’’میں ہوں دلیپ کمار‘‘ ...ساتویں قسط

’’میں ہوں دلیپ کمار‘‘ ...ساتویں قسط
 ’’میں ہوں دلیپ کمار‘‘ ...ساتویں قسط

  

شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی زبانی انکی اپنی کہانی،دلچسپ ،حیرت انگیز۔۔۔ روزنامہ پاکستان میں قسط وار۔ترجمہ : راحیلہ خالد

اماں نے ہمارے گھر کے محنت طلب کاموں سے شاید صرف ایک دفعہ تب رخصت لی تھی جب ان کی بہنوں میں سے کسی ایک بہن کی شادی تھی۔ اور انہیں اپنے والدین کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا تھا۔ تب میں صرف پانچ یا چھ سال کا تھا اور وہ مجھے اپنے ساتھ لے گئی تھیں۔

اسکول سے واپسی تک مجھے اس بات کا علم نہیں تھا کہ میں اماں کے ساتھ ان کے میکے جا رہا تھا۔مجھے تب معلوم ہوا جب میں نے دادی کو آغا جی کو یہ کہتے سنا کہ وہ اور اماں میرا بہت زیادہ خیال رکھیں اور مجھے دوسرے بچوں کے ساتھ باہر نہ نکلنے دیں۔ دادی نے انہیں فقیر کے وہ الفاظ یاد دلائے جو اس نے میرے بارے کہے تھے۔ میں یقیناًبہت خوش تھا کہ مجھے اماں اور آغا جی کے ساتھ ایک چھوٹے سے تفریحی سفر پر جانے کا موقع مل رہا تھا لیکن یہ خیال آتے ہی میں کانپ اٹھا کہ اتنی بھیڑ میں مجھے اپنے کاجل کی لکیروں والے ماتھے کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔

تب پھوپھی بابجان میری مدد کو آئیں اور انہوں نے خاموشی سے اماں کو نصیحت کی کہ وہ کم از کم اپنے ماں باپ کے گھر میں تو مجھے اس ذلت و رسوائی سے بچائیں جو ماتھے پر کاجل لگانے کی وجہ سے مجھے برداشت کرنا پڑتی تھی۔

تمام تقریبات کے دوران،میں نے اس وسیع و عریض گھر کے اس حصے میں،جو خاص طور پر شادی میں آئی خواتین اور گھر کی بہو بیٹیوں سے بھرا ہوا تھا،ایک ننھے ناظر کی حیثیت سے بہت عمدہ وقت گزارا۔ اس گھر کا ماحول ہمارے گھر کے آمرانہ ماحول کے بالکل برعکس تھا۔ وہاں پہلی بار میں نے دیکھا کہ اماں کو کھانے کی میز پر ان کی صحیح جگہ دی گئی۔ مجھے اماں کو ہنستے اور ان خوشی کی تقریبات میں شرکت کرتا دیکھ کر بہت خوشی ہوتی،جو رات گئے اختتام پذیر ہوتیں۔

میں یہ خواہش کرتا کہ کاش اماں،جب ان شادی کی تقریبات کے اختتام پر اپنے گھر واپس جائیں تو انہیں وہاں بھی ایسی ہی بے فکر زندگی گزارنے کو ملے۔ دادی کے احکامات کی بجاآوری کے طور پر جب میں گھر لوٹا تو میرے ماتھے پر وہی کاجل سے بنی کالی لکیریں موجود تھیں۔ اور اماں بغیر کسی ناراضگی یا خفگی کے دوبارہ سے کچن کے کاموں میں جت گئیں۔

میں دوبارہ سے اسکول جانے لگا اور اماں اور آغا جی میں سے کسی کو اس بات کا احساس تک نہ ہوا کہ میں ایک گم صم اور اپنے آپ میں رہنے والی شخصیت بنتا جا رہا تھا۔ اور مجھ میں احساس کمتری اور اکیلے پن کے احساسات جڑ پکڑتے جا رہے تھے۔ میں گھر واپسی کا انتظار کرتا جہاں اماں کا مہربان اور پر تسکین وجود مجھے تحفظ کا احساس بخشتا۔

اگر ماضی پہ نظر ڈالی جائے تو میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ دادی کے فقیر پر اندھا اعتماد کرنے اور مجھے بد صورت بنانے میں کوئی الٰہیاتی حکمت پوشیدہ تھی۔ کیونکہ ایک قدرے مختلف اور جدا بچے کی حیثیت سے،میں نے اسکول میں جو درد برداشت کیا،میرے فنی سفر کے شروع میں جب میں نے دکھی کردار نبھائے اور ان کرداروں کے ذہنی کرب و اذیت کا اظہار اپنی اداکاری کے ذریعے کرنا پڑا تو وہ درد میرے لاشعور سے ابھر کر میرے لئے بہت مددگار ثابت ہوا۔ میری سمجھ میں ایک بات یہ آئی ہے کہ انسانی ذہن میں تجربات و مشاہدات کو محفوظ کرنے اور ضرورت پڑنے پر انہیں موقع کی مناسبت سے استعمال کرنے کی ناقابل یقین صلاحیت موجود ہوتی ہے۔

جب میں نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تب میں نے تجربات و مشاہدات کو اپنے ذہن میں محفوظ کرنے کا فن سیکھا۔ لیکن یہ فن زندگی کے اسکول میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہی تکمیل کو پہنچتا ہے۔

چھٹی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

میں کوئی بہت زیادہ پڑھاکو بچہ نہیں تھا بلکہ میں ایک متجسس طبیعت کا مالک،تیز نگاہ رکھنے والا بچہ تھا۔ ایک کم گو اور شرمیلا بچہ ہونے کی وجہ سے میں اپنی دنیا میں تنہا رہنا پسند کرتا تھا۔ میں اپنے کزنز اور دوسرے بچوں کو اکیلا چھوڑ دیتا کیونکہ میں ان کے ساتھ بے معنی و لا حاصل بحث میں الجھنا نہیں چاہتا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ میں اپنے دادا سے پوچھا کرتا تھا کہ ہمارے گھر کے پاس بہنے والی ندی مسلسل کیوں بہتی ہے اور اس کا سارا پانی کہاں سے آتا ہے اور کہاں جاتا ہے۔

میں بہت عرصہ جواب کا انتظار کرتا رہا لیکن مجھے اپنے اس سوال کا جواب کبھی نہیں ملا۔ پھر میں سمجھ گیا کہ ان کے پاس میرے اس سوال کا جواب تھا ہی نہیں۔

ایک دفعہ میں نے دادا کو آغا جی کو یہ کہتے سنا کہ میں ان سے ایسے سوال کرتا تھا جن کے جوابات دینا ان کے لئے مشکل ہوتا تھا۔ اور یہ کہ وہ چاہتے تھے کہ کاش وہ ان سوالات کے جوابات دے پاتے۔ انہوں نے بڑی خوش مزاجی سے آغا جی کو یہ بھی بتایا تھا کہ میں خاندان کے دوسرے لڑکوں کی طرح نہیں تھا جو نہ ہی غوروفکر کرتے تھے اور نہ ہی مشکل سوالات کرتے تھے۔

گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں،جب دادی پر تکلف کھانا کھانے کے بعد اپنے کمرے میں آرام فرماتیں تو میں کھلی جگہوں پر گھوم پھر کر بے انتہا خوشی محسوس کرتا۔ ان دنوں بجلی والے پنکھے نہیں ہوا کرتے تھے۔ ہاتھ سے جھلنے والے موٹے کپڑے کے بنے ہوئے پنکھے ہوا کرتے جن کے کناروں پر کپڑے کی جھالر لگی ہوتی تھی اور جن کے بارے گھر کے ملازمین کو علم ہوتا تھا کہ انہیں ان کے جوڑ والے حصے سے دیواروں سے کس قدر ہٹا کر لگانا ہے۔ جب ان کی رسی کھینچی جاتی تو پنکھے آگے پیچھے حرکت کرتے اور اس سے ہوا پیدا ہوتی۔ یہ ایک محنت طلب مشق تھی لیکن جن افراد کو یہ ذمہ داری سونپی جاتی تھی وہ بخوبی جانتے تھے کہ انہیں اسے کس طرح نبھانا تھا۔ ہمارے خاندان کے سب بچے دوپہر میں سوتے تھے کیونکہ انہیں باہر جا کر سنسان گلیوں میں گھومنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ میں ہمیشہ سونے کا ڈرامہ کرتا تھا اور جب دیکھتا تھا کہ پنکھے جھلانے والے اور کمرے میں موجود دوسرے افراد گہری نیند سو چکے ہیں تو میں چپکے سے باہر گلیوں میں نکل جاتا۔

(جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔)

مزید :

تفریح -