تنازع کشمیر کے حل کے بغیر کوئی امن نہیں

تنازع کشمیر کے حل کے بغیر کوئی امن نہیں

  

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ کشمیر، پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازع ہے جموں و کشمیر پاکستان کی شہ رگ اور شناخت کا لازمی جزو ہے، کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کا حصہ ہونا چاہئے، ان کے حقِ خود ارادیت کی حمایت ہر پاکستانی کے ایمان کا حصہ ہے، اقوامِ متحدہ کی زیر نگرانی استصوابِ رائے کے ذریعہ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دیا جائے، پاکستان کشمیریوں کی سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور بین الاقوامی برادری کو جگانے کی کوششیں کرتا رہے گا آزاد ی کے جذبے اور آوازوں کو گولیوں کی آواز سے دبایا نہیں جاسکتا اگر ایسا ہوتا تو دنیا کی آدھے کے قریب آبادی آج بھی غلام ہوتی، ہمارے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، ہم ان کے ہر دکھ اور خوشی کومحسوس کرتے ہیں، کشمیری بھائیوں کی خوشی پر خوش ہوتے ہیں اور ان کی تکلیف پر غمزدہ ہوتے ہیں، بے پناہ مظالم کے باوجود کشمیریوں کو آزادی کی جدوجہد جاری رکھنے پر سلام پیش کرتا ہوں کشمیریوں کی نوجوان نسل کشمیریوں کی تاریخ میں نیا باب لکھ رہی ہے، برہان مظفر وانی جیسے متحرک اور کرشمائی صلاحیتوں کے مالک رہنما کی شہادت وادی میں آزادی سے محبت کرنے والے لوگوں کے لئے نیا موڑ ثابت ہوئی ہے، ایک آواز کو دبانے کے باعث ظالم افواج کو ہزاروں افراد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پانچ ماہ سے زائد عرصے سے کشمیریوں کی جاری جدوجہد کشمیریوں کے پختہ عزم کا اظہار ہے، وہ اسلام آباد میں مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر بین الاقوامی سیمینار اور ادبی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

دنیا بھر میں کشمیریوں نے گزشتہ روز یوم حقِ خود ارادیت منایا اس موقع پر جلسے جلوسوں اور ریلیوں کا اہتمام کیا گیا دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں قتلِ عام کشمیریوں کی نسل کشی اور وہاں ہندوؤں کو کشمیری باشندے ظاہر کر کے ان کا ڈومیسائل بنانا غیر قانونی اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی ہے مسئلہ کشمیر کو مستقل عالمی فورموں پر اٹھا رہے ہیں کشمیر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے کہا کہ 6ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے جارحیت جاری ہے، اس دوران 150سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں اور ہزاروں کو بینائی سے محروم کردیا گیا ہے۔ دس ہزار نوجوان حراست میں ہیں، کشمیر میں قتلِ عام کرکے کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے اور اب ہندوؤں کو باہر سے لا کر غیر قانونی طور پر آباد کیا جارہا ہے۔

چھ ماہ پہلے جب مقبوضہ کشمیر میں آزادی کشمیر کی تازہ تحریک شروع نہیں ہوئی تھی۔ بھارت کا خیال تھا کہ کشمیر کا مسئلہ ختم ہو چکا ہے اور اس پر مذاکرات کی بھی کوئی ضرورت نہیں، لیکن کشمیری نوجوانوں نے اپنے لہو کا نذرانہ پیش کرکے ثابت کر دیا کہ کشمیر کا مسئلہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ کشمیر ی نوجوانوں میں آزادی کی تڑپ بھی پہلے کی طرح موجود ہے بلکہ فزوں تر ہورہی ہے اور یہ لہر ان کے خون میں موجزن ہے، بھارت کو اگر کوئی غلط فہمی تھی تو برہان وانی کی شہادت سے بالکل دور ہو جانی چاہئے کیونکہ کرفیو کے باوجود جس طرح کشمیری نوجوان اپنی جانو ں کی پروا کئے بغیر دیوانہ وار جنازے کے جلوس میں شرکت کے لئے آئے اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ گولیوں کی بوچھاڑ سے جذبہ حریت کو سرد کرنا ممکن نہیں،بھارتی ظالم افواج نے یہاں ایسی گنیں استعمال کیں جن سے سات ہزار سے زیادہ کشمیری نوجوان بینائی سے محروم ہوگئے اس ظلم و ستم کے باوجود اگر کشمیری اب بھی اس تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہیں تو اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ وہ آزادی کے لئے ہر قیمت دینے پر تیار ہیں۔

پاکستان نے کشمیر کے مسئلے کو دنیا کے ہر فورم پر اٹھایا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے خطاب میں عالمی ادارے کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ اپنی قرار دادوں پر عمل درآمد کرانا اس کی ذمے داری ہے اس لئے اب وقت ہے کہ ان قرار دادوں پر عمل درآمد کرایا جائے اور استصواب رائے کے ذریعے کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے فیصلے کا موقع دیا جائے کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے خواہش مند ہیں۔ بھارت میں اب ایسے دانشوروں کی کمی نہیں جو کھلم کھلا اس رائے کا اظہار کررہے ہیں کہ بھارتی حکومت نے بزور قوت کشمیریوں کو اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے اور زیادہ عرصے تک ایسا کرنا ممکن نہیں، مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی یہ رائے بھی سامنے آ چکی ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ مذاکرات کر کے مسئلے کا پر امن حل تلاش کیا جائے، لیکن نریندر مودی کی حکومت اندھا دھند طاقت استعمال کرکے یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ کشمیریوں کو طاقت کے ذریعے ہمیشہ اپنے ساتھ ملائے رکھے گی۔تازہ ترین حربہ یہ اختیار کیا جارہا ہے کہ باہر سے ہندو باشندوں کو لاکر وادی میں آباد کیا جارہا ہے اور انہیں کشمیری ظاہر کر کے آئندہ اسمبلی کا انتخاب جیتنے کی کوشش کی جارہی ہے جو خام خیالی کے سوا کچھ نہیں، اگر بھارتی حکومت کشمیر میں امن چاہتی ہے تو اس کا سیدھا راستہ یہی ہے کہ کشمیریوں کے مطالبے کے سامنے سر جھکا دیا جائے، اقوامِ متحدہ کو بھی اس معاملے میں اپنی ذمے داریاں پوری کرنی چاہئیں اگر ایسا نہ کیا گیا تو کشمیری نوجوانوں کی تحریک کوئی بھی رخ اختیار کرسکتی ہے۔

بھارتی قیادت خاص طور پر نریندر مودی اگر یہ سمجھتے رہے ہیں کہ وقت گزاری کے تحت مذاکرات کر کے مسئلہ کشمیر کو گرد کے نتیجے دبا دیا جائے گا تو ان کی یہ غلط فہمی بھی اچھی طرح دور ہوگئی ہوگی، اگر انہوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ دنیا کو اب اس مسئلے سے کوئی دلچسپی نہیں رہی تو بھی یہ واضح ہو جانا چاہئے کہ تنازع کشمیر کی وجہ سے ہی یہ خطہ ایٹمی فلیش پوائنٹ بن چکا ہے اور خطے کے حالات اسی مسئلے کی وجہ سے اس نہج کو پہنچ چکے ہیں کہ علاقے کی دو ایٹمی قوتیں کسی بھی وقت آمنے سامنے آ سکتی ہیں، اسی لئے دنیا کو خطے کے حالات پر تشویش ہے۔ گزشتہ دنوں کشمیر کی کنٹرول لائن پر جو صورت حال رہی وہ اس کا کافی و شافی ثبوت ہے اسی وجہ سے بھارتی سیاسی اور عسکری قیاد ت کو بے سروپا دعوے کرنے کی ضرورت بھی پیش آئی۔بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستانی علاقے میں’’ سرجیکل سٹرائیک‘‘ کی لیکن کنٹرول لائن پر اس طرح کے کوئی آثار نہیں دیکھے گئے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس کا جواب یہ دیا کہ اگر کوئی بھارتی سرجیکل سٹرائیک کے لئے پاکستان کی سرحد عبور کرے گا تو اسے جو جواب دیا جائے گا اس کی تفصیلات آنے والے بھارتی فوجیوں کو نصاب میں پڑھا ئی جائیں گی۔پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی بھارتی دعوے کے جواب میں کہا ہے کہ نہ تو بھارت نے کبھی سرجیکل سٹرائیک کی اور نہ وہ اس پوزیشن میں ہے کہ آئندہ بھی کبھی ایسا کرسکے، اس لئے دن میں ایسے خواب دیکھنے کا مشغلہ تو ترک کر دینا چاہئے،البتہ خطے کے امن کا تقاضا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرے اور کشمیریوں کے اطمینان کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرے، اس بنیادی تنازعے کو نظر انداز کر کے نہ تو خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی تعلقات کی بہتری کا کوئی تصور کیاجا سکتا ہے، بھارت کے لئے یہی راستہ ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کشمیر سمیت تمام مسائل پر مذاکرات کر کے امن کے حالات پیدا کرے۔

مزید :

اداریہ -