بھٹو کی برسی، بلاول کی آمد اور طرز خطاب

بھٹو کی برسی، بلاول کی آمد اور طرز خطاب
 بھٹو کی برسی، بلاول کی آمد اور طرز خطاب

  

اطلاع ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے اکلوتے صاحبزادے اگلے ہفتے لاہور آرہے اور یہاں کافی دن قیام کریں گے، وہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین ہیں اور یہاں اپنی جماعت کے تنظیمی امور نمٹائیں گے وسطی پنجاب کی تنظیم سازی مکمل ہوگی اور وہ ضلعی تنظیموں کی منظوری دیں گے، بلاول بھٹو زرداری کا ذکر تو خبر کے حوالے سے ہوا تاہم اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ روز ذوالفقار علی بھٹو کی پیدائش کا دن تھا اور جیالوں نے اسے سالگرہ کے طورپر منایا گو کہ وہ دنیا میں موجود نہیں ہیں، تاہم ان کا لگایا پودا پیپلز پارٹی کی صورت میں ہے، جسے2013ء کے انتخابات میں بہت بڑا دھچکا پہنچا اور اب یہ نوجوان لیڈر عہد رفتہ کو آواز دے کر پارٹی کو پھر سے مقبولیت کی شاہراہ پر گامزن کرنے کی فکر میں ہے، پیپلز پارٹی کی حالیہ کیفیت اور ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کے حوالے سے ہمیں بھی گزرے وقت کی کچھ باتیں یاد آگئی ہیں، 4-5جولائی کی شب جنرل ضیاء الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء لگادیا تھا، آئین کو ’’زیر التوا‘‘رکھا اور بالآخر بھٹو کو تختہ دار پر بھی لٹکا دیا تھا۔

اس دور میں 1977ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی جیت گئی تھی لیکن مد مقابل پاکستان قومی اتحاد نے نتائج تسلیم نہ کئے اور زبردست تحریک چلی تھی اسی کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالا تھا، ان دنوں جب پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کردی گئی، بھٹو پہلے زیرتحویل رہے، پھر رہا کئے گئے اور انہوں نے ملک بھرکا دورہ بھی کیا کہ جنرل ضیاء الحق نے اکتوبر 77میں عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کردیا تھا ان دنوں ذوالفقار علی بھٹو ہیجانی کیفیت میں بھی مبتلا ہو جاتے تھے اگرچہ وہ بہت مضبوط اعصاب کے مالک تھے اور اس کا ثبوت انہوں نے مقدمہ قتل کے دوران بھی دیا تھا، ان کی یہ جھلاہٹ 1977ء کے انتخابات اور قومی اتحاد کی تحریک کے اعلان کے ساتھ ہی بعض موقع پرستوں کا پارٹی سے الگ تھلگ ہونا اور لاتعلقی کا رویہ تھا ان حضرات پر انہوں نے بھروسہ کیا لیکن یہ بڑے زمیندار اور جاگیر دار تھے اور مصیبت کے وقت بھاگ تھے، ایسے وقت بھٹو کو پارٹی کی اہمیت کا زیادہ احساس ہو گیا تھا اور وہ پارٹی کی تنظیم نو کے حوالے سے ایک دوسرے لائحہ عمل پر غور کررہے تھے جس کے مطابق وہ پارٹی توڑ کر نئی جماعت بناتے، یہ نتیجہ ہم نے ان کی اس گفتگو سے اخذ کیا جو لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں ہوئی اور انہوں نے بتایا کہ عظیم چینی لیڈر ماؤز ے تنگ نے کہا تھا اگر پارٹی کا نظم و نسق خراب ہو جائے اور لوگوں کی دلچسپی بھی کم رہ جائے تو اس جماعت کو توڑ دینا اور ایک نئی جماعت بنالینا چاہئے،لیکن حالات اور موت نے ان کو مہلت ہی نہ دی کہ وہ ایسے اقدام اٹھاتے اور پھر پارٹی عروج حاصل کرتی۔

ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار اور اس سے پہلے کئی واقعات روپذیر ہوئے اور بھٹو کی طرف سے اپنے مد مقابل راہنماؤں کا مضحکہ بھی اڑایا گیا، ایرمارشل (ر) اصغر خان کے بارے میں بھی ’’آلوخان‘‘کہہ کر مزاح پیدا کرنے کی کوشش کی اور ایسا ہی کئی اور رہنماؤں کے حوالے سے بھی کہا گیا اب جب قیادت بھٹو کے نواسے اور داماد آصف علی زرداری کے پاس آئی تو ناقدین کے مطابق تو نوبت ایسی آ چکی، جہاں جماعت تحلیل کر کے نئی جماعت چاہئے، لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔بلاول بھٹو زرداری آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ اورذہین نوجوان ہیں، وہ یہاں تقریر کرتے اور مشاورت سے بھی کام لیتے ہیں، معلوم نہیں ان کو کس نے یہ سبق پڑھایا یا پھر وہ خود سے سیکھ کر تقریر کرتے وقت اپنے نانا کی نقل کرتے ہیں، ان کا اپنا مخصوص لب و لہجہ ہے اور یقیناًآکسفورڈ میں تعلیم حاصل کرنے والا وہاں مباحثوں میں بھی حصہ لیتا رہا ہوگا اور اس کا ایک اپنا انداز بیان اور ٹھوسس پس منظر بھی ہوگا، لیکن یہاں وہ والدہ کی مثال پر عمل نہیں کر رہے اور براہ راست دوسری قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، اگرچہ ان سے مہذب طرز عمل کی توقع رکھی جارہی ہے، لیکن کچھ قریبی لوگ ’’مولا جٹ‘‘ والا کردار ہی ادا کرانا چاہتے ہیں اب یہ ایک کنفیوژن والی بات ہے کہ اس میں ان کی اپنی ذاتی خواہش اور رائے کتنی ہے۔

ہمیں یاد ہے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو موجودہ اور اس وقت کے آدھے پاکستان میں برسراقتدار آئے تو محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی امور مملکت میں شام کیا، ان کے ذہن میں اس وقت بھی جانشین کے طور پر بے نظیر بھٹو ہی تھیں کہ محترمہ کو دفتر خارجہ بھیجا جاتا اور پھر ان کو اردو باقاعدہ پڑھائی گئی، ہم یہ بات اس لئے یقین سے کہتے ہیں کہ محترمہ کی والدہ بیگم نصرت بھٹو روزنامہ مساوات کی چیئرمین تھیں، ہم مساورت ورکرز یونین کے بانی صدر ہیں اور ان دنوں ہماری چیئرپرسن صاحبہ سے خط و کتابت بھی ہوتی تھی ان کی طرف سے خط اکثر بے نظیر بھٹو ہی لکھتیں اور اردو میں لکھا جاتا( حفیظ راقب مرحوم کے پاس ایک دو خط تھے)بعد میں گردش حالات سے جو ہوا سو ہوا، محترمہ کو قیادت سنبھالنا پڑی اور وہ سیاسی میدان عمل میں آئیں تو تقریریں بھی اردو میں کیں اور گفتگو بھی کرتی تھیں، تاہم ان کا انداز بیان اپنا تھا اور جلسوں سے خطاب بھی اپنے ہی طریقے سے کرتی تھیں۔ہمارے خیال میں بلاول بھٹو زرداری کو بھی اپنے نانا کے اصولوں اور سیاست کا مطالعہ کر کے اور ان کی تقریر میں دیکھ کر پھر اپنی والدہ کے خطابات کی ویڈیوز بھی دیکھنا چاہئیں اور خود اپنے انداز میں ہر دو کے اثرات کو قبول کرنا اور آگے بڑھنا چاہئے، اسی طرح ان کو زبردستی کی پھبتی کسنے کی بجائے آکسفورڈ سے مستعار لطیف طنز پر گزارہ کرنا چاہئے کہ وہ نہ تو بھٹو بن سکتے ہیں اور نہ ہی محترمہ کا طرز اختیار کرپائیں گے ان کا انداز اور طرز اپنا ہی ہوگا اور یہی بھلا لگے گا۔

مزید :

کالم -