اب کاروبار پھلیں پھولیں گے

اب کاروبار پھلیں پھولیں گے
اب کاروبار پھلیں پھولیں گے

  

سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیاں بڑھانے کے لئے امن کا درست ہونا پہلی شرط ہے۔ بدامنی اور معاشرتی انتشار سرمایہ کاری کے لئے زہر قاتل ہے۔جہاں لوٹ مار ہو رہی ہو۔ لوگوں کی جان و مال ،عزت و آبرو محفوظ نہ ہو، وہاں کوئی سرمایہ کار اپنا سرمایہ سامنے لانا اور کاروبار میں لگانا کسی طور پسند نہیں کرتا۔ پاکستان بدقسمتی سے گزشتہ کئی برسوں سے بدامنی کی گرفت میں چلا آ رہا تھا۔ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستان ایسا فرنٹ لائن اتحادی بنا کہ اس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی تو کافی حد تک محفوظ رہے، لیکن پاکستان کی سرزمین دہشت گردی کا اکھاڑہ بن گئی۔ آئے روز مسجدوں امام بارگاہوں ،گرجاگھروں پولیس اسٹیشنوں اور پبلک مقامات پر خودکش حملے ہوتے رہے۔ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے۔ بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلر اور اغوا برائے تاوان اور جبریہ مارکیٹیں بند کرانے والوں کا مکمل قبضہ ہو چکا تھا۔ دن دیہاڑے بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا۔ کراچی کے صنعتکاروں اور کاروباری افراد نے اپنے کارخانے فیکٹریاں اور سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنا شروع کر دیا تھا۔

2015ء میں وزیراعظم پاکستان نے تمام سیاسی رہنماؤں کا اجلاس بلایا اور امن کی زبوں حالی پر غور کرنے کے بعد متفقہ طور پر نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی گئی۔ پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا۔ دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر دیئے، انہیں تہس نہس کر دیا گیا اور باقی ماندہ بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ پاک فوج کا عزم ہے پاک سرزمین کو دہشت گردوں کے منحوس وجود سے مکمل طور پر پاک کر دیاجائے گا۔ جنرل راحیل شریف کا عزم پاکستان کے کاروباری افراد اور عوام کے لئے مژدہ جانفزا ہے کہ جب تک ایک بھی دہشت گرد موجود ہے۔ آپریشن ضرب عضب ختم نہیں کیا جائے گا۔ کراچی میں بھتہ خوروں ،ٹارگٹ کلرز اور جبری مارکیٹیں بند کرانے والوں کے خلاف رینجرز کا آپریشن جاری ہے، اب تک کے نتائج حوصلہ افزا ہیں، مارکیٹیں وقت پر کھل جاتی ہیں، کسی کا ڈر یا دباؤ نہیں ہے۔ اب ڈر صرف بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرکو ہے۔ کسی وقت کراچی بندرگاہ سے آتے جاتے تجارتی مال لوٹ لئے جاتے تھے۔ اب بہت کم کسی کو ایسی جرات ہوتی ہے۔

؂

کاروباری طبقہ پاک فوج اور رینجرز کی کارکردگی سے پوری طرح مطمئن ہے۔ بعض سیاسی عناصر رینجرز کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن وفاقی حکومت نے ملکی مفاد میں اپنے دستوری اختیارات سے رینجرز کو پورے اختیارات دے دیئے ہیں جو نہایت خوش آئند اقدام ہے۔ امید ہے کہ 2016ء کے دوران کراچی اور پاکستان امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ اب تک کی صورت حال اس قدر بہترہو چکی ہے کہ اب غیر ملکی بزنسمین کاروباری بات چیت کے لئے پاکستانی کاروباری افراد کو دبئی نہیں بلاتے، بلکہ بلا خوف و خطر کراچی آتے جاتے ہیں۔ بجلی اور گیس کی فراہمی کے لئے حکومت نے متعدد منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔2016ء کے دسمبر تک ان پر پراگریس نظر آئے گی۔اسی طرح پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر بھی کام شروع ہو چکا ہے۔

دسمبر2016ء کے سورج کی آخری کرنیں منصوبے کے خدوخال پر پڑیں گی تو دنیا پاکستان کے مقدر اور مستقبل پر رشک کرے گی۔ تمام سیاست دان اور سیاسی جماعتیں دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ عوام کے لئے خوشحالی لانا چاہتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ خوشحالی جادو کی چھڑی سے نہیں آتی۔ خوشحالی ملک میں صنعتکاری اور کاروباری سرگرمیاں بڑھانے اور پھیلانے سے آتی ہے۔ ایک فیکٹری یا کارخانہ چلتا ہے تو کم از کم دو سو افراد کے روزگار کا بندوبست ہوجاتا ہے۔ طرفہ تماشا ہے کہ حکومت روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے کوئی پروگرام یا سکیم شروع کرتی ہے تو حکومت سے باہر جماعتیں تنقید کے بم چلانا شروع کر دیتی ہیں۔ ہر بات کو ہدف تنقید بنانے سے کاروباری ماحول پر مثبت اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ بعض دوست ملکوں کے اشتراک و تعاون سے ملک میں میگاپراجیکٹس شروع ہو چکے ہیں یا شروع ہونے والے ہیں۔ ہماری استدعا ہے کہ تمام سیاسی رہنما اور جماعتیں حکومت کے ساتھ مل کر خوشحالی کے پیغامبر منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرائیں۔ پاکستان کا کاروباری طبقہ تمام مثبت پروگراموں میں حکومت کے ساتھ ہے اور انشاء اللہ ساتھ دیتا رہے گا۔

مزید :

کالم -