اسرائیلی سیٹلائٹ کو شام میں روس کی ایک ایسی چیز مل گئی کہ امریکہ کی رات کی نیندیں اڑ گئیں‎

اسرائیلی سیٹلائٹ کو شام میں روس کی ایک ایسی چیز مل گئی کہ امریکہ کی رات کی ...
اسرائیلی سیٹلائٹ کو شام میں روس کی ایک ایسی چیز مل گئی کہ امریکہ کی رات کی نیندیں اڑ گئیں‎

  

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک)روس کے بھاری ہتھیاروں کی شام میں موجودگی اب کوئی راز کی بات نہیں رہی لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس کے ایٹمی میزائل بھی شام کی سرزمین پر پہنچ چکے ہیں۔ یہ تہلکہ خیز دعوٰی ایک اسرائیلی کمپنی نے کیا ہے، جس کا کہنا ہے کہ شام کے ایک فوجی اڈے پر موجود روسی میزائل لانچروں کی تصاویر بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔

اسرائیلی کمپنی امیج سیٹ انٹرنیشنل کا کہناہے کہ اس کے سیٹلائٹ EROS B نے شام کی لتاکیہ ائیربیس پر SS-26 اسکانڈر میزائل لانچروں کی تصاویر حاصل کی ہیں۔ اسکانڈرمیزائل کا شمار وسطی رینج کے میزائلوںمیں ہوتا ہے جو ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ 400 سے 500 کلومیٹر تک مار کرسکتا ہے۔

ویب سائٹ وائی نیٹ نیوز کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے شامی صدر بشارالاسد کو اسکانڈر میزائل فراہم کرنے کا منصوبہ ایک عرصے سے زیر غور تھا لیکن اسرائیلی تشویش کی وجہ سے اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہ ہوئی تھی۔ لتاکیہ ائیربیس پر نظر آنے والے ہتھیاروں کے متعلق خیال کیا جارہا ہے کہ اسے شام میں موجود روسی افواج ہی آپریٹ کررہی ہیں اور تاحال انہیں بشارالاسد کی افواج کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔ کمپنی امیج سیٹ کا کہنا ہے کہ ان تصاویر سے اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ روس کے نیوکلیئر میزائل شام پہنچ چکے ہیں۔

اس انکشاف نے اسرائیل میں کھلبلی مچا دی ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے شدت پسند روس اور شامی حکومت کے ساتھ مل کر لڑرہے ہیں اور اس کے لئے سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ اگر روسی نیوکلیئر ہتھیار ان کے ہاتھ لگ گئے تو اسرائیل کی تباہی یقینی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -