کم عمر ترین فلسطینی قیدی جیل میں وقت کیسے گزاتا ہے؟اپنی ماں کو خط لکھ کر بتادیا

کم عمر ترین فلسطینی قیدی جیل میں وقت کیسے گزاتا ہے؟اپنی ماں کو خط لکھ کر ...
کم عمر ترین فلسطینی قیدی جیل میں وقت کیسے گزاتا ہے؟اپنی ماں کو خط لکھ کر بتادیا

  

مقبوضہ بیت المقدس(ویب ڈیسک)اسرائیلی عتاب کا شکار کم عمر ترین فلسطینی بچہ شادی جیل میں اپنا وقت کیسے گزار رہا ہے ۔اس سے متعلق شادی نے اپنی ماں کو ایک خط لکھا ہے ۔خط میں بچے نے اپنی ماں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”میری ماں غم نہ کرنا ، یہ اللہ کی طرف سے امتحان ہے۔ میں روزانہ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی برائیوں کو نکال پھینکنے اور اچھائیوں کو بہتر کرنے کے بارے میں سوچتا ہوں“۔حقیقت میں شادی کامیاب ہوا اوراس نے قرآن کریم کے مقابلے میں حصہ لے کر کامیابی بھی حاصل کی۔

ویب سائٹ ”العربیہ ڈاٹ نیٹ “نے شادی کی وہ تصاویر شائع کی ہیں جب وہ گرفتار نہیں ہوا تھا،تیراکی اور گھڑسواری میں پوری مہارت سے حصہ لیتا تھا۔

 مقبوضہ بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے 13 سالہ فلسطینی قیدی بچے شادی فراح انتظامی طور پر ایک برس تک اسرائیلی حکام کی حراست میں رہا جس کے بعد اسے مقبوضہ بیت المقدس کی مجسٹریٹ عدالت نے دو سال قید کی سزا سنا دی ہے۔کم عمر ترین فلسطینی اسیر پر اپنے قبضے میں چاقو رکھنے اور اپنے دوست احمد زعیتر کے ساتھ چھرا گھونپنے کی کارروائی کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام تھا۔ گرفتاری کے وقت دونوں کی عمر 12 سال سے زیادہ نہ تھی۔

فراح کی والدہ نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو جیل میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔والدہ نے بتایا کہ شادی کے کپڑے اتار کر اس کو برہنہ کرکے ایئر کنڈیشنر کے سامنے بٹھایا جاتا اور پھر کپڑوں کو پانی میں ڈبوکر اس پر ڈال دیا جاتا۔ اس کے علاوہ اس کے سر کے بال بھی مونڈھ دیئے جاتے۔ شادی فراح کی والدہ نے مزید بتایا کہ جسمانی اور نفسیاتی تشدد کے بعد شادی کا جسم بہت کمزور اور لاغر ہوگیا۔شادی دونوں آنکھوں اور کانوں کے انفیکشن کے مرض میں مبتلا ہوگیا۔ ملاقات کے دوران جب میں اس سے ملی تو اس نے اپنا سر دیوار سے مارنا شروع کردیا۔ جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ اگر میں خاموش رہی تو اپنے فراح بیٹے کو کھودوں گی۔قیدی بچے کی والدہ نے اس کے لئے نفسیاتی معالج کے مشورے سے اس کا علاج شروع کردیا اور اسے قرآن کریم،مختلف قسم کے رنگ،کہانیاں،اور ڈرائنگ کاپیاں لاکردیں۔ شادی نے اپنی سالگرہ کے روز اپنی والدہ کو ایک خط بھی لکھا جس کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے۔

مزید :

انسانی حقوق -