دونوں قریق مطمئن ، عدلیہ پر مکمل اعتماد ، پھر یہ لفظی جنگ کیوں ؟

دونوں قریق مطمئن ، عدلیہ پر مکمل اعتماد ، پھر یہ لفظی جنگ کیوں ؟

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین

 گئے برس کے گیارہویں مہینے کے حوالے سے بہت کچھ کہا گیا، تاہم زبر دست دباؤ کے باوجود یہ بھی گزر گیا اور دسمبر کے بعد نیا سال بھی آگیا، اب ٹی، وی پر بیٹھے، تجزیہ نگار اور اینکر حضرات یہ دیکھتے ہیں کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف جب کسی تقریب میں آتے لوگوں سے ملتے اور تقریر کرتے ہیں تو ان کی ’’باڈی لینگوئج‘‘ (بدن بولی) سے کیا تاثر ابھرتا ہے، کشمیر پر عالمی کانفرنس کے حوالے کہا گیا کہ وہ بہت پر اعتماد تھے، بہر حال یہ گزارش کافی پہلے کی گئی تھی کہ وزیر اعظم کو اب حالات موافق اور وہ پر اعتماد ہیں، پاناما لیکس عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے اور پانچ رکنی فل بنچ کے اندر سماعت سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اب فاضل جج اس معاملے یا مسئلہ کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں، چنانچہ کارروائی کے دوران فاضل جج صاحبان کی طرف سے ٹھنڈے ٹھار مزاج کا ثبوت دیا جارہا ہے، اس کا اندازہ اس امر سے لگائیں کہ جج صاحبان نے اس سماعت میں سیاست کو دخل اندازی نہ کرنے کے لئے کہا اور ساتھ ہی یہ بھی نوٹس لیا کہ باہر کانفرنسیں ہوتی ہیں تاہم صرف یہ ہدایت کی کہ بنچ کے فاضل جج حضرات کے ریمارکس کے بارے میں تبصرے اور تجزیئے نہ کئے جائیں کہ ایسے ریمارکس سوالات کے جواب حاصل کرنے کے لئے ہوتے ہیں، چنانچہ عدالت سے باہر عدالتی کارروائی کے حوالے سے بحث و مباحثہ جاری ہے اور فریقین اپنے اپنے موقف اور اندازے ہی کے مطابق بات کرتے ہیں، اس صورت حال سے اب یہ نتیجہ اخذ کرلیا گیا کہ عمران خان مطمئن اور وزیر اعظم پر اعتماد ہیں۔

عدالتی کارروائی کے حوالے سے کبھی کبھی یہ بات بھی سامنے آجاتی ہے اور میمو گیٹ کے حوالے دیئے جاتے ہیں، بتایا جاتا ہے کو حسین حقانی مطمئن زندگی گزار رہے اور اب بھی اپنی تحریروں سے ویسی ہی حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں یہاں صورت حال یہ ہے کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان محاذ آرائی تیز اور تیز تر ہورہی ہے ، عمران خان اور شیخ رشید وزیر اعظم کووزارت عظمیٰ سے ہٹائے بغیر مطمئن نہیں ہونا چاہتے، دوسری طرف مسلم لیگ (ن) والے بھی بھرپور حملے کرتے ہیں ان حالات میں عمران خان کافی آگے بڑھ جاتے ہیں اور ان کا انداز گفتگو بھی ویسا ہی ہوتا ہے ، اب وہ کہتے ہیں ’’میں قطری شہزادے کو مشورہ دوں گا کہ وہ عدالت میں نہ آئیں کہ آئے تو سیدھے جیل جائیں گے ‘‘ وہ تو یہ کہتے ہیں لیکن سیاسی گرو ’’فرزند راولپنڈی‘‘ شیخ رشید فرماتے ہیں، میں عدالت سے قطری شہزادے کو بلانے کی درخواست کروں گا، جبکہ وکیل نعیم بخاری نے استدعا کی کہ قطری شہزادے کا خط کارروائی ہی سے نکال دیا جائے جو عدالت نے مسترد کردی اور ریمارکس دیئے کہ وزیر اعظم کے بچوں کا انحصار اس خط پر بہت ہے، اسے ضرور دیکھیں گے،سوال پھر یہ ہے کہ عدالت میں جاری کارروائی سے اپنی اپنی جگہ دونوں ہی مطمئن ہیں تو پھر یہ روز روز کی لفظی جنگ کیوں، سب عدالتی فیصلے کا انتظار کیوں نہیں کرتے کہ جو ہونا ہے وہ عدالت ہی سے ہونا ہے، اور آپ سب کہتے ہو کہ عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے، محاذ آرائی حالات حاضرہ میں اچھی نہیں، بہتر عمل ایوان ہے، جہاں اپنی بات کہیں اور جواب بھی لیں، حکومت کا بھی فرض ہے، کہ بحران پیدا کرنے کی بجائے ختم کر نے پر توجہ دے کہ یہ خود اس کی بھلائی میں ہے، یوں بھی 2017ء شروع اور مدت پوری والا مسئلہ بھی ہے، پھر اگلے سال انتخابات ہوں گے تو یہ سال انتخابی ہی ہوا ۔

