پاناما کیس،بے اختیار نہ سمجھا جائے،سچ تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کرینگے :سپریم کورٹ

پاناما کیس،بے اختیار نہ سمجھا جائے،سچ تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کرینگے ...

  

اسلام آباد(اے این این) سپریم کورٹ میں پاناما پیپرزکے مقدمے کی سماعت کے دوران وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنا تحریری جواب داخل کرادیا جس میں انہوں نے اپنے خلاف تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ کسی نام نہاد پاناما پیپرز کا حصہ نہیں، نیسکول سے ان کا نام جوڑنا سراسر ظلم ہے، نیسکول کی ڈیڈ پر ان کے دستخط جعلی ہیں جبکہ منروا ٹرسٹ سے منسوب تمام ای میلزبھی اصلی نہیں، رائے ونڈ اسٹیٹ کی زیادہ تر جائیداد ان کی دادی کے نام پر ہے، مریم نواز نے ایف بی آر میں جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2013میں ان کی آمدنی 2 لاکھ 26 ہزار چالیس روپے ، 2014 میں 12 لاکھ 59 ہزار 132 ، 2015 میں 9 لاکھ 73 ہزار 243 جبکہ 2016 میں 4 لاکھ 89 ہزار 911 روپے تھی، اس کے علاوہ 2016 میں ان کی زرعی آمدنی ایک کروڑ 16 لاکھ 38 ہزار 867 روپے تھی۔جمعہ کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے پاناما پیپرزکے مقدمے کی سماعت کی ۔اسحاق ڈار اور مریم نواز کے وکیل شاہد حامد نے عدالت کے روبرو مریم نوازکاتحریری جواب داخل کرایاجس میں انہوں نے موقف اختیارکیا کہ لندن فلیٹس حسین نواز کی ملکیت ہیں ۔ آف شور کمپنیوں کے شیئرز حسین نواز کو 4 جولائی 2006 کو جاری ہوئے ۔ ٹرسٹ ڈیڈ کے مطابق آف شور کمپنیوں کی بینیفیشل مالک نہیں ، وہ صرف دستخط کرنے کی مجازہیں ، الثانی خاندانی سے آف شور کمپنیوں سے متعلق سیٹلمنٹ جون 2016 میں ہوئی ، نیسکول کمپنی سے متعلق ان سے منسوب دستاویزات جعلی ہیں ۔ مریم نواز نے کہاکہ نیسکول کمپنی سے متعلق دستاویزات پر ان کے دستخط بھی جعلی ہیں مزید یہ کہ ان سے متعلق معلومات پر مبنی خط پاناما پیپرز کا حصہ نہیں ، حسین نواز نے 2005 کے آخر میں الثانی خاندان کی پیشکش سے آگاہ کیا ۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ حسین نواز نے بتایا کہ الثانی خاندان نے سرمایہ کاری کے بدلے آف شور کمپنیاں دینے کی پیشکش کی ہے ۔ حسین نواز آف شور کمپنیوں سے متعلق ٹرسٹ بنانا چاہتے تھے ۔ ٹرسٹ بنانے کا مقصد حسین نواز کے انتقال کی صورت میں اثاثوں کی شرعی تقسیم تھی ۔ مریم نواز نے اپنے جواب میں موزیک فونسیکا اور فنانشل تحقیقاتی ادارے کی خط و کتابت کے طریقہ کار پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موزیک فونسیکا نے فنانشل تحقیقاتی ادارے کا خط واپس بھجوانے سے قبل ان کی رائے نہیں لی ۔ طریقہ کار کے مطابق جواب دینے سے قبل ان کی رائے لی جاتی تو موزیک فونسیکا یہ غلطی نہ کرتا ۔ رہائش سے متعلق مریم نواز نے بتایا کہ جاتی امرا میں پانچ خاندان الگ الگ رہتے ہیں ، ایک گھر میں دادی ، دوسرے میں والد ، تیسرے میں مرحوم انکل عباس کی فیملی اور چوتھے گھر میں میاں شہباز شریف اور پانچویں میں وہ خود رہائش پذیر ہیں جبکہ شمیم ایگری فارم جاتی امرا کی زیادہ تر زمین ان کی دادی کے نام ہے ۔ تحریری جواب میں مریم نواز نے ایف بی آر میں جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2013میں ان کی آمدنی 2 لاکھ 26 ہزار چالیس روپے ، 2014 میں 12 لاکھ 59 ہزار 132 ، 2015 میں 9 لاکھ 73 ہزار 243 جبکہ 2016 میں 4 لاکھ 89 ہزار 911 روپے تھی، اس کے علاوہ 2016 میں ان کی زرعی آمدنی ایک کروڑ 16 لاکھ 38 ہزار 867 روپے تھی۔شاہد حامد نے موقف اختیار کیا کہ وزیر اعظم کے خلاف الیکشن کمیشن میں 4 ریفرنسز زیر سماعت ہیں، اس کے علاوہ الیکشن کمیشن میں اسحاق ڈار اور کیپٹن صفدر کے خلاف بھی درخواست زیر التوا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ وزیر اعظم کیخلاف الیکشن کمیشن میں بھی یہی معاملہ زیر سماعت ہے اور الیکشن کمیشن میں درخواستیں سپریم کورٹ کے بعد میں دائر ہوئیں یا پہلے جس پر شاہد حامد نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے روبرو بھی وزیراعظم کی نااہلی کا معاملہ ہے اور الیکشن کمیشن میں درخوستیں پہلے سے دائر تھیں۔اس کے علاوہ عمران خان کی جانب سے شریف فیملی کے مالیاتی مشیر ہارون پاشا کا انٹرویو بطور ثبوت عدالت میں جمع کرایا گیا جو انہوں نے 6 دسمبر 2016 کو نجی ٹی وی کو دیا تھا۔ عمران خان نے عدالت سے استدعا کی کہ انٹرویو کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کے نام سے1993سے 1996کے درمیان بے نامی فلیٹس خریدے گئے، جب فلیٹ خریدے گئے اس وقت مریم نواز کم عمر تھیں اور ان کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں تھا، دنیا کو دکھانے کے لیے مریم صفدر کو بینیفشری ظاہر کیا گیا ان کے اصل مالک نواز شریف ہیں، اسی طرح دبئی میں بھی بے نامی سٹیل مل لگائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ مریم نواز آف شور کمپنیوں کی بینیفیشل مالک ہیں لیکن ان کے پاس جائیداد کیلئے رقم نہیں تھی، 2011میں مریم نواز نے چوہدری شوگر مل سے 4 کروڑ 23لاکھ جب کہ 2012 میں اپنے بھائی حسن نواز سے 2 کروڑ 89 لاکھ روپے قرض لیا۔ 2013میں پھر والد نے تین کروڑ سے زائد کی رقم بطور تحفہ دی۔ جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ آپ کی بات سے مریم کے زیر کفالت ہونے کا معاملہ واضح نہیں ہوتا،التوفیق کیس میں مریم نواز کا نام نہیں تھا اس میاں شریف، عباس شریف اور شہباز شریف کا نام ہے۔لندن فلیٹس مریم نواز کو کب اور کیسے منتقل ہوئے۔ کیا مریم کو جائیداد منتقلی کا کوئی دستاویزی ثبوت ہے،کوئی ایسی دستاویز ہے جس سے ثابت ہو کہ 2006 کی ٹرسٹ ڈیڈ غلط ہے۔عمران خان کے وکیل نے کہا کہ جائیداد کی تفصیل سے متعلق کوئی دستاویز نہیں تاہم مریم نواز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی فراہم کردہ دستاویز درست ثابت کریں، ایک دستاویز میں مریم نواز سامبا بنک اور منروا کمپنی سے تعلق ظاہر کرتی ہیں، تحقیقاتی ادارے نے موزیک فرم سے آف شور کمپنیوں کی تفصیلات مانگیں اور کمپنیوں کی ملکیت اور دیگر امور سے متعلق دریافت کیا، تحقیقاتی ادارے کو بتایا گیا کہ لندن فلیٹس کرائے پر نہیں دیئے گئے، ان میں مریم اور ان کی فیملی رہائش پذیر ہے۔جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ بے نامی جائیدادوں سے متعلق قانون موجود ہے، کیا تحفے میں دی گئی رقم بے نامی ہو جاتی ہے، تنازعہ صرف ٹرسٹی اور بینیفیشل مالک کا ہے، مریم اور حسین نواز کے ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط ہیں اور دونوں ٹرسٹی اس ڈیڈ کو تسلیم بھی کرتے ہیں، فلیٹس کی آمدن نہیں تھی تو ٹرسٹ ڈیڈ کی کیا ضرورت تھی۔ موزیک فرم کو ٹرسٹ ڈیڈ کا نہیں بتایا گیا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ اصل سوال ریکارڈ کا ہے، معلوماتی خط میں مریم نواز کے ذرائع آمدن فیملی بزنس لکھا ہے، اس بات سے کس حد تک خاندان کے دوسرے لوگوں سے تعلق بنتا ہے، دوسرا فریق بتائے کمپنیاں کب بنی ،کس نے بنائی اور پیسہ کہاں سے آیا، دوسرے فریق کا موقف سن کر حکم دے سکتے ہیں کہ دستاویز پیش کریں، عدالت کا اختیار ہے کہ دستاویز طلب کرے۔ سچ تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اس عدالت کو بے اختیار نہ سمجھا جائے، عدالت کے پاس اختیار ہے کہ ریکارڈ پیش کرنے کا حکم جاری کرے۔ بعدازاں عدالت نے مقدمے کی سماعت پیر تک ملتوی کردی، اگلی سماعت پر بھی پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

پاناما کیس

مزید :

کراچی صفحہ اول -