فوجی عدالتوں کے کیس مخصوص عدالتوں کو منتقل،ججوں کی شناخت خفیہ

فوجی عدالتوں کے کیس مخصوص عدالتوں کو منتقل،ججوں کی شناخت خفیہ

  

لاہور(سعید چودھری)اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف علی نے کہا ہے کہ تحلیل ہونے والی فوجی عدالتوں میں زیرسماعت تمام مقدمات انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں منتقل کردئیے جائیں گے ،اس سلسلے میں نئی عدالتوں کے قیام کی ضرور ت نہیں ہے تاہم انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے جس کے لئے کسی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے ۔روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ گزشتہ روز ملٹری کورٹس سے متعلق 21ویں آئینی ترمیم اپنی معیاد پوری کرنے کے بعد ختم ہوگئی، اس کے تحت بننے والی فوجی عدالتیں بھی تحلیل ہوچکی ہیں ،اب آئین کے آرٹیکل 175کے تحت موجودہ عدالتی نظام کے تابع انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں ہی ایسے تمام مقدمات کی سماعت کریں گی جو اس سے قبل فوجی عدالتوں کو تفویض کئے جارہے تھے ۔انہوں نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے ،ان ججوں کا تقرر اعلیٰ عدلیہ سے مشاورت کے آئینی تقاضے پورے کرکے عمل میں لایا جائے گا جبکہ حساس نوعیت کے مقدمات کی سماعت کے لئے خصوصی پراسیکیوٹر ز مقرر کئے جائیں گے جن کی خاص خطوط پر پچھلے 3سال سے تربیت جاری ہے ۔دہشت گردی کے سنگین مقدمات کی سماعت ضرورت پڑنے پر جیل میں ہوگی اور جن ججوں کو یہ مقدمات تفویض کئے جائیں گے ان کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ مروجہ قوانین کے تابع ہی یہ تمام اقدامات کئے جائیں گے ،اس سلسلے میں قانون سازی کی جارہی ہے اور نہ ہی کوئی نیا آرڈیننس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -