبارات اس بات کے شاہد ہیں کہ بھارت کے خفیہ ایجنٹ اپنی مذموم کارروائیاں کرتے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔ ہماری سرحدوں پر کی جانے والی بلااشتعال فائرنگ کے کثرت سے رونما ہونے والے واقعات اتنے پرانے نہیں کہ انہیں بھلایا جاسکے۔ ملک کے طول وعرض میں ایک عرصے سے جاری دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے براہ راست ملوث ہونے کے ثبوت بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ ہمارے ارباب اختیار بھارت کے خلاف لب کشائی کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے چلے آرہے ہیں، بعض حلقوں کا یہ کہنا بھی درست معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے کچھ طبقوں کے بھارت کے ساتھ وسیع پیمانے پر کاروباری اورتجارتی معاملات ہیں جو اس کے کرتوتوں کو بے نقاب کرنے اور عالمی برادری کو اس کا مکروہ اور گھناؤنا چہرہ دکھانے میں مانع ہیں۔بحیثیت تجزیہ نگار مَیں سمجھتا ہوں کہ ذاتی مصلحتوں کو قومی ایشوز پر ترجیح نہیں دینی چاہئے۔ قرآئن بتاتے ہیں کہ ہم بھارت کی چانکیائی سیاست کا بھانڈا پھوڑنے سے تاحال کتراتے چلے آرہے ہیں ،جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے دیگر صہیونی وطاغونی قوتوں کو ساتھ ملا کر ہماری معیشت، ہماری اقتصادیات اور ہمارے داخلی امن وسلامتی کا جنازہ نکال دیا ہے۔ یادرہے جب تک ہم اپنی خارجہ پالیسی کو قومی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کریں گے،سامراجی قوتیں ہمیں یونہی اچک لینے کی سازشوں میں جتی رہیں گی۔ زیرنظر کالم کے حوالے سے میری ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ وہ مغربی قوتوں کے پنچۂ استبداد سے باہر نکلنے کی جستجو کریں، جو اس وقت ہی ممکن ہے جب ہم بیرونی امداد کی آرزو کو ترک کردیں اور ایک آزاد و خود مختار ریاست ہونے کا ثبوت دیں۔

ہمارایہی المیہ رہا ہے کہ ہم قرضوں پر قرضے لے کر امور سلطنت چلانے کی سعی کرتے رہے ہیں، جس کے باعث ہم ان قوتوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر ان کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے میں ہی اپنی عافیت تلاش کرتے رہے ہیں۔ جیسا کہ مَیں نے اوپر عرض کیا ہے کہ بھارت کبھی ہمارا مربی نہیں ہوسکتا، اس لئے کہ اس کی رگوں میں خون نہیں پانی دوڑتا ہے، وہ امریکہ کا بہی خواہ ہے اور اسرائیل کے ساتھ اس کے دیرینہ قریبی مراسم ہیں، ایسے میں وہ ان سے مل کر اسلامی ممالک، جن میں پاکستان سرفہرست ہے، کی اینٹ سے اینٹ بجانے اور اس کی صفوں میں انتشار وافتراق پیدا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا۔ یادرہے یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ صہیونی قوتیں ایک منصوبہ بندی کے تحت اسلام کے اس قلعے پر پے درپے وار کرنے اور اسے داخلی وخارجی اعتبار سے زک پہنچانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔

فلسطینی مسلمان اسرائیلی جارحیت کا جس بے دردی سے شکار چلے آرہے ہیں ، اس سے کون واقف نہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کلمہ گو مسلمان ہیں۔ ماضی قریب میں فلسطینی مسلمانوں کے لہو کے ساتھ اسرائیل نے جس سفاکیت کے ساتھ اپنے ہاتھ رنگے، اس پر امریکہ سمیت تمام صہیونی قوتوں نے چپ سادھ رکھی تھی ، جس سے یہ کہنا بے وزن اور بے محل نہ ہوگا کہ اسلام دشمن قوتیں تسبیح کے ان دانوں کے ٹکڑے اور حصے بخرے کرتی چلی آرہی ہیں، چاہئے تویہ تھا کہ تمام اسلامی ممالک اتحاد ویکجہتی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجاتے تاکہ استعماری قوتوں کے مکروہ اورناپاک ارادوں کو خاک میں ملایا جاسکتا،مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اسلامی ممالک اپنے اپنے مفادات کے حصار میں بند ہیں، جس کا فائدہ اسلام دشمن قوتیں اٹھاتی چلی آرہی ہیں۔

یہاں یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ ہمارے ہاں ہونے والی دہشت گردی میں استعمال ہونے والی رقم کی فنڈنگ میں ہماری بعض اسلامی ریاستوں کے شامل ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، جس کی بازگشت ایک عرصے سے سنی جارہی ہے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ ہمارے ہاں ہونے والی دہشت گردی میں جہاں بیرونی عناصر ملوث ہیں، وہاں ہمارے اپنے اندر کی بھی بعض کالعدم تنظیمیں ان کی آلۂ کار بنی ہوئی ہیں ۔یادرہے جب تک اس پورے نیٹ ورک کا قلع قمع نہیں ہوگا، مطلوبہ نتائج کا حصول آسان نہیں ہوگا، یہ امر حوصلہ افزاء ہے کہ اب دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عندیہ دیا جارہا ہے جس کی جانب حکمران متوجہ دکھائی دیتے ہیں، مگر یہاں یہ بات فراموش نہیں کی جاسکتی کہ جہاں سانحۂ پشاور کی معصوم شہادتوں نے ارباب اختیار کو خواب غفلت سے بیدار کیا ہے، وہاں ہماری فوج نے بھی حکمرانوں اور سیاسی قوتوں کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

اب وہ اپنی اپنی مصلحتوں سے باہر نکل کر قوم وملک کو مزید تورا بورا بنانے اور ستیاناس ہونے سے بچانے کے لئے ٹھوس حکمت عملی اختیار کریں تاکہ وطن عزیز کو اس گھناؤنے کھیل میں ملوث عناصر سے پاک کیا جاسکے۔ بلاشبہ اس کا کریڈٹ ہماری جری اور بہادر افواج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف کو جاتا ہے جنہوں نے ازخود اس کا نوٹس لیتے ہوئے قوم وملک کی سلامتی اور بقاء کو یقینی بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ بحیثیت تجزیہ نگار مَیں سمجھتا ہوں کہ فوجی عدالتوں کا قیام وقت کا ناگزیر تقاضا تھا، کیونکہ دہشت گرد سول عدالتوں کی قانونی موشگافیوں اور سقم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بچ نکلنے میں کامیاب ہوتے رہے ہیں، جس سے ان کے حوصلوں کو اور زیادہ تقویت حاصل ہورہی تھی۔ راقم اپنے 60سالہ تجربہ وکالت کے نتیجے میں یہ کہنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتا کہ ہمارے مروجہ ملکی قوانین میں قانونی سقم اور قانونی ابہام کا عنصر اس قدر غالب ہے کہ جس سے کسی بھی گنہگار کا بچ جانا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔

قانونی موشگافیاں دور کرنے اور ان میں ناگزیر اصلاحات لانے کے بارے میں راقم ایک نہیں درجنوں بار ارباب اختیار کی توجہ مبذول کراچکا ہے، مگر ہمارے حکمران جس کی جانب توجہ دینے سے تاحال قاصر دکھائی دے رہے ہیں ، مروجہ قوانین میں ترامیم لانا منتخب پارلیمنٹ کا کام ہے، مگر ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ہماری پارلیمنٹ کی ایک قابل ذکر تعداد اپنے سیاسی حصار میں مقید ہے جو ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں سبقت لے جانے کی دوڑ میں لگی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم فوجی عدالتوں کے قیام کا خیر مقدم کریں، جن میں ضروری ترامیم کی جارہی ہیں تاکہ ان عدالتوں کی حقانیت اور شفافیت پر کوئی انگلی نہ اٹھاسکے۔

یادرہے یہی عدالتیں دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں سنگ میل ثابت ہوں گی اور یہ سرزمین ان عاقبت نا اندیشوں اور خوف خدا سے عاری عناصر سے ہمیشہ کے لئے پاک صاف ہوجائے گی ۔ آخری بات جو یہاں عرض کرنے کی ہے کہ ہماری دینی جماعتوں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اپنے مفادات اور مصلحتوں کے حصار سے باہر نکل کر قومی مفادات میں فوجی عدالتوں کے قیام میں پوری قوم کی قیادت کریں تاکہ دہشت گردی کے اس ناسور کو جو دیمک کی طرح ہمیں زک پہنچانے کے درپے ہے، کاجڑ سے خاتمہ کیا جاسکے۔ امید کی جاتی ہے کہ ہماری تمام دینی جماعتیں بھی اس اہم قومی وملی فریضے کی بجاآوری میں اپنے حصے کا کردار ادا کریں گی ۔

مزید :

کالم -