بونیر میں بارود خانہ کے قیام کا تنازعہ خوش اسلوبی سے حل

بونیر میں بارود خانہ کے قیام کا تنازعہ خوش اسلوبی سے حل

  

بونیر (ڈسٹرکٹ رپورٹر)جوڑ کے علاقہ میں بارود خانہ کے قیام پر جاری ایک سالہ تنازعہ سلارزئی جرگہ اور بارود خانہ کے مالکان کے درمیان حل ہوگیا ،اس اہم مسئلے پر علاقہ سلارزئی کے عوام نے شدید احتجاجی مظاہروں ،پشاور اور اسلام اباد میں ہائی لیول میٹنگ منعقد کی تھی ۔اور ساتھ ساتھ مقامی عدالت میں بارود خانہ نہ کھولنے کے خلاف حکم امتناعی حاصل کی تھی جو تا حال عدالت میں زیر سماعت تھی ۔تنازعہ حل ہو نے پر علاقہ سلارزئی کے عوام اور بارود خانہ کے مالکان کے درمیان خون ریز تصادم کا خطرہ ٹل گیا ،اور اس اہم مسئلے کے حل پر علاقہ سلارزئی کے عوام کافی خوش ہیں ۔راضی نامہ کے تفصیلات بتاتے ہو ئے علاقہ سلارزئی جرگہ کے ترجمان اور عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی رہنماء قریب الرحمان ایڈوکیٹ نے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان طے پایا گیا کہ بارود خانہ کے مالکان ڈیڑھ سال کے بعد مذکورہ مقام سے بارود خانہ کو شفٹ کرے گا ،ڈیڑھ سال کے دوران بارود خانہ میں کسی قسم کی مارکیٹنگ نہیں ہوگی اور یہ صرف گودام کے طور پر استعمال کیا جائے گا ،بارودخانہ کی سیکورٹی علاقہ سلارزئی سے تعلق رکھنے والے پولیس جوان کریں گے جبکہ علاقہ سلارزئی سے تعلق نہ رکھنے والے پولیس یہاں کی سیکورٹی نہیں کرے گی ،بارود خانہ کے ارد گرد زیر تعمیر یا نئے تعمیر ہو نے والے تعمیرات پر کو ئی پابندی نہیں ہو گی ۔ترجمان قریب الرحمان ایڈوکیٹ نے بتایا کہ راضی نامہ عدالت سے ڈگری کے شرائط پر دونوں فریقین کے باہمی رضامندی سے کیا گیا ،سلارزئی جرگہ کی طرف سے عثمان غنی ۔محمد اسحاق ۔احمد سردار ۔چئیر مین محمد آمین ،قریب الرحمان ایڈوکیٹ جبکہ بارود خانہ کے مالکان کی جانب سے حمید الرحمان خان ۔سلیم ۔محمد رفیق ۔امیر اکبر خان اور دیگر کے دستحط کئے ۔واضح رہے کہ بارود خانہ کے قیام کے بعد علاقہ سلارزئی کے جرگہ ممبران نے عوام کو ساتھ ملاکر اسکے قیام کے خلاف جوڑ چوک میں احتجاجی مظاہرے کئے اور میڈیا پر اسکے خلاف بھر پور اواز اٹھائی ۔جبکہ ڈی سی بونیر ،ڈی پی او بونیر سمیت پشاور اور اسلام اباد میں اعلی سطح ملاقاتیں کی گئی تھی ۔ترجمان نے مزید بتایا کہ اس معاہدے کی رو سے علاقہ سلارزئی کے عوام کا دیرینہ مسئلہ حل ہوگیاہے اور اس راضی پر یہاں کے جائیداد مالکان سمیت عوام بھی راضی ہے ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -