فیس بک کی محبتیں

فیس بک کی محبتیں
فیس بک کی محبتیں

  

بچپن سے محبت اور عشق کی لازوال کہانیاں سنتے آرہے ہیں کئی تو ہمارے تعلیمی نصاب کا حصہ بھی ہیں،رنگ پور کا رانجھا جھنگ کی ہیر کے عشق میں گرفتا ر ہوا تو عرب کی لیلیٰ اپنے مجنوں پر مرمٹی،فرہاد نے شیریں کے لئے پہاڑ کا سینہ چیر دیا،چناب کی سوہنی نے مرنے کا خوف کیے بغیر کچے گھڑے پر دریا عبور کرنے کی ڈھان لی،بھنبھور کی سسی کیچ کے پنن خان کی تلاش میں صحرا میں بھٹکتی رہی ہے،یہ محبت ہی ہے مل جائے تو زندگی جنت بن جاتی ہے وگرنہ روز جینے اور روز مرنے کی کیفیت ہوتی ہے،محبت میں بے وفائی پر انسان ایسے ٹوٹ کے بکھرتا ہے کہ ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے نہ بھی ملے تو محبت کرنیوالوں کا نام دنیا میں امر ہوجاتا ہے۔

چونکہ یہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے تو محبتیں بھی حقیقی زندگی سے نکل کر اسی دنیا میں ہورہی ہیں، ایک طرف نوجوان جہاں سوشل ویب سائٹس سے شروع ہونے والی رسمی بات چیت کو محبت میں بدل رہے ہیں تو دوسری طرف پاکستانی نوجوان بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں اور اب تک ایک اندازہ کے مطابق بھارت سمیت مختلف ملکوں سے پانچ سے زائد لڑکیاں محبت کے ہاتھوں مجبور ہوکرپاکستان آچکی ہیں۔تازہ مثال فرانس سے تعلق رکھنے والی کیتھرن لووٹ کی ہے جو پاکستان کے شہر خانپور کے عمیراحمد کی محبت میں گرفتار ہوکر اس کے گھر تک پہنچ گئی ہے،دونوں فیس بک پر دوستی ہوئی،پھر یہ دوستی محبت میں تبدیل ہوئی اور اب دونوں کی شادی ہونے جارہی ہے، فرانس کے شہر ویمبرج سے تعلق رکھنے والی 55 سالہ کیتھرین نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام عائشہ رکھ لیا ہے۔

اس سے قبل ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری پاک چین دوستی بھی ”محبت“ میں بدلی تھی جب وہا ں کی ڈولی مظفر گڑھ کے علی امین کی محبت میں اپنا ملک،ماں باپ،سب کچھ چھوڑ کر آگئی تھی لیکن علی امین نے چین کی ”ڈولی“ سے بے وفائی کر کے 20 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی ناک کٹوا دی تھی،پی کے سرفراز نے تو دشمن ملک کی ”جگو“ کو دھوکہ نہیں دیا تھا، لیکن مظفر گڑھ کے ”امین“ نے تو دنیا بھر میں رسوا ہی کردیا تھا۔

شادی کے بعد کیا ارادہ ہے؟ پاکستان میں رہیں گے یا فرانس جائیں گے، شادی کے لئے پاکستان آنے والی فرانسیسی خاتون نے انتہائی حیران کن بات خود ہی بتادی

عمیر احمد اور علی امین کوئی پہلے پاکستانی نہیں جس پر کوئی غیر ملکی خاتون مرمٹی ہے بلکہ اس سے پہلے بھی کئی خواتین پاکستانی مردوں پر فدا ہوئیں اور انہوں نے ان سے شادی بھی رچائی۔ سب سے مشہور محبت کی کہانی پاکستانی ڈاکٹر حسنات اور برطانوی لیڈی ڈیانا کی ہے۔ دونوں کی محبت شادی کے بندھن تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہوگئی۔ سابق کرکٹر اور موجودہ سیاستدان عمران خان سے گولڈ اسمتھ کی بیٹی جمائما نے محبت کی۔ جمائما اسمتھ سے جمائما خان بنی، دو بچوں کوجنم دیا مگر پھر دونوں کی شادی کا بندھن نو سال بعد ٹوٹ گیا۔ بھارت کی ٹینس کوئین ثانیہ مرزا پاکستانی شعیب ملک کو دل دے بیٹھی۔ پھر ملک بھی پوری شان سے پڑوس ملک سے بیاہ لائے۔ سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے آسٹریلوی شنیرا سے شادی کی اور کامیابی سے نبھا رہے ہیں، اسی طرح اور بھی بہت ساری مثالیں ہیں۔

ڈولی سے پہلے بھی کئی ممالک کی لڑکیاں پاکستان آچکی ہیں، ان میں سے بھارتی نژاد شارجہ کی لڑکی ننگیتا بھی ہے جو انٹرنیٹ پر ملتان کے ظفر اقبال کے ساتھ محبت ہونے کے بعد سب کچھ چھوڑ کر پاکستان پہنچی تھی۔ ننگیتا محبت کی خاطر 10 ہزار درہم کے عوض جعلی پاسپورٹ کے ساتھ پاکستان آئی لیکن لاہور امیگریشن میں پکڑی گئی جسے شارجہ ڈی پورٹ کردیا گیا اور یوں اس کی محبت نے بھی ملاپ نہیں دیکھا۔جنوبی افریقی عیسائی لڑکی زاہرہ ونزل بھی فیس بک پر محبت ہوجانے کے بعد حافظ آباد کے نعمان افضل کے پاس چلی آئی تھی۔ محبت کی خاطر اپنا مذہب تبدیل کرکے پاکستانی روایات کے مطابق شادی کی۔ امریکی تحقیقاتی ادارے پیو ریسرچ کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کے نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد انٹرنیٹ، سوشل ویب سائٹس، موبائل فونز اور دیگر ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے رومانوی تعلقات استوار کرتے ہیں۔ امریکہ بھر کے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والے 35 فیصد نوجوان رومانوی تعلقات میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ86 فیصد نوجوان اسکول اور تعلیمی ادارے کے اوقات میں محبت کر بیٹھتے ہیں۔ سماجی رویوں، نوجوانوں اور بدلتے وقت کے رواجوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق دنیا بھر کے نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد اپنے تعلیمی اداروں میں بھی رومانوی تعلقات میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ نوجوان نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے سمیت اپنے رومانوی تعلقات پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ دنیا بھر میں جہاں تعلیمی میدانوں میں انقلاب آیا ہے وہیں تعلیمی اداروں میں فطری محبت بھی پروان چڑھی ہے۔

محبت چاہے کسی ملک کی خاتون یا مرد سے ہو یہ پاکیزا ہونی چاہیے کیونکہ محبت کی کوئی سرحد نہیں،کوئی زبان نہیں،یہ نسل اور مذہب سے بھی پاک ہے،یہ تو فطری جذبہ ہے جو کسی سے بھی ہوسکتی ہے،دنیا میں محبت پروان چڑھنی چاہیے نہ کہ نفرت۔

فیس بک پر دوستی کے بعد شادی کے لئے پاکستان آنے والی فرانسیسی خاتون ہونے والے شوہر کو کس نام سے پکارتی ہے؟ جان کر آپ کی بھی ہنسی نکل جائے گی

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -