حکومت کا نیب قوانین میں ترمیم کا فیصلہ،بدعنوانی سے متعلق سزاﺅں کو مزید سخت کرنے کی تجویز دی ہے:اسحاق ڈار

حکومت کا نیب قوانین میں ترمیم کا فیصلہ،بدعنوانی سے متعلق سزاﺅں کو مزید سخت ...
حکومت کا نیب قوانین میں ترمیم کا فیصلہ،بدعنوانی سے متعلق سزاﺅں کو مزید سخت کرنے کی تجویز دی ہے:اسحاق ڈار

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومت نے نیب قوانین میں ترمیم کا فیصلہ کرلیا ۔وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے قوانین جائزہ کمیٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہسپریم کورٹ نے پلی بارگین سے متعلق حکومت کا موقف مانگاتھا۔آج رات 12 بجے سے پہلے آرڈیننس جاری کردیا جائے گا، وزیراعظم کی منظوری سے آرڈیننس نافذ کردیا جائے گا۔ اسحاق ڈار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بد عنوانی سے متعلق سزاﺅں کو مزید سخت کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔کرپشن میں ملوث سرکاری عہدےدار کوتاحیات نااہل کرنےکی سفارش کی گئی ہے۔ اسحاق ڈارکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے شق 25 اے کے تحت حکومت کا موقف دریافت کیاتھا۔کرپشن کے معاملے پر سزا سخت ہونی چاہیے۔مزید تفصیلات کے مطابق وزیرخزانہ نے کہا کہ وزیراعظم کو تجویز دی ہے کے پلی بارگین میں عدالتی منظوری بھی ہو اور تاحیات پابندی بھی ہو۔نیب کے آرڈیننس 25 اے کے تحت یہ آرڈیننس پیر کو سینیٹ میں پیش کردیا جائے گا۔کیونکہ پیر کو سینٹ کا اجلاس بھی ہونے جارہا ہے تو یہ آڑیننس آج رات 12 بجے نافذالعمل ہوگا۔ پارلیمانی کمیٹی جو نیب آرڈیننس پر نظرثانی کرے گی کام کی جا چکی ہے مگر اس آرڈیننس میں ترمیم میں چند ماہ لگ جائیں۔ اس لئے ہم نے اس کو کل سے نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی ترمیمی آرڈیننس جاری کیا جارہا ہے۔آپ جانتے ہیں کہ اس قانون میں بڑی خامیاں تھیں اور اس پر کافی تنقید بھی جارہی تھی ۔زاہد حامد نے کہا کہ پلی بارگین کرنے والے کو زندگی بھر کیلئے نااہل کیا جائے گا۔کرپشن پر کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ترمیمی قانون کے مطابق اب اگر کوئی بھی کرپشن کا پیسہ واپس کرنا چاہتا ہے تو پہلے عدالت کی منظوری چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قانون میں رضاکارانہ واپسی پر منظوری کرنا یا نہ کرنا چیئرمین نیب کی صوابدید ہے۔ پلی بارگین میں دس سال کیلئے عوامی عہدے پر پابندی ہوتی ہے۔اگر کوئی سرکاری عہدے دار پلی بارگین کرتا ہے تو اس کو تاحیات نااہلی کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ اپنے عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ بد ھ کو اس قانون کے حوالے سے نیب کی پارلیمانی کمیٹی بیٹھے گی جس میں ہم بھی شامل ہونگے اور امید ہے کہ بہت جلد اس قانون میں باقاعدہ ترمیم کرلی جائے گی۔

وزیرمملکت برائے ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیراعظم نے یہ ہدایت کی ہے کہ سب کا بغیر کسی کی حمایت کیے احتساب ہونا چاہیے اور سب کیلئے ایک اصول طے ہونا چاہیے۔وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ہدایت کی کہ تمام لوگوں کو ایک ہی نظام کے تحت دیکھنا چاہیے ۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -