گرین شرٹس کی حالیہ باؤلنگ سے رمیز راجہ مایوس

گرین شرٹس کی حالیہ باؤلنگ سے رمیز راجہ مایوس

  

 کراچی (اے این این)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجا نے سرفراز احمد کو تینوں فارمیٹس کا کپتان بنانے کی تجویز دی ہے، یہ آئیڈیل وقت ہے کہ وہ کھیل کو خیرباد کہہ دیں، یونس خان بھی ریٹائر منٹ کے بارے میں سوچیں،قومی ٹیم کی بولنگ نے مجھے بہت مایوس کیا،بیٹسمینوں کولمبی اننگز اور وکٹ پر جم کرکھیلنا ہوگا، ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک انٹر ویو میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سرفراز احمد نے ٹی 20میچوں میں اپنے آپ کو منوالیا ہے اس لئے انہیں تینوں فارمیٹس میں ذمے داری دی جاسکتی ہے۔مصباح الحق کو مشورہ دیتے ہو ئے رمیض راجہ نے کہا کہ یہ آئیڈیل وقت ہے کہ وہ کھیل کو خیرباد کہہ دیں، یونس خان بھی ریٹائر منٹ کے بارے میں سوچیں اور خود ریٹائر منٹ کا فیصلہ کریں، مصباح الحق اپنے کیریئر کی اختتامی حدود کوچھورہے ہیں،امید ہے قومی ٹیم اس ٹیسٹ میں شکست کا شکار نہیں ہوگی قومی ٹیم کی بولنگ نے مجھے بہت مایوس کیا،بیٹسمینوں کولمبی اننگز اور وکٹ پر جم کرکھیلنا ہوگا ۔قبل ازیں اپنے ایک انٹرویو میں سابق ٹیسٹ کپتان وسابق چیف سلیکٹر راشد لطیف نے اپنے موقف میں تبدیلی لاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں قیادت کی تبدیلی کا وقت آگیا، سرفرازاحمد کوتینوں طرز کی کرکٹ میں کپتان کی ذمے داری سونپ دینی چاہیے، مصباح الحق اپنے کیریئر کی اختتامی حدود کوچھورہے ہیں،امید تو ہے کہ ٹیم اس ٹیسٹ میں شکست کا شکار نہیں ہوگی،قومی ٹیم کی بولنگ نے مجھے بہت مایوس کیا،بیٹسمینوں کولمبی اننگز اور وکٹ پر جم کرکھیلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میرا خیال تھاکہ مصباح الحق کوکپتان اوربیٹسمین کی حیثیت سے قومی اسکواڈ کے ساتھ جڑے رہنا چاہیے، مگر اب ایسا لگتا ہے کہ ان کو ذمے داریوں سے سبکدوشی اختیار کرلینی چاہیے۔

، راشدلطیف نے مزیدکہا کہ مصباح الحق اپنے کیریئر کی اختتامی حدود کوچھورہے ہیں، آسٹریلیا کیخلاف بطور کپتان اوربیٹسمین سیریز ان کے لیے بہت بری ثابت ہوئی،انھوں نے کہاکہ اب قومی قیادت میں تبدیلی ناگزیرہوگئی، سرفرازاحمد تینوں فارمیٹ میں پاکستان ٹیم کی قیادت کیلئے سب سے زیادہ موزوں نظرآ رہے ہیں۔ایک سوال پر راشدلطیف نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی بولنگ نے مجھے بہت مایوس کیا، ہم ہمیشہ سے اپنی بیٹنگ لائن کے حوالے سے فکر مند رہے مگر جاری سیریز کے دوران ہماری ٹیم نے دو مرتبہ400 رنز بنائے، دوسری جانب ہمارے بولرز اپنے بیٹسمینوں کوسپورٹ کرنے میں بری طرح ناکام نظر آئے، سڈنی ٹیسٹ نے پاکستانی بولنگ کی قلعی کھول دی،خاص طور پراسپنریاسر شاہ کے حوالے سے مایوسی رہی۔ایک اور سوال پر سابق ٹیسٹ کپتان نے کہا کہ تیسرے ٹیسٹ میں ہمارے بیٹسمینوں کووکٹ پر جم کرکھیلنا ہوگا، پاکستان کو لمبی اننگزدرکار ہے، امید تو ہے کہ ٹیم اس ٹیسٹ میں شکست کا شکار نہیں ہوگی، اس طرح آسٹریلیا کے ہاتھوں مسلسل چوتھی سیریز میں وائٹ واش کا خطرہ ٹل سکتا ہے۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -