نیا سال اور ہماری سوچ کے زاویے

نیا سال اور ہماری سوچ کے زاویے
 نیا سال اور ہماری سوچ کے زاویے

  



حسب روایت اس سال بھی دنیا بھر میں سال نو کو زبردست اور پرجوش انداز میں ویلکم کیا گیا۔بیشتر ممالک میں آتش بازی کے شاندار مظاہرے کیے گئے اور آسمان پر رنگ و نور کے جلوے ساری رات نظارے بکھیرتے رہے۔یاد رہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں نئے سال کی آمد پر مختلف طریقوں سے جشن منایا جاتا ہے اور بعض ممالک میں تو اس موقع کی مناسبت سے بڑی دلچسپ روایات موجود ہیں جن کے ذریعے وہاں کے باشندے اپنے نئے سال کا آغاز کرتے ہیں اور انہیں اپنی خوش بختی کی علامت سمجھتے ہیں ۔ یہ کافی دلچسپ ، طویل اور ایک الگ موضوع ہے جس پر انشاء اللہ پھر کبھی سہی۔دوسروں کی دیکھا دیکھی ہمارے یہاں بھی عموماًبڑے شہروں میں نیو ائیر نائیٹ منانے کا رواج دیکھنے کو ملتاہے لیکن ہمارا سٹائل ہر کام میں ذرا الگ ہی دکھائی دیتا ہے اور اس میں ہم قصور وار بھی تھوڑے کم ہیں کیونکہ جہالت کے دبیز پردے ابھی تک ہمارے ذہنوں میں چھائے ہوئے ہیں اور جب تک یہ ہٹنے نہ پائیں مجال ہے کہ کوئی کام ڈھنگ سے ہو پائے۔ اس رات منچلے نوجوان گھروں سے نکلتے ہیں ۔ سڑکو ں پر خو ب اودھم مچایا جاتا ہے، بطور فیشن ہلڑ بازی کی جاتی ہے اور کچھ بیوقوف ایسے بھی ہیں جو جان کی بازی لگا کر ون ویلنگ جیسے خونی کھیل میں بھی حصہ لیتے ہیں حتیٰ کہ انتظامیہ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے اور بعض اوقات تو ان بگڑے رئیس زادوں کو باقاعدہ جیل یاترا بھی کروائی جاتی ہے۔

خیر بات چل نکلی ہے منچلے نوجوانوں کی تو ان کی عادات دیکھ کر شدید کڑھن ہوتی ہے۔ کیونکہ اقوام عالم کی تمام قوموں کے مستقبل کا انحصار ان کے نوجوانوں پر ہے ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ نوجوان ہی کسی قوم کے دست و بازو ہوا کرتے ہیں اور وقت پڑنے پر زندگی کے ہر میدان میں نہ صرف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوتے ہیں بلکہ اپنی خدا داد صلاحیتوں اور کارناموں سے ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہمارے نوجوانوں نے جو طرز زندگی اختیار کرلیا ہے اس سے تو دور دور تک نہیں لگتا کہ کو ئی نمایاں کارنامہ سر انجام دیں۔بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے نوجوان ہر وقت خوابوں اور سرابوں میں رہتے ہیں ۔ راقم نے اس سلسلہ میں جب بھی نوجوان دوستوں سے بات کی تو ہمیشہ بلند خیالات سننے کو ملے ۔ مثال کے طورپر ہر نوجوان کی یہ خواہش ہے کہ اس کے کام کو خوب سراہا جائے یہاں تک کہ نیشنل اور انٹر نیشنل لیول پر اسے پذیرائی حاصل ہو ۔ حقیقت یہ ہے اس سب کچھ کے لیے انتھک محنت اور عملی کام کی ضرورت ہے لیکن سستی اور کاہلی اس طرح گلے پڑ گئی کہ کام کرنے میں بیچاروں کا جی نہیں لگتا ۔ اس لیے زیادہ تر ہوائی قلعوں سے ہی کام چلایا جاتا ہے۔ تمام نوجوان اپنے اپنے شعبہ میں پورا زور لگائیں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کامیابی مقدر نہ بنے ۔ آزمائش شرط ہے۔اب میرے خیال میں نوجوان احباب کا ضمیر جھنجھوڑنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے لیکن پھر بھی حضرت اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے بقول :

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

بہر حال جہاں تک نئے سال کی آمد کا تذکرہ ہے تو ہمارے ہاں عجیب تماشا دیکھنے کو ملتا ہے۔ گزرے برس کے آخری ایک دو دنوں میں زیادہ تر لوگ ماضی کی یادوں کے حوالے سے ایک دوسرے کوایس ایم ایس بھیجنا شروع کردیتے ہیں۔جن میں سال بھر کے نامکمل اور ادھورے خوابوں کا شکوہ اور یہاں تک کہ سر زد ہونے والی غلطیوں کی معافی تلافی بھی طلب کی جاتی ہے۔ اسی قسم کے خیالات سوشل میڈیا کی زینت بھی بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر کے ذرائع ابلاغ (پرنٹ اور الیکٹرانک) میں بھی بیتے برس کے واقعات کو نمایاں کوریج دی جاتی ہے۔اس کے بعد اگلے سال کے طلوع آفتاب کے ساتھ ہی دعاؤں او ر مناجات کا ایک دراز سلسلہ چل نکلتا ہے اور امید باندھ لی جاتی ہے کہ یہ سال ہمارے لیے خوشیوں اور کامرانیوں کا سال ہوگا یوں پورا سال اسی امید کے سہارے گزر جاتا ہے۔ایک طرف تو وقت منزلوں پہ منزلیں مارتا جارہا ہے لیکن دوسری طرف ہم اچھے وقتوں کی آس لگائے یہ بھول بیٹھے ہیں کہ دعا کے ساتھ ساتھ دوا بھی ضروری ہے ۔کتاب مبین میں واضح طور پر حکم ہواکہ ’’ بے شک ہم انسان کو وہی کچھ دیتے ہیں جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔‘‘ لیکن افسوس کہ ہم امیدوں کے سہارے زندہ ہیں اوربغیر کوشش کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، جس کا نتیجہ سامنے ہے۔

چاہیے تو یہ تھا کہ ہم گزشتہ سال سرزد ہونے والی کوتاہیوں پر ایک نظر ڈالتے اور اگلے سال انہیں دور کرنے کی پوری کوشش کرتے ۔ اگر ایسا ہوتا تو آخر کار ہمارے حالات تبدیل ہو ہی جاتے ۔کہتے ہیں کہ صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے لیکن ہم تو بد قسمتی سے بھولنے والے وہ مسافر ہیں جو تھوڑے تھوڑے بھولے بھی ہیں جن کے دل سے شاید احساس زیاں جاتا رہا ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہماری قومی ذمہ داریاں کیا ہیں ، اس وقت ملک کن حالات سے دوچار ہے، ملکی ترقی کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے او ر دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی صفوں میں کھڑا ہونے کے لیے ہمیں کیا رہنما اصول اپنانے ہونگے۔ لیکن ہمیں شارٹ کٹ کی ایسی لت پڑی ہے کہ ہر وقت اسی چکر میں رہتے ہیں کہ کسی دن الہ دین کا چراغ ہاتھ لگے جسے رگڑیں وہ پوچھے جی میرے آقا تو ہم اپنی تمام خواہشات کا اظہار کردیں اور یوں رات کو سوئیں تو ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں اور صبح اٹھیں تو ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہو، اس کے لئے دن رات ایک کرنا پڑے گا۔ اگر ہمیں واقعی احساس ہے کہ ہمارے حالات بھی پلٹا کھا جائیں تو پھر محض ہندسے نہیں سوچ کے زاویے بدلنے ہونگے۔خدانخواستہ ایسا کچھ نہ کر سکے تو صاحبو کوئی تبدیلی رونما ہونے والی نہیں صرف کیلنڈر بدلا ہے۔آخر میں ایک دوست کے بھیجے گئے اس خوبصورت شعر کے ساتھ اجازت اور دلی دعاکہ:

نہ کو ئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے

خدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے

مزید : کالم