میانی صاحب قبرستان، اراضی و اگزار کرنے کیلئے پالیسی بنانے، خریدی گئی مٹی کی تحقیقات کا حکم

میانی صاحب قبرستان، اراضی و اگزار کرنے کیلئے پالیسی بنانے، خریدی گئی مٹی کی ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس سید علی اکبر قریشی نے میانی صاحب قبرستان کے لئے 42 لاکھ روپے مالیت کی خریدی جانے والی مٹی کے معاملے کی تحقیقات اور قبرستان کمیٹی کا گزشتہ تین برس کا آڈٹ کرانے کا حکم دے دیا۔عدالت نے میانی صاحب قبرستان کی اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کرانے کے لئے بھی پالیسی بنانے کا حکم دیاہے جبکہ میٹرو بس منصوبے کے لئے قبرستان میانی صاحب کی حاصل کی جانے والی اراضی کا معاوضہ ادا نہ کرنے پر ڈی سی لاہورپر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بروقت پیسے ادا نہ کئے گئے تو ضلعی حکومت کے اکاونٹس منجمد کئے جا سکتے ہیں جبکہ عدالت نے میانی صاحب قبرستان کی اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کرانے کے لئے پالیسی بنانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔گزشتہ روز عدالتی حکم پر ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر)عثمان نے پیش ہو کر عدالت سے استدعا کی کہ میٹرو بس منصوبے کے لئے قبرستان میانی صاحب کی حاصل کی جانے والی اراضی کی قیمت کی ادائیگی کے لئے مزیدمہلت فراہم کی جائے۔جس پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت پیسے ادا نہ کئے توضلعی حکومت کے اکاونٹس منجمد کئے جا سکتے ہیں۔وفاقی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ لیسکواور واپڈا نے قبرستان کی 30 سال تک استعمال کی جانے والی اراضی کا 4کروڑ 40روپے کرایہ ادا کرنے سے متعلق عدالتی حکم کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر ڈویژن بنچ نے حکم امتناعی جاری کردیا ہے جس کی بنا پر یہ رقم ادا نہیں کی گئی ۔

میانی صاحب ،حکم

مزید :

صفحہ آخر -