لبیک یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

لبیک یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
 لبیک یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

  

ہم، ہمارے ماں باپ، ہماری اولادیں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کہ کملی والے سرکار وہ ہستی ہیں جن کی محبت کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا اور جب لبیک یا رسول اللہ کا نعرہ لگایا جاتا ہے تو چشم تصور میں یہی ہوتا ہے کہ ہمارے آقا و مولا ہمارے سامنے موجود ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ ان کے حاضر وناظر ہونے کے تصور کے ساتھ ان کی تعلیمات کی نفی کیسے کی جا سکتی ہے۔ مجھے سابق گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شان تاثیر کے ویڈیو پیغام پر اسی طرح غم ، غصہ اور افسوس ہے جس طرح ہرراسخ العقیدہ مسلمان کو ہونا چاہئے اس پیغام میں اس نے توہین رسالت کے قانون کے حوالے سے ہرزہ سرائی کی ہے مگر ایک باریک نکتہ عقل ومنطق کے ساتھ سمجھا جانا چاہئے کہ توہین رسالت کے قانون کے خلاف بات از خود توہین رسالت قرار نہیں دی جاسکتی چاہے اس کی تشریح یہ ہی کیوں نہ کی جائے کہ آزادی اظہار کے نام پر توہین رسالت کی راہ ہی ہموار کی جا رہی ہے۔ توہین رسالت کے ملزمان کا معاملہ عدالت اور حکومت کے پاس ہے اور اس پر فیصلہ بھی انہی کو کرنا ہے جنہیں اولی الامر قرار دیتے ہوئے ان کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ یقینی طور پر اگر توہین رسالت کے مجرموں کو راستہ دیا جاتا ہے تو اس کا بار عوام کی بجائے حکام پر ہی ہو گا۔ عوام نے نشاندہی کی، انہوں نے اپنی ذمہ داری اداکر دی۔ ایک معروف اور مستند حدیث کے الفاظ ہیں کہ برائی کو ہاتھ سے روکو اور اگر ہاتھ سے نہ روک سکو تو زبان سے اس کی مذمت کرو اور اگر یہ بھی اختیار نہ ہو تو دل میں ہی برا جانو اور اس کی ایک تشریح یہ بھی ہے کہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ برائی کو دل سے برا جانیں، علمائے کرام کے ساتھ ساتھ دانشور اور صحافی زبان سے برا کہیں اور حکمران ہاتھ سے یعنی ریاستی طاقت کے ساتھ روکیں۔

پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کی چھٹی برسی کے موقعے پر ان کے صاحبزادے نے کرسمس کا جو ویڈیو پیغام جاری کیا وہ غیر ضروری بھی تھا اور بہت حد تک احمقانہ بھی۔ شان تاثیر نے اپنے باپ کے خوف ناک انجام سے بھی سبق نہیں سیکھا، اس نے یہ نہیں جانا کہ برصغیر پاک و ہند کے مسلمان ہر بات برداشت کر سکتے ہیں مگر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے حوالے سے ایک زیر، ایک زبر اور ایک نکتہ بھی نہیں۔ جو لو گ توہین رسالت کو اظہار رائے کی آزادی میں لانا چاہتے ہیں ان کو جاننا اور سمجھنا ہوگا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک و مقدس ذات بارے چھوٹی سے چھوٹی قابل اعتراض بات ہمارے عقیدے اور ایمان کی آزادی کی نفی کے مترادف ہے۔ آزادی بارے خود ان کے گرو انہیں بتاتے ہیں کہ تمہاری آزادی وہاں ختم ہوجاتی ہے جہاں سے دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے لہٰذا یہ بات تو طے شدہ ہے کہ توہین مذہب اور توہین رسالت کسی طور بھی آزادی اظہار رائے کے تابع موضوع نہیں بنتے کہ گالی دینے اور دکھی کرنے کی آزادی دنیا میں کہیں بھی نہیں دی جاتی۔ اب مجھے اجازت دیجئے کہ میں لبیک یا رسول اللہ کا نعرہ لگاتے ہوئے ایک دوسرے موضوع پر بھی بات کر سکوں کہ سلمان تاثیر کی برسی کے موقعے پر ان کے بیٹے کے ویڈیو پیغام پر لاہور میں احتجاج کیا گیا۔ مجھے دکھ اور افسوس ہے کہ ہمارے مذہبی حلقوں کی طرف سے احتجاج کی کال صوبائی دارالحکومت میں امن و امان کے لئے ایک بڑا خطرہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ کچھ شرپسند بھی دین اور دین کے نام لیواؤں کو بدنام کرنے کے لئے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوں مگر دوسری طرف اس امر سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہمارے یہ مہربان بھی بہت زیادہ جذباتی ہوجاتے ہیں۔ماضی قریب کو ہی دیکھ لیا جائے، گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج سے ممتاز قادری کی پھانسی تک ہمارے پاس ان کے احتجاج کی کچھ اچھی مثالیں موجود نہیں ہیں لہٰذا ایسی کسی بھی کال پر انتظامیہ کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں جیسے دو ، تین روز قبل ہونے والے احتجاج پر پھُول گئے۔ اس احتجاج کی وجہ سے شہر بھر کے راستے بند ہو گئے۔بہت ساری سڑکیں ہی نہیں بلکہ ایمرجنسی کی مفت سروسز فراہم کرنے والی ڈبل ٹو ڈبل ون ٹو کی سروس اور غریبوں کی سواری میٹرو بھی بند ہو گئی۔

میں نے جاناکہ اسلام میں کسی دوسرے مسلمان کو تکلیف دینے سے بہت سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔کوئی بھی ایسی حرکت جس سے عام لوگ تکلیف میں مبتلا ہوجائیں،وہ از روئے شریعت حرا م اور ناجائز ہے۔ مسلمان پُر امن ہوتا ہے،دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔دین اسلام کی تعلیمات میں ہے کہ مسلمانوں کو اپنے راستے کشادہ رکھنے چاہئیں۔ حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ راستہ سات ہاتھ یعنی ساڑھے دس فٹ مقرر کیا کرو (مصنَّف ابن ابی شیبہ422/19) حضرت سہل بن معاذؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:’’ایک مرتبہ اہم نے حضورﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں شرکت کی۔راستے میں پڑاؤ ہواتو لوگوں نے خیمے قریب قریب لگا لیے جس سے راستہ تنگ ہوگیا۔اس وقت حضورﷺ نے ایک منادی بھیج کر لوگوں میں اعلان کرایا کہ جو شخص راستے میں تنگی پیدا کرے گا یا راستہ کاٹے گا تو اس کا جہاد قبول نہیں!‘‘(سنن ابوداؤد47/2) یعنی راستہ بند کرنے پر جہاد جیسے عظیم کام کی بھی قبولیت نہیں۔سیار بن معرور کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروقؓ خطبہ دے رہے تھے تو میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا:’’اے لوگو!حضورﷺ نے یہ مسجد بنائی اور اس وقت ہم حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔انصار بھی تھے اور مہاجر صحابہ بھی۔(مسجد ہم سب کے لیے بنی ہے اس لیے) اگر اب اس مسجد میں مجمع زیادہ ہوجائے تو تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کی پیٹھ پر سجدہ کرے۔ چند لوگوں کو آپ نے دیکھا کہ وہ راستے میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں تو آپ نے حکم دیا کہ مسجد کے اندر نماز پڑھو۔‘‘ (اتحاف الخیرہ المھرہ309/2) ۔ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں راستہ بند کرنا یا اس میں تنگی پیدا کرنا نہایت مذموم ہے کیونکہ راستہ لوگوں کے گزرنے کے لیے ہوتا ہے اگر راستہ بند کردیا جائے تو گزرنے والوں کو سخت دشواری کا سامنا ہوگا۔ مسجد میں جنازے کی نماز پڑھنا مکروہ ہے لیکن ساتھ ساتھ علماء یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر کہیں تین منٹ کے لیے راستہ بند ہورہا ہو تو جنازہ مسجد کے اندر پڑھو راستے میں نہیں۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کو تین منٹ کے لیے راستہ بند کرنا گوارا نہیں چہ جائیکہ یہ کام گھنٹوں اور دنوں کے لئے ہو۔دوسری طرف اس کے مقابلے میں. ایک مشہور حدیث ہے کہ ’’راستے سے مضر چیز کوہٹانا صدقہ ہے‘‘۔اب اگر کوئی شخص راستے سے کانٹا،کیلے کا چھلکا،کیل یا اس طرح کوئی اور چیز اٹھا کر راستے کو محفوظ بناتا ہے تو وہ اللہ کے راستے میں صدقہ کرنے کی طرح ثواب کا مستحق بن جاتا ہے۔ (منقول)

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا تم راستوں میں بیٹھنے سے اجتناب کرو۔ یہ سن کر بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ ہمارے لئے راستوں میں بیٹھنے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہیں ہے جہاں ہم باتیں کرتے ہیں۔ ان صحابہ کی وضاحت یہ تھی کہ ہمارے پاس کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں ہم اپنی مجلس رکھا کریں اس لئے جب ہم چند لوگ کہیں مل جاتے ہیں تو وہیں راستہ میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے دینی و دنیاوی امور کے بارے میں باہمی رائے اور مشورہ اور مذاکرات کرتے ہیں ایک دوسرے کی حالت دریافت کرتے ہیں اگر کوئی بیمار ہوتا ہے تو اس کے لئے علاج معالجہ تجویر کرتے ہیں اگر ان میں کوئی رنجش و عناد ہوتا ہے تو صلح و صفائی کرتے ہیں اور اپنے معاملات کو طے کرنے کی تدبیر پر غور کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر راستہ کو اس کا حق ادا کرو۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ راستے کا کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا آنکھوں کا بند کرنا یعنی حرام چیزوں پر نظر ڈالنا، ایذا رسانی سے باز رہنا یعنی تنگ راستہ کر دینے یا کسی اور طرح گزرنے والوں کو ایذاء نہ پہنچانا، سلام کا جواب دینا اور لوگوں کو اچھی باتوں کا حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا۔ (بخاری ومسلم)۔

جب شہرمیں راستے بند ہوئے تو ہزاروں اور لاکھوں کے لئے ایذارسانی کا سبب بنے کہ احتجاج سے خوفزدہ لاہور پولیس اور ٹریفک پولیس نے ڈھیر ساری سڑکیں بند کر دیں۔ میں سوچتا ہوں کہ جب ہم نے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو لبیک کہنا ہے تو ان کے تمام ارشادات، فرمودات اور احکامات پر ان کی اصل روح کے مطابق کہنا ہے ورنہ یہ لبیک کہنا کیالبیک کہنا ہوا۔ ( واللہ اعلم باالصواب)

مزید :

کالم -