اللہ بھلا کرے سیاست کا، آصف زرداری اور صاحبزادے بلاول بیک وقت اسمبلی جا رہے ہیں دونوں ہی حکومت کو ’’سخت وقت‘‘ (ٹف ٹائم) دینے کی بات کرتے ہیں بلاول تو پھر بھڑک والی بات کرتے ہیں۔ بہرحال ان سب مسائل کا حل جمہوری اور پارلیمانی طرز عمل میں ہے۔ ہمارا اصرار یہ ہے کہ حکومت کو ہزار تحفظات کے باوجود پہل کرنا ہوتی ہے۔ ملکی استحکام کی خاطر مفادات سے بالاتر ہو کر اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے۔جہاں تک پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور شریک چیئرمین کا تعلق ہے تو وہ جمہوریت کو تحفظ دینے کا اعلان کرتے ہیں تو عملی مظاہرہ بھی کریں اور تمام تر توجہ اپنی جماعت کی تنظیم اور اسے سرگرم عمل بنانے پر صرف کریں۔ جہاں تک ان کے قومی اسمبلی میں جانے کا تعلق ہے تو خوامخواہ کی بحث شروع ہے۔ یہ فیصلہ وہ کر چکے کہ تیر کے نشان پر لڑیں گے اور باپ تو بیٹے سے ٹکٹ لینے سے رہا کہ ان کی پارٹی رجسٹرڈ نہیں یہ تو والد ہی ٹکٹ دیں گے کہ رجسٹرڈ پارٹی کے صدر ہیں نتیجہ کچھ بھی ہو۔ویسے یہ بھی عجیب لگا کہ اچانک آصف علی زرداری کے خلاف ایک مہم شروع ہو گئی۔ الیکٹرونک میڈیا والے ان سے حساب مانگ رہے اور پیپلزپارٹی میں پسند و ناپسند کی بات کر رہے ہیں ایک معزز کالم نگار نے تو آصف علی زرداری کو موثق حوالوں سے فاتر العقل ہی قراردے دیا ہے اور دوسرے دانشور نے چودھری اعتزاز احسن کو مقابلے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ ایک عینی شاہد صحافی نے قائم کمیٹی کی میٹنگ کے حوالے سے لکھا ہے کہ چودھری اعتزاز وزیر قانون زاہد حامد کے سامنے بھیگی بلی بن گئے تھے۔ یہ سب سیاست اور صحافت کا ہی کھیل ہے، ہم تماشا اہل کرم دیکھیں گے کہ آخر کار آصف زرداری بھی تو کچھ سوچ سمجھ کر ہی واپس آئے ہوں گے۔

لفظی جنگ

مزید :

تجزیہ -