محکمہ انہار کے کرپٹ افسر اہم ریکارڈ ضائع کرنے میں کامیاب ہو گئے

محکمہ انہار کے کرپٹ افسر اہم ریکارڈ ضائع کرنے میں کامیاب ہو گئے

  

 لاہور(اقبال بھٹی ،بلال چوہدری)محکمہ انہار مغلپورہ سنٹرل سٹورز ڈویثرن، 1947سے لیکر آج تک کا ریکارڈ افسران نے مبینہ کرپشن کے کیسز کو ختم کرنے کے لئے ضائع کرنے کی ٹھان لی ۔ریکارڈ کو10روز سے کھلے آسمان تلے رکھا ہوا تھا جس کو گزشتہ روز ہونے والی بارش نے 40فیصد تک ضائع کر دیا ۔ریکارڈ ضائع ہونے کی وجہ سے نہ صرف کرپشن کے کیسز ٹھپ ہو کر رہ جائیں گے بلکہ محکمہ کی جانب سے سٹورز کو ملنے والے ماضی کے احکامات ،پنجاب بھر میں محکمہ انہار کی جانب سے کہاں کہاں ٹیوب ویلز اور دیگر آلات نصب کئے گئے ان کا ڈیٹا بھی ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔دوسری جانب ریکاڈ اور سٹورز کے سامان کو کھلے آسمان تلے رکھنے کی وجہ سے 7کروڑ کے سامان کے چوری ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جو کہ پوری رات کینال روڈ کے ساتھ بغیر کسی سیکیورٹی کے پڑا رہتا ہے اور اس کو کوئی بھی اٹھا کر لیجا سکتا ہے ۔تفصیلات کے مطابق کینال بینک روڈ پر چوبچہ پھاٹک کے ساتھ محکمہ انہار کے سنٹرل سٹورز موجود ہیں جہاں سے پورے پنجاب میں میٹریل سپلائی کیا جاتا ہے۔سٹورز میں 7کروڑ سے زائد مالیت کا سامان ہر وقت موجود رہتا ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب بھر میں بھجوائے جانے والے سامان کا ریکارڈ بھی موجود ہے جس کی بناء پر کئی افسران کے خلاف انکوائریاں بھی چل رہی ہیں ۔نمائندہ "پاکستان "سے گفتگو کرتے ہوئے سٹور میں کام کرنے والے ملازمین امجد رحمان ،محمد اکرم ،سردار جاوید اختر ،محمد اشفاق حسین ،راحیل انجم ،امیر حمزہ ،خالد بھٹی اور ایپکا کے عہدیدار طاہر احمد ،محمد پرویز ،بشیر احمد اور حاجی خالد محمود بھٹی وغیرہ نے بتایا کہ سنٹرل سٹورز ڈویثرن پنجاب میں محکمہ انہار کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی بلڈنگ کی مالیت 5کروڑ جبکہ کوارٹرز کی مالیت ایک کروڑ ہے۔ عمارت کے پیچھے ایک وسیع جگہ ان کی تعمیر نو کرنے کے لئے موجود ہے جہاں پر معمولی خرچہ کر کے تعمیر نو کی جا سکتی ہے لیکن افسران نے مبینہ کرپشن اور شفٹنگ کے دوران سامان کو خرد برد کرنے کی نیت سے سٹورز کو ٹیوب ویل ڈویثرن شیخوپورہ میں شفٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا شفٹنگ کے لئے ہی 23لاکھ 69ہزار 956روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ملازمین کے احتجاج کرنے پر محکمہ کے افسران نے ان کو شفٹ کرنے کی بجائے محض خانہ پری کرنے کے لئے سٹور کے ساتھ ملحقہ جگہ پر 4کمرے تعمیر کرنے شروع کر دیئے ہیں اور ابھی صرف کمروں کی سنگ بنیاد ہی رکھی گئی ہے ۔ان کمروں میں سٹاف تک پورا نہیں آ سکتا سامان رکھنا تو دور کی بات ہے دوسری جانب سامان کو سٹور سے ہٹا کر کھلے آسمان تلے رکھ دیا گیا ہے اور 1947سے لیکر آ ج تک کا سب ریکارڈ بھی کھے آسمان تلے رکھ دیا گیا ہے ۔اور سٹورز کی عمارتوں کو منہدم کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے ۔سامان کی مالیت 7کروڑ کے لگ بھگ ہے جس کو" اللہ کی آس" پر رکھ دیا گیا ہے اس کے علاوہ ریکارڈ بھی سر عام زمین پر اور سکریپ الماریوں میں کھلے آسمان تلے رکھ دیا گیا ہے جبکہ 80فیصد الماریاں لکڑی کی ہیں جن کے دروازے بھی نہیں ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز آنے والی بارش نے 40فیصد ریکارڈ کو ضائع کر دیا ہے جس کی وجہ سے اربوں روپے کی کرپشن کے حوالے سے چلنے والی انکوائریاں اب عدم ثبوت اور ریکارڈ نہ ہونے کی وجہ سے ٹھپ ہو جانے کا خدشہ ہے ۔دوسری جانب لوہے کی مشینری ،انجن ،سپیئر پارٹس اور دیگر سامان بارش اور بعد ازاں زنگ لگنے کی وجہ سے خراب ہو جانے کا خطرہ ہے جس سے کروڑوں کا نقصان ہو گا ۔اس حوالے سے سٹورز ڈویثرن میں موجود ایکسینز اور دیگر افسران سے گفتگو کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ اس ریکارڈ میں سے بیشتر ریکارڈ بے کار ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں جبکہ ایکسین چوہدری شفیق کا کہنا تھا کہ سامان اور ریکارڈ کو وقتی طور پر یہاں پر رکھا گیا ہے اس کو جلد ہی یہاں سے شفٹ کر دیا جائے گا ،متبادل جگہ کو بندوبست کیا جا رہا ہے ۔

ریکارڈضا ئع

مزید :

صفحہ اول -