ازبک صدر نے کی تقریب حلف برداری میں شرکت

ازبک صدر نے کی تقریب حلف برداری میں شرکت
ازبک صدر نے کی تقریب حلف برداری میں شرکت

  

تحریر: محمد عباس خان (تاشقند)

گزشتہ ہفتے ازبکستان کے دوسرے منتخب صدر شفقت میر امان وچ میر ضیا ء نیف نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ حلف برداری کی یہ تقریب ازبک پارلیمنٹ (عالی مجلس) میں منعقد ہوئی۔ یہ ایک ایوان زیریں عالی مجلس اور ایوان، بالا سٹیٹ کا مشترکہ اجلاس تھا۔ جس میں نہ صرف دونوں ایوانوں کے ممبران بلکہ حکومت کے وزراء الیکشن کمیشن کے اہم عہدیدار، اہم حکومتی عہدیدار، غیر ملکی سفارتکار اور غیر ملکی و مقامی صحافیوں نے بھی شرکت کی۔ پاکستان سے سفیر پاکستان ریاض حسین بخاری اور راقم نے بطور صحافی شرکت کی۔

صدر ازبکستان کے تازہ انتخابات نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ازبک عوام حکومتی پالیسیوں کی حمایت کرتے اور سوشل اکنامک ریفارمز کی سپورٹ کرتے ہیں۔ ووٹروں نے ان انتخابات میں بھرپور حصہ لیا۔ ملک میں امن اور ترقی کے نام پر ووٹ دیے۔ یاد رہے کہ ازبکستان پچھلے صدارتی انتخابات 29 مارچ 2015ء کو منعقد ہوئے تھے۔ اور مملکت کے بانی اور اولین صدر اسلام کریموف کی دو ستمبر کو نا گہانی موت کی وجہ سے موجود صدارتی انتخابات 4 دسمبر 2016ء کو ہونا قرار پائے۔

ازبکستان کے پچھلے صدارتی انتخابات میں لبرل ڈیموکریٹک پارتی کے امیدوار صدر اور بانی ازبکستان اسلام کریموف نوے فیصد ووٹ لے کرکامیاب ہوئے تھے۔ 1990ء سے ازبکستان کے لیڈر اسلام کریموف ان انتخابات میں چوتھی دفعہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے۔ تب انتخابات میں اسلام کریوف کے علاوہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کیا امیدوار حاتم جان کتمانوف، جسٹس سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ناریمان تکروف اور نیشنل ری مائیول ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار اکمل سعیددف نے حصہ لیاتھا۔ PDP کے امیدوار نے 2.92% ، ISDP کے امیدوار نے 2.05% اور NIRDP کے امیدار نے 3.08%، LDP کے امیدوار نے 90.39% ووٹ حاصل کیے تھے۔ آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ CIS اور شنگھائی کو اپریشن آرگنائزیشن SCO کے انتخابات کو کھلا، آزاد اور جمہوری قرار دیا تھا۔

ازبکستان میں ہونے والے حالیہ صدارتی انتخابات ازیبکستان کے موجودہ وزیراعظم شوکت میر ضیاء یف میرا امان وچ بھاری اکثریت سے جیت گئے۔ ازیبکستان کے ان انتخابات میں بھی چار پارٹیوں نے حصہ لیا۔ لبرل ٹیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کل ڈال گئے ووٹوں کا 88.61% حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔صدارتی انتخابات میں عوام نے بھرپور جوش و خروش سے حصہ لیا۔ ووٹروں کی کل تعداد کا 87.33% فیصد حصہ ووٹ ڈالنے آیا۔ انتخابات کے روز تمام ٹرانسپورت عوام کیلئے مفت تھی تا کہ ووٹر آسانی سے پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچ سکیں۔ اور کوئی پارٹی انہیں ٹرانسپورٹ مہیا کا لالچ دے کر خرید نہ سکے۔ اسی طرح ہر پولنگ اسٹیشن میں ایک میڈیکل پوسٹ بنائی گئی تھی تا کہ اگر ضرورت پڑے تو فوری طبی امداد مہیا کی جا سکے۔ پولنگ اسسٹیشنوں میں ’’ماں بچے کا کمرہ‘‘ بھی ترتیب دیا گیا تھا۔ تا کہ بچوں والی مائیں بچوں کو اس کمرے میں موجود نرسوں کے حوالے کریں اور خود لائن میں لگ کر سکون سے ووٹ ڈال سکیں ’’ماں بچے کا کمرہ‘‘ میں ہر عمر کے بچوں کی تفریح کا مناسب بندوبست کیا گیا تھا۔

ہارنے والی تینوں پارٹیوں کے راہنماؤں نے انتخابی نتائج کو تسلیم کر لیا اور جیتنے والے صدر کو مبارکباد دی ہے۔ ساٹھ سالہ میر ضیا ئیف 2013 ء سے ازبکستان کے وزیراعظم چلے آ رہے ہیں ان کی پارٹی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی دراصل ازیبک کاروباری حلقوں اور صنعتکاروں کی پارٹی ہے۔ الیکشن کیلئے دنیا بھر سے چھ سو سے زائد آبزروز آئے تھے۔ کوئی خاص خامی یا دھاندلی سامنے نہیں آئی۔ انتخابی فتح کے اعلان کے فوراً بعد جیتنے والے امیدوار کو روسی صدر ولا ویمیر پوٹن نے مبارکباد دی فون کیا۔ ان کے بعد قزاخستان کے صدر نور سلطان نذر بائیف اور پھر تاجیک صدر امام علی رحمانوف نے بھی نومنتخب صدر کو مبارکباد دی فون کر کے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

حلف اٹھانے کی تقریب ایک باوقار، سنجیدہ، اور دلکش انداز میں منعقد کی گئی۔ ازبکستان کے آئین کی شق 92 کے تحت شفقت میر امان وچ میر ضیانیف نے آئین پر ہاتھ رکھ کر آئین، مملکت اور عوام سے وفاداری کا حلف یوں اٹھایا۔ ’’میں حلفیہ یہ اعلان کرتا ہوں کہ ہر صورت میں ازبک عوام کی خدمت کروں گا، ریاست کے آئین اور قانون پر سختی سے عمل کروں گا۔ شہریوں کے حقوق اور آزادیوں کی ضمانت دوں گا، اور صدر کی حیثیت سے تفویض کی جانے والی ذمہ داریوں کو بہ احسن ادا کروں گا۔‘‘ اسکے بعد ازبکستان کا قومی ترانہ بجایا گیا۔ تقریب سے صدر شفقت میر ضیائنیف نے تفصیلاً خطاب فرمایا۔ انہوں نے مملکت کی ترقی اور مستقبل کیلئے اپنی منصوبوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا ’’ ہم اپنے بہادر اور بہترین عوام کیس اتھ مل کر ایک آزاد، جمہوری اور ترقی یافتہ ازیبکستان کی تعمیر کریں گے۔ انہوں نے انتخابات میں عوام کی طرف سے ان پر بھاری اعتماد کا شکریہ ادا کیا۔ دوسری پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کا متبادل قیادت پیش کرنے پر شکریہ ادا کیا، بیرون ممالک کے سفارتکاروں، وہاں سے آنے والے مبصروں اور غیر ملکی صحافیوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ فوجی افسروں، خفیہ اداروں کے اہکاروں اور حکومتی و پرائیویٹ اداروں کے ملازموں کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی مشترکہ کوششوں سے آزاد، جمہوری اور پرسکون انتخابات کا انعقاد ممکن ہوا۔ صدر ،ہر ضیائنیف نے تاریخی طور پر امیر تیمور کے کارناموں کا ذکر کیا۔ ازبکستان کو ترقی و امن کی راہ پر مستقل مزاجی سے لگانے پر ازیبک عوام کے پہلے صدر اسلام کریموف کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے تمام متعلقہ حکام و سفارتحانہ اور وزارتِ خارجہ کے اہلکاروں سے مطالبہ کیا کہ دنیا میں ازبکستان کا نام بلند کیا جائے اور فارن انوسٹمنت کو خوش آمدید کہا جائے۔ انہوں نے سمال انڈسٹری او چھوٹے پیمانے کے کاروبار کی حوصلہ افزائی کا مطالبہ کیا اور ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو کہا کہ بزنس کی ترقی کے راستے میں رکاوٹیں نہ پیدا کریں۔ انہوں نے بینکوں کے عملے سے بار بار مطالبہ کیا کہ وہ دیہاتوں اور چھوٹے شہروں کے عوام کے پاس جائیں اور انہیں کاروبار کے لئے قرضے مہیا کریں۔ اگر عوام امیر ہوں گے تو ملک بھی امیر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے عوام محنت اور امن سے پیار کرتے ہیں میں ہمیں چاہیے کہ ہر شہری کیلئے اچھے حالات اور بہترین شرائط مہیا کریں تا کہ وہ اپنی صلاحیتوں اور طاقت کو بہترین طور پر استعمال کر سکے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو مزید طاقتور اور مزید وسیع کیا جائے گا۔ آئندہ حاکموں کا تقرر نہیں کیا جائیگا۔ بلکہ علاقائی یا صوبائی و شہری حاکموں کو انتخابات کے ذریعے چنا جائے گا۔ نوجوانوں میں حب الوطنی پیدا کرنے اور انتہاء پسندی کے خلاف کام کیا جائے گا۔‘‘

صدر شفقت میر ضیانیف نے اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد عالی مجلس و سینٹ کے مشترکہ اجلاس میں نئے وزیراعظم کیلئے اپنی طرف سے عبداللہ نغماتو وچ عاریپوف کا نام پیش کیا۔ صدر ازیبکستان عبداللہ عاریپوف کی خدمات اور کام کو سراہا۔ یاد رہے کہ عبداللہ عاریپوف 24 مئی کو تاشقند پیدا ہوئے۔ وہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے ممبر ہیں ۔ 2002ء سے 2012ء تک ازیبکستان کے ڈپٹی پرائم منسٹر رہے ہیں۔ وہ ستمبر 2016ء میں ایک بار پھر نائب وزیراعظم بنا دیے گئے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے عبداللہ نغماتووچ عاریپوف کی بطور وزیراعظم آف ازبکستان کے تصدیق کر دی۔

موجودہ صدر ہزی و آبپاسی انسٹی ٹیوٹ سے ڈگری ہولڈر ہیں اوراپنے میدان میں PHD کی ڈگری رکھتے ہیں۔ وہ 1996ء سے 2001 تک جزاح صوبے کے حاکم رہے ہیں پھر وہ 2003ء تک عینی وزیراعظم بننے تک سمر قند صوبے کے حاکم رہے۔ ان کے والد ایک ٹی بی سینی ٹوریم کے چیف میڈیکل آفسر تھے۔ ان کی والدہ بھی امی سینی ٹوریم میں کام کرتی تھی۔ اور ان کی والدہ کی ناگہانی وفات کے بعد ان کے والد نے دوسری شادی کی۔ میر ضیائنیف کا ایک بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ ان کی دونوں بیٹیاں شادی شدہ ہیں جبکہ ان کا ایک چھوٹا بیٹا بھی ہے۔ ازبکستان کے نئے صدر اپنے وطن و عوام کی خدمت میں مصروف ہو گئے ہیں ۔ ہم انہیں دعائیں دیتے ہیں کہ ان کا مشن ازبکستان کی پر امن ترقی اور وہ پاکستان کو اپنے قریب تر کرنے کی کوشوں میں کامیاب ہوں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -