کراچی،تھانے پر فائرنگ اور دستی بم حملہ،رکشہ ڈرائیور جاں بحق،کانسٹیبل زخمی

کراچی،تھانے پر فائرنگ اور دستی بم حملہ،رکشہ ڈرائیور جاں بحق،کانسٹیبل زخمی

  

کراچی(آن لائن) کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آبادمیں موٹرسائیکل سوارملزمان نے تیموریہ تھانے پردستی بم حملہ کردیا،جبکہ7منٹ بعدفائیواسٹارچورنگی پرٹریفک پولیس اہلکارپرفائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کانسٹیبل شدیدزخمی،جبکہ رکشہ ڈرائیورہلاک ہو گیا۔ 7 منٹ میں دہشت گردی کے2واقعات کے بعد شہر بھر میں پولیس کوہائی الرٹ کردیا،جبکہ ریگل چوک پربھی فائرنگ سے نوجوان زخمی ہوگیا۔اطلاعات کے مطابق نارتھ ناظم آباد بلاک N میں موٹرسائیکل سوارروں نے تیموریہ تھانے پردستی بم سے حملہ کیابم تھانے کی دیوارکے قریب جاکرگرا،دھماکے سے پوراعلاقہ لرزاٹھا،تھانے کی عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ پولیس اہلکارخوفزدہ ہوکرزمین پرلیٹ گئے حملے کے نتیجے میں تھانے کے باہرکھڑااے ایس آئی اقبال زخمی ہوا۔موٹرسائیکل سوارملزمان اطمینان سے فرارہوگئے اورتھانے سے چندمنٹ کے فاصلے فائیواسٹارچورنگی پرٹریفک کنٹرول کرنے والے پولیس کانسٹیبل کوٹارگٹ کرکے فائرنگ کی۔شبیرنے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی اس لئے گولی سلپ ہوکراس کے بازومیں لگی۔تھوڑے فاصلے پرکھڑے رکشہ ڈرائیورعلی عمران نے ملزمان کوپکڑنے کیلئے آگے بڑھارتوملزمان نے علی عمران کوفائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ملزمان فائرنگ کے بعدشارع نورجہاں کٹی پہاڑی کی طرف فرارہوگئے۔پولیس کے مطابق جائے وقو عہ سے 9ایم ایم کے9خول ملے ہیں۔پولیس نے خول تحویل میں لے کرفارنزک لیب بھجوادیئے۔آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے تیموریہ تھانے پردستی بم حملے اورٹریفک اہلکاروں پرفائرنگ کانوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ویسٹ سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی جبکہ نمازجمعہ کے دوران ممکنہ دہشت گردی کے ممکنہ خطرے کے باعث شہربھرمیں پولیس کوہائی الرٹ کردیاگیا۔واضح رہے کہ گزشتہ2روزکے دوران پولیس پردہشت گردوں نے3ٹارگٹڈحملے کئے ہیں،جن میں ایک پولیس افسرہلکا،2زخمی ہوئے ہیں ان حملوں کے بعدپولیس کواحتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے اورہدایت دی گئی ہے کہ پولیس اہلکارعرف ڈیوٹی کے دوران وردی کاستعمال اورڈیوٹی کے دوران بلٹ پروف جیکٹس پہنے بغیرڈیوٹی دینے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ادھرصدرریگل چوک کے قریب فائرنگ سے نوجوان علی رضازخمی ہوگیا۔دوسری جانب ترجمان سندھ پولیس کے مطابق تھانہ تیموریہ پر دستی بم حملہ اور نجی ہوٹل پر مبینہ فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں ٹریفک اہلکار زخمی ہونے کے حوالے سے میڈیا رپورٹس پر آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ویسٹ سے تفصیلی انکوائری پر مشتمل رپورٹ فوری طور پر طلب کر لی ہے۔انہوں نے ہدایات جاری کیں کے کرائم سین سے تمام تر شہادتوں اور وقوعے کے عینی گواہوں کے بیانات اور واقعے کے حوالے سے تمام تر ممکنہ پہلو ؤں کو سامنے رکھتے ہوئے تفتیش کو انتہائی مربوط اور مؤثر بنایا جائے تا کہ ملوث ملزمان کی جلد گرفتاری کو یقینی بنایا جا سکے۔

فائرنگ

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -