’’ اگر امریکہ نے یہ حرکت کی تو ہم سے برا کوئی نہ ہوگا‘‘ اہم عرب ملک نے امریکہ کو بڑی دھمکی دے دی

’’ اگر امریکہ نے یہ حرکت کی تو ہم سے برا کوئی نہ ہوگا‘‘ اہم عرب ملک نے ...
 ’’ اگر امریکہ نے یہ حرکت کی تو ہم سے برا کوئی نہ ہوگا‘‘ اہم عرب ملک نے امریکہ کو بڑی دھمکی دے دی

  

عمان (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کے دوران بہت سے دعوے کئے، جن میں ایک اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا وعدہ بھی تھا۔ اب وہ صدر منتخب ہو چکے ہیں اور خدشہ ہے کہ اپنا وعدہ پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس حرکت کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ اردن کی جانب سے جاری کئے گئے ایک دبنگ بیان سے خوب اچھی طرح کیا جا سکتا ہے۔

’ میں نے چھ سال کی عمر میں ہی لڑکوں سے چھیڑ چھاڑ شروع کردی تھی‘‎‎

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق اردن کے وزیراطلاعات محمد مومنی نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر امریکی صدر نے الیکشن مہم کے دوران کئے گئے وعدے کے مطابق امریکی سفارتخانے کو یروشلم کے متنازعہ علاقے میں منتقل کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سفارتخانے کی منتقلی وہ سرخ لکیر ہے کہ جسے عبور کیا گیا تو عرب ممالک کی گلیوں میں آگ بھڑک اٹھے گی۔ بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ اردن اس قسم کے کسی بھی اقدام کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گا۔

عدم استحکام سے دوچار مشرق وسطیٰ میں اردن کو امریکہ کا اہم اتحادی قرار دیا جاتا ہے اور داعش کے خلاف جنگ میں بھی اس کا کردار اہم ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سفارتخانے کی منتقلی کے بارے میں کئے گئے اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے 100 بار سوچنا پڑے گا۔

اردن اس تنازعے کا براہ راست فریق ہے کیونکہ 1967ءمیں اسرائیل نے یروشلم کا علاقہ اردن سے ہی چھین کر اپنے دارالحکومت کا حصہ بنادیا تھا۔ فلسطینی قوم کی دیرینہ آرزو ہے کہ آزاد فلسطینی ریات کا دارالحکومت یروشلم ہو لیکن اسرائیل اس پر ناجائز قبضہ کئے ہوئے ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک نے یروشلم پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے مشرقی یروشلم میں منتقل کرنے کا وعدہ کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ اس قبضے کو جائز قرار دلوائے گا۔.

مزید :

بین الاقوامی -