احتساب کمیشن کے اندرونی اختلافات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

احتساب کمیشن کے اندرونی اختلافات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

  

ایک اخباری اطلاع کے مطابق خیبر پختونخوا کے احتساب کمیشن کے کمشنروں اور ڈائریکٹوریٹ کے عہدیداروں کے درمیان اختلافات سنگین صورت حال اختیار کرتے جا رہے ہیں اور ڈائریکٹوریٹ احتساب کمیشن کے عہدیداروں نے احتساب کمشنروں کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیئے ہیں۔ان عہدیداروں نے اپنی شکایات پر مبنی ایک تفصیلی درخواست خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کو بھی ارسال کی ہے جس میں کمشنروں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کررہے ہیں۔30صفحات پر مشتمل اس عرضداشت میں 10صفحات کی درخواست شامل ہے جبکہ 20صفحات پر احتساب کمشنروں پر عائد الزامات کی تفصیل درج کی گئی ہے۔احتساب کمشنروں اور ڈائریکٹوریٹ کے اعلیٰ عہدیداروں کے مابین اختیارات کی سردجنگ تو طویل عرصے سے جاری ہے لیکن اختلافات کو ہوا تب ملی جب گذشتہ دنوں ڈائریکٹوریٹ کے عہدیداروں نے اپنی شکایات باقاعدہ سپیکر صوبائی اسمبلی کو ارسال کیں جس کے بعد اختلافات کے مختلف پہلو میڈیا کی زینت بھی بنے۔صوبائی احتساب کمیشن خیبر پختونخوا کرپشن اور بدعنوانیوں کے خاتمے کے لئے قائم کیا گیا تھا ۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے حکومت قائم ہونے کے بعد کرپشن کے خاتمے کو اولین ترجیح بھی قرار دیا تھا جس کے بعد صوبائی وزیر سمیت کئی اعلیٰ افسر بھی احتساب کے شکنجے میں آئے۔صوبائی حکومت کے اس اقدام کو ہر سطح پر سراہا گیا۔لیکن صوبائی احتساب کمیشن کے اندرونی اختلافات کی کہانی جب سے منظرِ عام پر آئی ہے اس پر ہر طرف سے تنقید کی جارہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ جو ادارہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی روک تھام کے لئے قائم کیا گیا تھا اس کے اندر خود اختیارات کی جنگ چھڑ چکی ہے ۔ایسے میں خیبر پختونخوا میں احتساب اور کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے ۔عام شہری بھی سراپا سوال ہیں کہ صوبائی احتساب کمیشن میں اختیارات کی جنگ کے حوالے سے پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت یا صوبائی حکمران میدانِ عمل میں کیوں نہیں آئے اور یہ تنازع پبلک ہونے سے قبل حل کیوں نہیں کرایا گیا۔اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ احتساب ڈائریکٹوریٹ کے عہدیداروں کی ضخیم درخواست کا صوبائی اسمبلی کے سپیکر کی سربراہی میں قائم قانون ساز کمیٹی ایک دو روز میں باقاعدہ جائزہ لے گی اور اُن الزامات کی چھان بین کی جائے گی جو احتساب کمشنروں پر عائد کئے گئے ہیں۔ہمارے خیال میں پارٹی قیادت اور صوبائی وزیر اعلیٰ خود آگے بڑھیں اور اس معاملے کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

مزید :

اداریہ -