ترکی میں اغواء کاروں کے چنگل میں پھنسا کوٹ ادو کا نوجوان بھی شامل

ترکی میں اغواء کاروں کے چنگل میں پھنسا کوٹ ادو کا نوجوان بھی شامل

  

کوٹ ادو (تحصیل رپورٹر) ترکی میں اغواء کاروں کے چنگل میں پھنسا کوٹ ادو کا نوجوان بھی شامل،اغواء کاروں نے ایک لاکھ روپے لینے کے باوجود رہا نہیں کیا،4لاکھ روپے مزید(بقیہ نمبر49صفحہ7پر )

طلب کرلیے،3ماہ سے بیٹے سے رابطہ بھی نہ کرایا،والدین کی حالت غیرتفصیل کے مطابق وارڈ نمبر 14سی محلہ ککے والا کا رہائشی نوجوان الیکٹریشن محمد یامین موہانہ جو کہ راولپنڈی میں مزدوری کرتا تھا کو جولائی میں وقار نامی ایجنٹ نوکری دلوانے کا جھانسہ دے کر غیر قانونی طریقے سے ترکی لے گیا جہاں اس نے اپنے دیگر ساتھیوں آصف ،شکیل اور سرفراز کے ہمراہ اسے محبوس کرلیا اور پاکستان اس کے گھر ٹیلی فون کے ذریعے ایک لاکھ روپے طلب کئے ،رقم نہ دینے پر اسے تشدد کا نشانہ بناتے رہا اور تشدد کی آوازیں والدین کو سناتے رہے ،یامین کے رونے پر غریب والدین نے اغواء کاروں کے دئے گئے سرفراز نامی شخص کے اکاؤنٹ میں ایک لاکھ روپے بھیجے،رقم لینے کے بعد بھی اغواء کاروں نے اسے رہا نہ کیا اور اس سے موبائل فون چھین لیا اور گھر والوں سے رابطہ بھی ختم کرا دیا،اب وہ چار لاکھ روپے طلب کررہے ہیں،متاثرہ یامین کے ورثا والد غلام یسین موہانہ والدہ کلثوم بی بی اور بھائی مثنیٰ رازی نے پریس کلب کوٹ ادو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ماہ جولائی کے آخر میں انہیں ترکی سے انہیں یامین نے ایک انجان نمبر سے کال تو اور بتایا کہ اسے روزگار کے سلسلہ میں وقار نامی ایجنٹ افغانستان کے راستے ایران سے ترکی لے آیا اب ایجنٹ رقم کا مطالبہ کر رہاہے اور رقم نہ دینے پر اسے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں،کلثوم بی بی نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ بہت ہی غریب لوگ ہیں اوربیٹے کے رونے اور اس پر تشدد کے خوف سے ادھار رقم لے کر ایک لاکھ روپے سرفراز نامی شخص کے اکاؤنٹ میں بھیج دیے جس کی بنک رسید بھی ان کے پاس ہے، رقم لینے کے بعد ان اغواء کاروں نے کئی روز تک رابطہ نہ کیا اور نہ ہی ہمارے بیٹے سے بات کرائی،اب کئی روز سے اغواء کاروں کی طرف سے موبائل فون پر چار لاکھ کی ڈیمانڈ کی جارہی ہے ،ورثا نے بتایا کہ وہ ایک غریب مزدور ہے اتنی بھاری رقم نہیں دے سکتیاور انہیں خدشہ ہے کہ اغواء کار اس کے بیٹے کو قتل نہ کردیں،انہوں نے وزیراعظم میاں نواز شریف،وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف اور وزرات داخلہ سمیت سماجی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ا س کے بیٹے کو باز یاب کرایا جائے اور اغواء کاروں کی طرف سے وصول کیے گئے ایک لاکھ روپے واپس دلائے جائیں بصورت دیگر وہ پنجاب اسمبلی کے سامنے خود سوزی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -