لودھراں ، ٹرین نے 2رکشے کچل ڈالے ، سکول جانیوالے ایک ہی خاندان کے 6بچوں سمیت8جاں بحق ،4شدید زخمی

لودھراں ، ٹرین نے 2رکشے کچل ڈالے ، سکول جانیوالے ایک ہی خاندان کے 6بچوں ...

  

 لودہراں،خانقاہ شریف ،ملتان(نمائندہ پاکستان،جنرل رپورٹر)لودھراں میں آدم واہن ریلوے سٹیشن کے قریب جلال پور ریلوے ٹریک پر دورکشے ٹرین کی زد میں آنے سے سکول کے 7 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ 4شدیدزخمی ہوگئے جنہیں بہاولپور ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ،زخمیوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے ۔پھاٹک کھلا رہنے کی غفلت کے مرتکب دونوں گیٹ مین اور ٹرین ڈرائیور کو تھانہ سٹی پولیس نے حراست میں لیکر تفتیش شروع کردی ۔جاں بحق ہونے والے چھ بچے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے ان میں محمد رضوان اور دانش علی ولد محمد ارشد دونوں سگے بھائی تھے جبکہ فہد ندیم اور مریم ندیم بہن بھائی تھے اور محمد عرفان ولد محمد سلمان اور سجاد احمد ولد افتخار احمد بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ صبح آٹھ بجے کے قریب موضع کونڈی کے رہائشی 12بچے رکشہ پر سوار ہو کر مقامی سکول جا رہے تھے کہ جب جلالپور موڑ کے قریب ریلوے پھاٹک پر پہنچے تو ریلوے پھاٹک بند تھا اور مال گاڑی گزر رہی تھی ۔مال گاڑی گزرنے کے بعد پھاٹک مین نے اچانک پھاٹک کھول دیا تو ریلوے لائن کراس کرنیوالارکشہ ہزارہ ایکسپریس کی زد میں آگیا ٹرین رکشے کو گھسیٹتے ہوئے دور تک لے گئی اور کمسن بچے یکے بعد دیگرے ٹرین کے ٹریک پر گرتے رہے اور ٹرین کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئے ۔جاں بحق ہونے والوں میں سجاد ولد افتخار،رضوان ولد ارشد،فہد ولد ندیم ،دانش ولد ارشد،مریم دختر ندیم ،عثمان ولد ارشاد، سلمان ولد کاشف اور رکشہ ڈرائیور سمیع اللہ قوم بلوچ جاں بحق ہو گئے جبکہ زخمیوں میں یوسف ولد اکبر،ثقلین ولد امجد،ارسلان ولد سلیمان ،زاہد ولد ندیم شامل ہیں جن کو تشویشناک حالت میں بہاولپور ہسپتال ریفر کر دیا گیا جہاں انکی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ،ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے ان میں محمد رضوان اور دانش علی ولد محمد ارشد دونوں سگے بھائی تھے جبکہ فہد ندیم اور مریم ندیم بہن بھائی تھے اور محمد عرفان ولد محمد سلمان اور سجاد احمد ولد افتخار احمد بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔پولیس تھانہ سٹی نے گیٹ مین ریاض شاہ ،فاضل اور ٹرین ڈرائیور ذولفقار کو ذمہ داری میں غفلت برتنے پر گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ واقعہ صبح سوا 8بجے کے قریب لودہراں اور آدم واہن کے درمیان گیٹ نمبر165اے کلو میٹر نمبر841/4پر پیش آیا کہ جب بچے دو چنگ چی رکشوں پر سوا ر ہو کر سکول جارہے تھے ان کے ڈرائیوروں نے کھلا پھاٹک دیکھ کر گزرنے کی کوشش کی تو دھند میں80کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتارسے آتی ہزارہ ایکسپریس کو نہ دیکھ سکے اور ان کی زد میں آگئے ٹرین رکشوں کو دو کلومیٹر سے زیادہ دور تک گھسیٹتی ہوئی لے گئی ۔ڈرائیور نے ہنگامی بریک لگا کر ٹرین روک دی تاہم اس دوران دونوں رکشے تباہ ہوچکے تھے اور ان پر سوار6بجے اور رکشہ ڈرائیور موقع پر جاں بحق ہوگئے اور ساتواں بچہ ہسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گیا جبکہ چنگ چی رکشہ ڈرائیور محمد عاشق اور سمیع اللہ دونوں باپ بیٹا تھے حادثہ میں زخمی ہونے والوں کو لودہراں اور بہاولپور کے ہسپتالوں میں شفٹ کردیا گیا ہے جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے اس حادثہ کے فوراً بعد عوام نے مشتعل ہو کر ٹرین ڈرائیور راجہ ذوالفقار‘ فائر مین توقیر مشتاق اور گیٹ مین فاضل کو تشدد کا نشانہ بنایا اور سڑک اور ریلوے ٹریک بلا ک کرکے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اس اطلاع پر ریلوے نے اپ اینڈڈاؤن سائیڈ سے آنے والی ٹرینوں کو قریبی سٹیشنوں پر رکوالیا مقامی پولیس نے موقع پر پہنچ کر نہ صرف احتجاج منتشر کروایا بلکہ ڈرائیور‘فائرمین اور گیٹ مین کو گرفتار بھی کرلیا ۔دوسری طرف ٹرین حادثہ میں جاں بحق سات بچے اور ایک رکشہ ڈرائیور میں سے پانچ بچے اور ایک بچی کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ۔ جبکہ ایک بچے اور رکشہ ڈرائیور کا نماز جنازہ آج صبح نو بجے ادا کیا جائے گا ۔ایک ہی خاندان کے چھ بچوں کا نماز جنازہ موضع کونڈی میں ادا کیا گیا جسمیں لودہراں شہر اور مضافات کے ہزاروں افرادضلعی چیرمین میاں راجن سلطان پیرزادہ ،ڈپٹی کمشنر شاہد نیاز ،ڈی پی او اسد سرفراز،ایم پی اے زبیر خاں بلوچ ،ایم پی اے عامر اقبال شاہ ،سابق ایم این اے صدیق خاں بلوچ،ایڈیشنل کمشنر ڈاکٹر ،اسسٹنٹ کمشنر طیب خاں،چیرمین بلدیہ شیخ افتخارالدین طاری سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات موجود تھیں۔نماز جنازہ سے قبل جب بچوں کی میتیں گھر سے اٹھائی گئیں تو رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ۔ہر آنکھ اشکبار تھی گھروں میں قیامت کے مناظر تھے اہل خانہ اور رشتہ داروں نے وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے نے ٹرین حادثے کا نوٹس لے لیا ہے اور حکام سے تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی ہے ،وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ حادثے میں کم بچوں کی موت افسوس ناک واقعہ ہے ،ذمہ داروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائیگا ،قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی ۔دوسری جانب ہزارہ ایکسپریس ٹرین کے ڈرائیور سے ابتدائی تفتیش شروع کر دی گئی جس میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ شدید دھند کے باعث وہ سگنل نہیں دیکھ سکے جس سے یہ افسوسناک واقعہ رونما ہوا ہے ۔ملتان ڈویژن کی ڈی سی او ریلوے نبیلہ اسلم کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داران کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے ،وزیراعلیٰ نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات دیں۔

مزید :

صفحہ اول -