شعبہ فارمیسی ایک مستند شعبہ بن کر ابھراہے ،ڈاکٹر راحیلہ نجم

شعبہ فارمیسی ایک مستند شعبہ بن کر ابھراہے ،ڈاکٹر راحیلہ نجم

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جامعہ کراچی کے شعبہ فارماکولوجی کی پروفیسر ڈاکٹر راحیلہ نجم نے کہا کہ میڈیکل کا شعبہ ایک مقدس پیشہ ہے جس کا مقصد انسانیت کی خدمت کرناہے ،المیہ یہ ہے کہ ہمارے فارماسسٹ مواقعوں کی کمی کے باعث بیرون ممالک شفٹ ہورہے ہیں جس پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔کچھ عرصہ قبل فارمیسی کے شعبہ سے متعلق بہت کم لوگوں کو معلومات تھیں اور کافی کم تعداد اس شعبہ سے وابستہ ہوتی تھیں مگر اب شعبہ فارمیسی ایک مستند شعبہ بن کر ابھراہے جس کی اہمیت وافادیت سے انکار ممکن نہیں۔ایک فارماسسٹ ہی وہ واحد شخص ہوتاہے جو قانوناًاسپتال کے ادویات کے معیار کی نگرانی کا مجاز ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ فارماسسٹ اور کیمسٹ سے متعلق قوانین پر صوبہ بھر کے اسپتالوں میں عملدرآمد نہیں ہورہاہے۔اسپتالوں کو چاہیئے کہ وہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی مرتب کردہ ہدایات کے مطابق ہر پچاس بستروں پر مشتمل اسپتالوں میں کم سے کم ایک فارماسسٹ تعینات کرے اور ادویات کی نگرانی کے لئے فارمیسی کمیٹی قائم کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے کلیہ علم الادویہ کے زیر اہتمام منعقدہ تین روزہ سالانہ کراچی یونیورسٹی فارما کانفرنس 2017 ء کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے سندھ کے مختلف اسپتالوں میں ماڈل فارمیسیاں قائم کی جائیں اورفارماسیوٹیکل ماہرین پر مشتمل ڈرگ اویلیوایشن کمیٹی کے قیام کو یقینی بنایا جائے جس کا مقصد ادویات کے برانڈز کا چناؤ اور اعلیٰ معیار کو یقینی بنانا ہو۔اس موقع پر شعبہ فارمیسی کے ڈاکٹر ایاد نعیم نے کہا کہ فارماسسٹ کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے مقامی اسپتالوں میں غیر معیاری ادویات کا راج ہے اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ ان تمام مسائل کا ازالہ کرتے ہوئے فارماسسٹ کے کردار کو سمجھا جائے اور اسپتالوں میں فارماسسٹ کو ترجیحی بنیادوں پر نگرانی کے امور پر فائز کیا جائے۔،المیہ یہ ہے کہ ہمارے فارماسسٹ مواقعوں کی کمی کے باعث بیرون ممالک شفٹ ہورہے ہیں جس پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔فارماسسٹ کے کردار کی کمیابی کے باعث ڈاکٹرحضرات غریب مریضوں کو بھی ان کمپنیوں کی مہنگی ادویات تجویز کرتے ہیں جو ان کو سہولیات فراہم کرتی ہیں جولمحہ فکریہ ہے اور اس سے ظاہر ہوتاہے کہ فارماسسٹ کا کردار عوام کی فلاح اور صحت کے لئے ناگزیر حیثیت کا حامل ہے۔معروف ٹرینر صمد عباس زیدی نے کلیہ فارمیسی کے طلبہ کو ترغیبی سیشن دیتے ہوئے کہا کہ عصر حاضر مقابلے کا دور ہے جس میں مارکیٹ کی جدید ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے طلبہ کو چاہیئے کہ وہ ڈگریوں کے حصول کے ساتھ قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کارلاتے ہوئے اپنے بہتر مستقبل کے لئے کوشاں رہیں توترقی کی منازل طے کرنے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔لیڈرز کبھی شکایت نہیں کرتے بلکہ مشکلات کا سامنے کرتے ہوئے اس کا حل تلاش کرتے ہیں اوراپنے جونیئرز کو ہمیشہ آگے بڑھنے کے بھرپور مواقع فراہم کرتے ہیں۔ہمارے نوجوانوں کو چاہیئے کہ وہ شکایات کرنے کے بجائے کتب بینی کے کلچر کو فروغ دیں ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -