جینے کے تصور

جینے کے تصور
 جینے کے تصور

  


دنیا میں جینے کے دو تصور ہیں۔ اپنے لئے جینایا سب کے لئے جینا۔ ایک میں یعنی اپنی ذات سے تعلق رکھو۔ کوئی دوسرا، چاہے وہ آپ کی کوئی عزیز تریں ہستی کیوں نہ ہو اس کے معاملات سے کوئی سروکار نہ رکھو۔کوئی جےئے ، کوئی مرے۔

کوئی کسی مشکل میں ہو، آپ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیں۔دوسرا تصور ’’ہم‘‘ کا ہے۔آپ اپنے حلقہ احباب میں اس طرح رہتے ہیں کہ سب ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں، اس میں شریک ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ یہ دوسرا تصور وہ ہے جو آپ کو روحانی مسرت سے روشناس کرتا ہے ۔

وہ تصور جس کے نتیجے میں خوشی آپ کے اندر سے پھوٹتی ہے۔ اسلام ،جو دین فطرت ہے، بھی اس بات کا متقاضی ہے ۔ نماز ،روزہ ، زکوۃ، یہ سبھی چیزیں رب العزت نے انسان کو اپنے لئے نہیں،بلکہ انسانوں کو ایک دوسرے سے قریب ہونے اور ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں کو محسوس کرنے کے حوالے سے لازم قرار دی ہیں۔۔۔ہم روز بچوں کی چھوٹی چھوٹی کہانیاں پڑھتے اور سنتے ہیں جو ہمیں خوبصورت زندگی کا پیغام دیتی ہیں ۔ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کا درس دیتی ہیں۔کسی سکول کے بچوں میں بھاگنے کا مقابلہ ہو رہا تھا۔ دوڑ شروع ہوئی تو ایک بچی گر پڑی، سب بچیاں رک گئیں۔

انہوں نے اپنی ساتھی کو اٹھایا اور پھر ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ساتھ ساتھ بھاگنے لگیں اور سبھی ایک ہی وقت میں منزل تک پہنچیں۔ انہوں نے کہا ہم سب فسٹ ہیں۔ ہم میں کوئی نہیں ہارا۔ ہم سب جیت گئی ہیں۔ انعام بھی سب کا مشترکہ ہوگا۔

یہ سب انہوں نے اس لئے کیا کہ ان کی گرنے والی ساتھی کو گرنے کی وجہ سے کوئی برا احساس نہ ہو۔وہ یہ نہ سمجھے کہ اپنی جیت کی خاطر سب نے اسے چھوڑ دیا۔اس جذبے کو پالنے والے لوگ بھلے لوگ ہوتے ہیں اور دنیا میں بھلے لوگ ہمیشہ رہے ہیں اور رہیں گے

دنیا شاید انہی بھلے لوگوں کے دم سے خوشیوں کا مسکن ہے۔

ایک بچی جو گذشتہ تین چار سال سے دبئی میں مقیم ہے ،مجھے ملنے آئی۔پرانی شاگرد ہونے کے ناطے میرا اس کا پیار کا رشتہ ہے، احترام کا ناطہ ہے۔ باپ بیٹی کی طرح انمول پیار ہے۔

اس کی موجودہ صورت حال میرے لئے انتہائی خوشی کا باعث تھی۔ دبئی میں وہ اپنے میاں کے ساتھ ایک اچھی اور خوشگوار زندگی گزار رہی ہے۔اس کی داستان بڑی عجیب ہے۔اس کا باپ ایک بھلا آدمی تھااور بھلے لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا تھا۔

اس کے دوست بھی بہت بھلے تھے۔ سب نے خوشی غمی میں ساتھ دینے کا عہد کیا ہوا تھا۔وہ کسی مشکل میں ایک دوسرے کا بوجھ بانٹنا جانتے تھے۔ اس کا باپ ایک بینک میں ملازم تھا۔

وہ سب سے بڑی تھی اور دودو سال کے فرق سے دو چھوٹے بھائی تھے۔ زندگی ٹھیک گزر رہی تھی۔ جب بچی کی عمر پانچ سال تھی، اچانک ایک دن صبح اس کے والد کا بینک جاتے راستے میں ایکسیڈنٹ ہوگیااور وہ انتقال کر گئے۔ رونے پیٹنے میں دو تین مہینے گزر گئے۔ماں اور تین بچے نانا نانی کے گھر آ گئے۔

یہاں نانا نانی کو اپنی جوان بیوہ بیٹی کی فکر ہوئی۔ عدت پوری ہونے والی تھی ۔ اب بیٹی پہاڑ جیسی زندگی کیسے گزارے گی۔تین بچے جن کے اخراجات بھی نانا اور نانی کے لئے بوجھ تھے ،اس لئے کہ وہ بھی کوئی بہت خوشحال نہیں تھے،بس گزارا ہو رہا تھا۔

پہلے داماد کا غم اپنی جگہ، مگر آئندہ کا فکر بھی ضروری تھا، اس لئے اب وہ ایسا رشتہ ڈھونڈنے لگے جو ان کی بیٹی اور اس کے تین بچوں کا بوجھ اٹھا سکے۔

مرنے والے شخص کے دوستوں کا بڑاحلقہ تھا۔ دوست بھی وہ جوبہت بھلے تھے جو ایک دوسرے پرجان دیتے اورہر دکھ درد کو سانجھا سمجھتے تھے۔ مرحوم کی بیوی اور بچوں کی اس وقت کی صورت حال پر دوستوں کی گہری نظر تھی اور وہ بھی سوچ بچار میں تھے کہ بچوں اور بیوہ کی کیا مدد کی جائے؟ انہیں اپنے دوست سے بے پناہ محبت تھی اور وہ بچوں کی کفالت کا کوئی مستقل انتظام چاہتے تھے۔بیوہ کے لئے نئے رشتے کی تلاش کی خبر ان تک پہنچی تو وہ سارے مل کر اس کے والدین کے گھر پہنچے اور ایک پیشکش کی۔

بیوہ کے والدین سے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی جوان بچی کی شادی ضرور کریں، اس لئے کہ یہ اب حالات کاتقاضا ہے، مگر بچے ماں کے ساتھ نہیں جائیں گے۔

اس کے بعد انہوں نے بچوں کے تمام چچاؤں اور خالاؤں سے بڑی تفصیل سے بات کی اور اپنی مرضی سے تین مختلف لوگوں کو تینوں بچے سپرد کر دئیے۔ان بچوں کے کھانے پینے اور تعلیم سمیت ہر طرح کے اخراجات ان دوستوں نے اپنے ذمہ لے لئے تھے۔

چھٹیوں میں ان بچوں کے نانا نانی کے گھر اکٹھے ہونے، وہاں رہنے اور ٹرانسپورٹ سمیت سبھی انہوں نے اپنے ذمے لیا ہوا تھا۔ وہ بچوں کو کچھ عرصے بعد ملنے بھی آتے، ان کے لئے کھلونے اور تحفے بھی لاتے ۔ان سے کھل کر ہر بات کرتے۔ہر طرح سے مدد کرتے۔ کفالت کے اس دور میں انہوں نے بچوں کو کوئی تکلیف نہ ہونے دی۔

وہ بچی جو سب سے بڑی بہن تھی اپنی خالہ کے حصے میں آئی۔ خالہ چونکہ لاہور میں مقیم تھی، اس لئے وہ بھی لاہور آ گئی۔ اس کے بھائی آبائی شہر میں دو مختلف چچاؤں کے پاس مقیم تھے، مگر ایک دو مہینے بعد ان کی ملاقات ہو جاتی۔چھٹیوں کا لمبا عرصہ وہ نانا نانی کے پاس مل کر گزارتے۔ ان کی ماں بھی وہیں آ کر ان سے مل جاتی ۔ یوں اکٹھے بہت اچھا وقت گزر جاتا۔

وہ بچی میرے پاس بی ایس سی کی طالبعلم تھی۔ بی ایس سی کرنے کے بعد اس نے ایم ایس سی میں داخلہ لیا ،مگر اسی دوران اس کے باپ کے ان دوستوں میں سے ایک نے اس کا رشتہ اپنے بیٹے سے کر دیا اور چند دن بعد وہ بیاہ کر اپنے سسرال اور پھر میاں کے ہمراہ دبئی چلی گئی۔

آج وہ بہت خوش ہے۔ اس کے بھائی بھی مختلف معیاری اداروں میں بہترین تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ میں سلام پیش کرتا ہوں ان بھلے دوستوں کو، جن کی اپنائیت کے سبب تین یتیم بچے آج دنیا میں فخر سے جینے کے قابل ہو گئے ہیں۔ کہتے ہیں آپ نیکی کریں، بدی کریں، اچھائی کریں یابرائی کریں،ان سب چیزوں کی جزا یا سزا آپ کے تعاقب میں ہوتی ہے ، خدائے بزرگ و برتر اس کا اجر ضرور دیتا ہے۔۔۔ہماری قوم کا بربادی کا سفر، جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ،اس کا بنیادی سبب بھی یہی ہے کہ پوری قوم نے ’’مَیں‘‘ کے سوا سوچا ہی نہیں۔

ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے۔ ہر شخص اپنی ذات سے ہٹ کر کسی دوسرے کے بارے سوچنے کو تیار ہی نہیں۔لوگ فقط اپنے بارے ہی سوچتے ہیں۔ اگر ہمارے درمیان ’’ہم‘‘ کا تصور غالب آ جائے۔ ہم دوسروں کے بارے سوچنا شروع کر دیں ۔

ان کے دکھ درد کو محسوس کرنے لگیں۔ اقبال نے کہا ہے کہ ’’فرد قائم ربط ملت سے ہے ، تنہا کچھ نہیں‘‘۔۔۔ ہم جان جائیں کہ سب کے دکھ درد سانجھے ہیں۔ ہم اپنی ذات سے ہٹ کر اجتماعی سوچ کو فروغ دیں تو ہم ایک قوم بن سکتے ہیں۔

ہماری تھوڑی سی کوشش، تعصبات کے خاتمے ، بھائی چارے کے فروغ اور ملک دشمنوں کی حوصلہ شکنی کا باعث ہو گی جو ایک خوش آئند مستقل کی ضمانت ہو گی۔

مزید : رائے /کالم