جنرل راحیل شریف ، 39اسلامی ممالک کی مشترکہ فوج کے سربراہ!

جنرل راحیل شریف ، 39اسلامی ممالک کی مشترکہ فوج کے سربراہ!

  

پاکستان کے سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل (ر) راحیل شریف اور شاہ سلمان کے درمیان مذاکرات کامیاب رہے ، خبر ہے کہ جنرل راحیل شریف 39اسلامی ممالک کی مشترکہ فوج کے سربراہ ہوں گے، وہ گزشتہ دو ہفتوں سے سعودی عرب میں ہیں اس دوران عمرہ کی ادائیگی کے علاوہ انہوں نے روضہ رسولؐ پر بھی حاضری دی اور اس کے بعد شاہ سلمان، سعودی وزیر دفاع اور فوجی حکام سے تفصیلی ملاقاتیں اور مذاکرات کئے اسی حوالے سے یہ اطلاعات شائع ہوئی ہیں کہ 39اسلامی ممالک نے دہشت گردی کا مقابلہ مل کر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، فوج کی تیاری اور اس کی تربیت اور تنظیم کے لئے شاہ سلمان کی نگاہ جنرل راحیل شریف پر پڑی جنہوں نے پاکستان میں آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمے میں دلیرانہ اقدام کئے اور دہشت گردوں کے مراکز ختم کرنے اور ان کو بھاگنے پر مجبور کردیا، ان کی کارکردگی کی ہر طرف سے تعریف ہوتی تھی۔

جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی سعودی وزیر دفاع اور وزیر خارجہ نے پاکستان آکر ان سے ملاقات کی اور شاہ سلمان کا پیغام پہنچایاتھا، ان کی خواہش تھی کہ جنرل ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد ہی آکر کا م شروع کردیں تاہم جنرل راحیل شریف نے تھوڑا وقت لیا اور گزارش کی کہ اس مشترکہ فوج کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہ کیا جائے بلکہ اسے یہ کردار بھی سونپا جائے کہ جہاں متحارب فریق مسلمان ہوں ان کے درمیان اختلافات ختم کرا کے مصالحت بھی کرائی جائے۔ حالیہ ملاقاتوں میں تمام امور طے پاگئے اور یوں بھی مشترکہ فوج کے قیام کے اعلامیہ میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ اس فوج کا قیام دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہے کہ تمام مسلم ممالک اس کا شکار ہیں، جنرل راحیل شریف کی قیادت سے یہ توقع وابستہ کی گئی ہے کہ وہ مشترکہ فوج کے قیام، تربیت اور نظم کے ساتھ دہشت گردوں سے نجات کے لئے بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے، معاملات طے پاچکے باقاعدہ اعلان تقرر کے لئے تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ جنرل راحیل شریف کے ساتھ پاکستان کا بھی اعزاز ہے کہ پاکستان کے سپوت اور پاک فوج کے سابق سربراہ کو اتنے بڑے فرائض کا اہل جانا گیا، ہم جنرل راحیل شریف اور اسلامی ممالک کی مشترکہ فوج کی کامیابی کے لئے دعاگو ہیں۔

مزید :

اداریہ -