شام میں جنگ بندی کا معا ہدہ

شام میں جنگ بندی کا معا ہدہ
 شام میں جنگ بندی کا معا ہدہ

  

شام میں جنگ بندی کے معاملے پر ترکی اور روس کے مابین ہونے والے معاہدے کو بہت زیادہ اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔ شام میں اس سے پہلے بھی جنگ بندی کے تین معاہدے ہوچکے ہیں جو ناکام رہے، اب حال ہی میں کئے گئے اس معاہدے کی کامیابی کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا، مگربہت سے عوامل کے باعث یہ معاہدہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اس معاہدے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ اور مغرب کا اہم اتحادی اور نیٹو کا رکن ملک ترکی، شام کی جنگ میں 2012ء سے جاری اپنی پالیسی کو مکمل طور پر چھوڑ کر روس کے ساتھ معاہدے میں شامل ہوگیا ہے۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ کون سے ایسے عوامل ہیں، جن کے باعث ترکی کو روس کے ساتھ معاہد ہ کر نا پڑا۔ 2012ء سے ہی نیٹو ممالک اپنی اس تشویش کا اظہار کر رہے تھے کہ شام میں امریکی پالیسیوں کے باعث ترکی کا جھکاؤ واضح طور پر روس کی جانب ہوسکتا ہے۔ 2015ء میں جب داعش نے شام اور عراق کے کئی علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا تو امریکی صدر بارک اوباما نے نام نہاد شامی جمہوری فورسز کے نام سے جو گروپس تشکیل دئیے، ان میں ’’شامی کردش ڈیموکریٹ یونین پارٹی‘‘ (PYD) بھی شامل تھی۔ یہ تنظیم دراصل شام میں ’’کردستان ورکرز پارٹی ‘‘(PKK)کی ہی ایک شاخ ہے۔اس تنظیم کے لئے امریکی حمایت ترکی کے لئے باعث تشویش تھی، کیونکہ ترکی اپنے ملک کے ساتھ ساتھ شام میں بھی کرد علیحدگی پسندوں کو اپنے کے لئے ایک خطرہ قرار دیتا ہے۔ترکی نے کھل کر امریکہ سے PYDتنظیم کو حمایت دینے پر بار بار احتجاج کیا۔ اسی اثنا میں نومبر2015ء میں ترکی نے شام میں روسی جیٹ طیارہ مار گرایا۔ ترکی کی روس کے ساتھ کشیدہ صورت حال سے یہ واضح تھا کہ نیٹو ممالک ترکی کی اس طرح سے مدد کرنے کو تیار نہیں، جس کی ترکی کو امید تھی۔

ترکی کے صدراردوان نے بھی دبے الفاظ میں نیٹو ممالک کی اس بے حسی پر احتجاج کیا۔ اردوان کو معلوم تھا کہ روس کے ساتھ کسی بھی طرح کے تنازعہ پر نیٹو ممالک اس کی مدد نہیں کریں گے، اس لئے اردوان نے اس واقعہ پرنہ صرف روس سے معافی مانگی ،بلکہ مئی2016ء میں وزیر اعظم احمد داؤد اوگلوکی بھی چھٹی کروادی، جنہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ روسی طیارہ ان کے حکم پر مارگرایا گیا۔ انہی حالات میں ترکی میں جولائی2016ء کو حکومت کے خلاف فوج کے ایک گروہ کی سازش سامنے آئی۔ ترکی نے کھل کر اس سازش کا الزام گولن تحریک پر لگایااور امریکہ سے بھی پُرزور احتجاج کیا کہ گولن کو ترکی کی مخالفت کے با وجود امریکہ نے پناہ دے رکھی ہے۔ ترکی نے اس موقع پر روس کا بھی بھر پور شکریہ ادا کیا کہ اس نے فوجی سازش کے حوالے سے ترکی کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔ یہ تھے وہ بنیادی عوامل، جن کے باعث ترکی جیسا امریکی حلیف روس کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور ہوگیا۔ ترکی نے ان تمام وجوہات کے باعث چین اور روس جیسے ممالک سے اپنے تعلقات پہلے سے زیادہ بہتر کرنے شروع کردیئے ہیں۔ اردوان باربار اعلان کر رہے ہیں کہ ترکی شنگھائی تعاون تنظیم میں بھی شامل ہوسکتا ہے۔ نیٹوکی جانب سے اردوان کے اس اعلان پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل جین سٹالن برگ نے ترکی میں صدر اردوان کے ساتھ ملاقات کی اور یہ مطالبہ کیا کہ ترکی نیٹو کارکن ہونے کی حیثیت سے ایسا کچھ بھی کرنے سے گریز کرے کہ جس سے نیٹو اتحاد کو نقصان پہنچتا ہو۔۔۔جہاں تک شام میں جنگ بندی کے اس معاہد ے کا تعلق ہے تو یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے، جب روس اورایران کی مدد سے شامی فوج نے 2012ء کے بعد اب پہلی مرتبہ باغیوں سے حلب کا کنٹرول واپس لے لیا ہے۔’’النصرہ فرنٹ‘‘کو ان کے آخری مضبوط گڑھ مشرقی حلب سے نکال دیا گیا ہے۔ حلب کا کنٹرول بشار الاسد کی فوج کے پاس واپس جانے سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے النصرہ فرنٹ اور ایسے کئی گروپوں کو گز شتہ چھ سال کے عرصے میں بھر پور اسلحہ اور امداد فراہم کی۔ اس امداد کے باوجود النصرہ گروپ’’ حلب‘‘ میں اپنا کنٹرول بر قرار رکھنے میں ناکام رہا۔ شامی افواج کی اس کامیابی کے چند روز بعد ہی روس اور ترکی کی جانب سے شام میں جنگ بندی کا معاہدہ سامنے آیا۔اس معاہدے کے بنیادی طور پر تین حصے ہیں۔۔۔پہلے حصے کے مطابق شامی فوج فوری طور پر اپنی کارروائیوں کو روک دے گی۔ دوسرے حصے کے مطابق ایسا طریقہ کا ر وضع کیا جائے گا، جس سے اس جنگ بندی کو مانیٹر کیا جاسکے اور تیسرے حصے کے مطابق 2017ء کے آغاز میں ہی ایسے گروپوں کے ساتھ قزاقستان میں بات چیت کا آغاز کیا جائے گا، جن کے خلاف شامی فوج نے اپنی کارروائی روک دی ہے، تاہم اس معاہدے کے مطابق جنگ بندی کئی گروپوں کے خلاف ہی کی گئی ہے اور کئی گروپوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ جیسے داعش اور فتح الشام (النصرہ فرنٹ کا نیا نام)کے خلاف جنگی کارروائیوں کو جاری رکھا جائے گا۔ یہ دونوں گروپ ہی بشار الاسد کے خلاف سب سے زیادہ فعال گروپ تصور کئے جاتے ہیں۔ فتح الشام(النصرہ فرنٹ) تو امریکی سی آئی اے، سعودی عرب اور کئی خلیجی ریاستوں کی مدد سے ایسے گروپوں کا بھی اتحادی رہا جن کو’’ معتدل‘‘ گروپ تصور کیا جاتا ہے۔ روس کے مطابق جن گروپوں کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کیا گیا ہے ان کی تعداد 6ہے اور ان میں 6ہزار جنگجو شامل ہیں۔ روس اور ترکی کے اس معاہد ے پر امریکہ میں سخت ردعمل پایا جاتا ہے، کیونکہ ایک تو اس معاہدے سے امریکہ کو بالکل دور رکھا گیا، دوسرا شام میں روس، ایران اور ترکی کے بڑھتے ہوئے کردار نے امریکی مفا دات کو بری طرح سے زک پہنچائی ہے۔

امریکہ نے2012ء سے2016ء تک بشار الاسدکو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کئے؟۔۔۔ دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کو جواز بنا کر کئی ملکوں پر حملہ کر نے کے باوجود امریکہ نے شام میں انہی دہشت گرد اور مذہبی انتہاپسند تنظیموں کو حمایت فراہم کی، اس کے باوجود بشار االاسد کو اقتدار سے محروم نہ کیا جاسکا، بلکہ شام میں روسی اثرو رسوخ میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا اس معاہدے سے شام میں امن ہوجائے گا تو اس معاہدے کی جزیات کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں شام میں امن قائم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ ماضی کے تین معاہدوں کی طرح یہ معاہدہ بھی ناکام ہوجائے اور شام جیسی شاندار تہذیب اور تاریخ کا حامل ملک یو نہی تباہ ہوتا رہے۔شام کی خانہ جنگی سے ہو نے والی تباہی پر شامی سنٹر فار پالیسی ریسرچ کی جانب سے پیش کئے گئے اعداد و شمار شام کی مخدوش صورت حال کو بیان کرنے کے لئے کافی ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق شام کی کل آبادی کا 11.05فیصد اس خانہ جنگی سے یا تو ہلاک ہوچکا ہے یا پھر زخمی اور معذور ہوچکا ہے۔ ہسپتالوں اور صحت کے دیگر مراکز کی تباہی کے باعث 2015ء میں ایک شامی شہری کی اوسط عمر50سال ہوچکی ہے، جبکہ 2010ء میں ایک شامی شہری کی اوسط عمر 70سال تھی۔ شام میں 2011ء میں بے روزگاری کی شرح 14.9فیصد تھی،جو اب 59.9 فیصد ہوچکی ہے۔ غربت کی شرح85 فیصد سے بھی بڑھ چکی ہے۔ سامراجی ممالک کے عزائم کے باعث دنیا 20ویں اور اب 21ویں صدی میں بہت تباہی دیکھ چکی ہے۔یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ سامراجی پالیسیوں سے براہ راست ایسے افراد متاثر ہوتے ہیں، جن کا نہ اپنے ملک اور نہ ہی سامراجی ممالک کی پالیسیوں سے کچھ لینا دیناہو تا ہے۔ موجودہ دور میں شام،عراق، لیبیا اور افغانستان اس کی اہم مثالیں ہیں۔

مزید :

کالم -