ایئر پورٹس کی ’’لاؤنج شاپس‘‘ کے ذریعہ منی لانڈرنگ کا انکشاف

ایئر پورٹس کی ’’لاؤنج شاپس‘‘ کے ذریعہ منی لانڈرنگ کا انکشاف

  

لاہور(ارشد محمود گھمن//سپیشل رپورٹر) علامہ اقبال انٹر نیشنل ائیر پورٹ لاہور سمیت اسلام آباد،سیالکوٹ پر منی لانڈرنگ عروج پر پہنچ گئی ہے جبکہ اعلی احکام نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی چپ سادھ لی ہے۔ ہر ماہ لاکھوں ڈالرز لاؤنج شاپس کے ملازمین کے ذریعے بیرون ممالک بھجوانے کا انکشاف ہواہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ معروف ماڈل ایان علی کے کیس میں انسپکٹر چوھدری اعجاز کی ہلاکت کے بعددیگر کسٹم اہلکاراپنی زندگیاں داؤ پر لگا نے کی بجائے کاروائی کرنے سے گر یزاں ہیں باوثو ق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ منی لانڈرنگ میں ملوث مسافروں کو وی آئی پی پرو ٹو کول کے ذریعے ان کے سازو سامان کو بغیر چیکنگ کئے الاؤنج میں بھجوا دیا جاتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال قبل ملک کی معروف ما ڈلز ایان علی کوا ئیر پورٹ پر منی لانڈرنگ کر نے کے جرم میں گر فتا ر کیا گیا تھا جس کے چند روز بعد ہی تفتیشی کسٹم انسپکٹر کی ہلاکت ہو گئی تھی اور آج تک ان کے لواحقین کو انصاف نہ مل سکا ہے جس کی وجہ سے کسٹم اہلکار ملک کی ایسی بڑ ی سیا سی و کارو باری شخصیات کے خلاف سخت چیکنگ سے گریزاں ہیں اور ہر ماہ کروڑوں روپے کی ہو نے والی منی لانڈرنگ کے خلاف اعلی احکام نے بھی چپ سادھ رکھی ہے۔جب اس با بت مو قف در یافت کر نے کے لئے نو ید الرحمان ڈ پٹی کلکٹر لاہور سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے( ایف آئی اے) کے ساتھ مل کر بھر پور کو شش کر رہے ہیں اور عنقریب ایک جدید سافٹ وئیر لانچ کیا جا رہا جس کے ذریعے منی لانڈرنگ کر نے والے اشخاص کی نشاند ہی کی جا سکے گی۔

منی لانڈرنگ

مزید :

صفحہ آخر -