’’ماں ‘‘کے فرمان کا احترام کریں

’’ماں ‘‘کے فرمان کا احترام کریں
 ’’ماں ‘‘کے فرمان کا احترام کریں

  

پاکستان کی قومی تاریخ میں 6 جنوری کو بلاشبہ ایک تاریخ ساز دن کے طور پر یاد رکھا جائیگا جب قوم کے منتخب نمائندوں نے ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے آئین اور ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت سے منظور کیا اور بادل نخواستہ فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دی بلاشبہ یہ ایک کڑوا گھونٹ تھا جسے عوامی خواہشات کی خاطر اور دہشت گردی کی بیخ کنی کے لئے قومی نمائندوں کو نگلنا پڑا مزید برآں گزشتہ روز کی رائے شماری سے دہشت گردی کے حامیوں اور مخالفین میں بھی ایک لکیر واضح ہوگئی ہے۔ آئینی ترمیم کے حوالے سے ہونے والی رائے شماری میں پاکستان مسلم لیگ(ن) پاکستان پیپلز پارٹی ایم کیو ایم اے این بی اور فاٹا کے اراکین نے قومی امنگوں کا ساتھ دیتے ہوئے بل کی حمایت میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جبکہ دہشت گردوں کے لئے نرم گوشہ رکھنے والی جماعتیں جماعت اسلامی اور جے یو آئی فضل الرحمن گروپ نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق جو کبھی پہلے اعلانیہ فوجی عدالتوں کو اختیار دینے کی حمایت کررہے تھے اچانک جماعت کے اندرونی دباؤ کے پیش نظر اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئے تقریباً ایسی ہی صورتحال کا سامنا مولانا فضل الرحمن کو بھی درپیش تھا جس سے وہ پوری قوم کے سامنے بے نقاب ہوگئے ہیں گزشتہ دس بارہ سال سے ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے چھپے عناصر کہاں سے گرفتار ہونے تھے ،سب کو معلوم ہے جن میں نائن الیون کا ماسٹر مائنڈ محمد سلیم شیخ بھی شامل تھا پاکستان میں گزشتہ عام انتخابات میں طالبان اور القاعدہ کی قیادت نے پی پی پی ‘ ایم کیو ایم اور اے این پی کو عملاً انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت نہ دی اور یہ واضح دھمکیاں دی گئیں کہ ہم ان جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ مسلم لیگ(ن) جو پہلے بعض مذہبی جماعتوں کی صف میں کھڑی تھی ۔ قومی جبر کے سامنے سرنگوں ہوئی اور اس ترمیم کو پیش کرنے کا سہرا اپنے سر لیا جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے اس کا بھی طالبان کے لئے نرم گوشہ تھا لیکن بوجہ اپنے مطالبات اس نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تاہم تحریک انصاف کی قیادت پوری طرح اس آئینی ترمیم کی حامی ہے اس بل سے پاکستان کی تمام پروگریسو سیاسی جماعتیں اور مسلح افواج ایک پیج پر آگئی ہیں نیا قومی بیانیہ تحریر کردیا گیا ہے کہ اب پاکستان سے دہشت گردی کے ناسور کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا جائے گا۔ خدا کا شکر ہے کہ اس آئینی ترمیم نے ضیاء الحق کے جہاد فی سبیل اللہ ڈاکٹر ائن کو بھی ہمیشہ کے لئے دفن کردیا ہے اور مسلح افواج ایک قومی فوج کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے اور اسکے دائرہ کار کو ملکی سرحدوں تک محدود کیا گیا ہے۔یہ امر باعث اطمینان ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاکستان کی دفاعی ترجیحات کا ازسر نو تعین کیا اور’’ پاکستان بچاؤ‘‘ کی پالیسی کا آغاز کیا اور نظریہ سٹرٹیجی ڈپتھ کو بھی ترک کیا اور افغانستان سے خوشگوار تعلقات کا آغاز کیا اس کا تمام تر سہرا سول اور فوجی قیادت کو جاتا ہے پہلی بار پاکستان کی سول اور فوجی قیادت نے اس بات کا احساس کیا ہے کہ پہلے ہم اپنا گھر ٹھیک کریں اور آج آئینی ترمیم کی منظوری اس سمت میں پہلا قدم ہے اس سے ان ہزاروں شہداء کی روح کو تسکین ملے گی جو ان دہشت گردوں کے ہاتھوں اس جہان فانی سے رخصت ہوئے اور سب سے اہم بات 16 دسمبر کا ایک سنگین واقعہ جس میں 134 معصوم بچوں نے قربانی دے کر اس قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑا اور مجبور کیا کہ ’’ اب نہیں تو کبھی نہیں‘‘ ہمیں اس ملک سے دہشت گردی کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔ اس آئینی بل اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد بعض نام نہاد سول سوسائٹی اور وکلاء کی انجمنیں شوروغوغا کریں گی کہ بنیادی حقوق کو سلب کردیا گیا ہے۔ہمیں ان لوگوں کو بتانا ہوگا کہ گزشتہ 10-12 سال میں ہماری سول عدالتوں نے دہشت گردی میں ملوث ملزمان کے ساتھ ناکافی شہادتوں کی بنیاد پر نہ صرف ملزمان کی ضمانتیں منظور کیں بلکہ اکثر مقدمات میں انہیں بری کیا گیا۔ ابھی گزشتہ روز ہی دہشت گردی کی عدالتوں سے سزا پانے والے چاروں ملزمان اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے مطابق باعزت بری کردیئے گئے حالانکہ ان کے خلاف سی سی ٹی وی فوٹیج اور عینی شاہدین کے واضح ٹھوس شواہد موجود تھے۔ آئین میں پارلیمنٹ کو ماں کا درجہ دیا گیا اور ریاست کے تمام ادارے ماں کے احکامات پر عمل کرنے کے پابند ہیں بدقسمتی سے پاکستان میں بعض افراد نے پارلیمنٹ میں کئے گئے فیصلوں کی نہ صرف دھجیاں اڑائیں بلکہ ایسے احکامات جاری کئے کہ پارلیمنٹ اپنے قوانین پر نظرثانی کرے حالانکہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کو صرف آئین اور قانون کی تشریح کا حق حاصل ہے عوامی نمائندوں کو ڈکٹیشن دینے کا حق نہیں ہے۔ قوم کی اکثریت نے دہشت گردوں کی بیخ کنی کے لئے ضروری آئینی اور قانونی ترامیم کردی ہیں عدلیہ کو انہیں قبول کرنا چاہئے بلکہ قومی امنگوں کا احترام کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے بعض وکلاء تنظیمیں اور سول سوسائٹی کے ارکان بنیادی حقوق کی آڑ میں یہ معاملات پاکستان کی عدالتوں میں لے کر جائیں گے تاکہ انہیں کالعدم قرار دیا جاسکے لیکن ایسی کوئی کارروائی الیکٹرانک میڈیا میں بیٹھے ہوئے دہشت گردوں کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے عناصر کے لئے منفرد پروگرام پیش کرنے کا جواز تو ضرور فراہم کریں گی لیکن یہ عناصر شہدا کے خون سے نہ صرف غداری کریں گے اور عوام ان کے سول رائٹس کی بنیاد پر گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے وقت کا تقاضا ہے کہ ہماری عدلیہ سمیت ملک کے تمام ریاستی ادارے ماں کے فرمان( پارلیمنٹ) کے مطابق اطاعت کریں اور غیر ضروری موشگافیوں سے اجتناب کریں یہی حالات اور وقت کا تقاضا ہے۔ ہم کالے کوٹ کا احترام کرتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بیشتر ججوں نے مشرف دور سے کام کا آغاز کیا۔

مزید :

کالم -