خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو پر الزامات

خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو پر الزامات

  

صوابی( بیورورپورٹ)خیبرپختونخواہ آئل اینڈ گیس کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو پر سنگین الزامات کا مسئلہ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے سوموٹو ایکشن لے کر معاملہ سٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کردیا۔تفصیلات کے مطابق KPOGCLکے چیف ایگزیکٹیو رضی الدین پر اسی محکمہ کے جی ایم ایکسپلوریشن نذیرالحق نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مذکورہ چیف نے لکی بلاک کا ڈیٹا غلط فارمیٹ پر اور دوسراپراسسڈ Processed) ) اور استعمال شدہ ڈیٹا خرید کر حکومت اور محکمے کے کروڑوں روپے ضائع کیے تھے۔ گزشتہ 3سالوں سے KPKکی کمپنی ہونے کے باوجود نامعلوم وجوہات کی بناء پر دوسرے صوبے سے من پسند لوگوں کو بھرتی کیا اور تین سالوں میں بے تاج بادشاہ بن کر بیسیوں لوگوں کو وجہ بتائے بغیر فارغ کیا تھا۔ چیف نے KPKمیں تیل کی پیداوار کو 2لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا حالانکہ 3سالوں میں 25لاکھ کی بھاری تنخواہ لینے والے چیف نے ایک بیرل تیل بھی پیدا نہیں کیا۔ KPKمیں 1.1بلین بیرل تیل اور 16TCF (سوئی گیس کے ذخیرہ سے 16گنابڑا ذخیرہ) کا دعویٰ کرکے حکومت اور عوام کو گمراہ کیا تھا۔ حالانکہ اتنے بڑے ذخیرے کا انکشاف کسی رپورٹ کے بغیر کیا گیا تھا۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر پوری حکومت اور وزیراعلیٰ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر نوشہرہ کے میٹا مارفک بلاک میں تیل و گیس کی تلاش کے کام کا افتتاح کیا ۔ حالانکہ جو علاقہ میٹا مارفک قرار پائے وہاں تیل وگیس کا کبھی بھی امکان نہیں ہوتا۔ جی ایم کا مذید مؤقف تھا کہ چیف نے محض وزیراعلیٰ کو خوش کرنے کے لئے یہاں کام کا آغاز کیا۔ حالانکہ خود اسکو بھی معلوم تھا کہ یہاں کچھ بھی نہیں اور اس کام پر 42ملین ڈالر کا تخمینہ لگا کر حکومت کو پیش کیا گیا۔ ان تمام الزامات کی چھان بین کے لئے سپیکر KPK اسد قیصر نے گزشتہ روز سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے معاملہ سٹینڈنگ کمیٹی برائے انرجی اینڈ پاور کے حوالے کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اس معاملے کی شفاف انکوائری کرکے معاملے کو 10دنوں کے اندر نمٹایا جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -