جامعہ زکریاکے جعلی کیمپس مظفر گڑھ میں سرکاری اساتذہ کے پڑھانے کا انکشاف

جامعہ زکریاکے جعلی کیمپس مظفر گڑھ میں سرکاری اساتذہ کے پڑھانے کا انکشاف

  

مظفرگڑھ(نما ئندہ پاکستان )بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرگڑھ میں قائم کیے گئے جعلی کیمپس میں سرکاری اساتذہ کے پڑھانے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ ماسٹرزکے طلباء وطالبات کو پڑھانے والے کئی من پسند اساتذہ کے خودایم اے میں سیکنڈ اور (بقیہ نمبر67صفحہ12پر )

تھرڈ ڈویژن آئیں۔تفصیلات کیمطابق بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرگڑھ میں ایچ ای سی کے این اوسی کے بغیر قائم کیے گئے جعلی کیمپس کے حوالے سے مزیدانکشافات منظرعام پرآئے ہیں،ذرائع کیمطابق ایک جانب کیمپس کے طلباء وطالبات سے فی سمسٹر30سے 32ہزار روپے کی خطیر رقم فیس کی مد میں وصول کی جارہی ہے تو دوسری جانب انھیں پڑھانے والے یونیورسٹی کے اساتذہ نہیں بلکہ ماسٹرز پاس لڑکے ہیں جن میں سے کئی لڑکے خود سیکنڈیاتھرڈ ڈویژن لیکر پاس ہوئے اور اب کیمپس کے انچارج اشرف کے منظور نظر ہونے کی وجہ سے طلباء وطالبات کو غیر معیاری تعلیم فراہم کررہے ہیں،یہی اساتذہ یونیورسٹی کے جعلی کیمپس میں ہی طلباء وطالبات کو سمسٹر کے امتحانات میں خود نقل فراہم کرتے ہیں اور امتیازی نمبر بھی من پسند طلباء وطالبات کو فراہم کیے جاتے ہیں۔غیر معیاری تعلیم کے بعد نقل فراہم کرنے کے عمل سے تعلیم کی جو خدمت جعلی کیمپس فراہم کررہا ہے اس کے باعث والدین کی تشویش میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ذرائع کیمطابق غیر تجربہ کار ایم اے پاس اساتذہ کو فی لیکچر بھاری معاوضہ ادا کیا جاتا ہے تو دوسری جانب سرکاری پروفیسرز بھی اس بہتی گنگا سے برابر مستفید ہورہے ہیں،کالج کے لیکچرار اشرف اس حوالے سے سب سے خوش قسمت ثابت ہوئے ہیں جو ایک جانب بطور لیکچرار پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرگڑھ بھاری تنخواہ وصول کررہے ہیں تودوسری جانب کیمپس کے انچارج کے طور پر بھی بھاری معاوضہ لے رہے ہیں اور یہ انہی کی صوبداید پر ہے کہ وُہ اپنی مرضی سے جعلی کیمپس کے اساتذہ میں سے جس کو چاہیں نکال باہر کریں اور جسے چاہے نوکری پر رکھیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -